Monday, 23 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Faqr, Ilm Ki Qandeel Se Roshan Raah

Faqr, Ilm Ki Qandeel Se Roshan Raah

فقر، علم کی قندیل سے روشن راہ

علامہ محمد اقبال کا یہ شعر بظاہر مختصر ہے، مگر اپنے اندر فکر و معنی کا ایک بحرِ بیکراں سمیٹے ہوئے ہے۔

علم فقیہ و حکیم، فقر مسیح و کلیم

علم ہے جویائے راہ، فقر ہے دانائے راہ

اقبال یہاں علم اور فقر کو آمنے سامنے رکھ کر کسی سادہ تقابل کی بات نہیں کرتے، بلکہ انسانی تاریخ کے دو بڑے رویّوں، دو طرزِ فکر اور دو زاویۂ حیات کو ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ فقیہ اور حکیم علم کے نمائندہ ہیں، دلیل، منطق، کتاب اور مدرسے کے امین، جبکہ مسیح اور کلیم فقر کے استعارے ہیں، وہ فقر جو ناداری نہیں بلکہ استغنا ہے، وہ فقر جو سوال نہیں بلکہ جواب ہے، وہ فقر جو تلاش نہیں بلکہ پہچان ہے۔ اقبال کے نزدیک علم راستے کی تلاش میں ہے اور فقر خود راستے کو جانتا ہے۔ یہ فرق محض الفاظ کا نہیں، پورے انسانی شعور کا فرق ہے۔

علم، اپنی تمام تر عظمت کے باوجود، سوال سے جنم لیتا ہے۔ وہ کیوں، کیسے اور کب کے گرد گھومتا ہے۔ وہ کائنات کو پرکھتا ہے، چیزوں کو ناپتا ہے، قوانین اخذ کرتا ہے اور نتائج مرتب کرتا ہے۔ فقیہ شریعت کی باریکیوں میں اترتا ہے، حکیم فلسفے کی گتھیاں سلجھاتا ہے، سائنس دان مادّے کے اسرار کھولتا ہے۔ یہ سب علم کے دائرے میں آتا ہے اور اقبال علم کے منکر نہیں۔ وہ خود علم کے سب سے بڑے داعی ہیں۔ مگر وہ ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ علم کی ایک حد ہے۔ علم راستہ دکھا سکتا ہے، مگر منزل کا ذوق نہیں دے سکتا۔ وہ نقشہ بنا سکتا ہے، مگر سفر کی تپش نہیں سکھا سکتا۔ علم عقل کو جِلا دیتا ہے، مگر دل کو وہ حرارت نہیں بخشتا جو انسان کو بدل دے۔

اس کے مقابل فقر ہے۔ اقبال کا فقر خانقاہی جمود، دنیا سے فرار یا مفلسی کا نام نہیں۔ یہ وہ فقر ہے جو مسیحؑ کے دامن میں نظر آتا ہے، جو کلیمؑ کے عصا میں بولتا ہے، جو محمد ﷺ کی سیرت میں جلوہ گر ہے۔ یہ فقر خودی کی نفی نہیں بلکہ خودی کی معراج ہے۔ فقر وہ کیفیت ہے جس میں انسان کسی کے سامنے جھکتا نہیں سوائے حق کے اور کسی سے ڈرتا نہیں سوائے اپنے ضمیر کے۔ فقر انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ محض سیکھنے والا نہیں، ذمہ دار بھی ہے، وہ محض دیکھنے والا نہیں، بدلنے والا بھی ہے۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ فقر دانائے راہ ہے۔ اسے راستے کی خبر نہیں، راستہ خود اس سے خبر لیتا ہے۔

مسیحؑ اور کلیمؑ کا حوالہ یہاں محض مذہبی تقدیس کے لیے نہیں، بلکہ فکری علامت کے طور پر ہے۔ مسیحؑ کے پاس اقتدار نہیں تھا، مگر اثر تھا۔ کلیمؑ کے پاس لشکر نہیں تھا، مگر فرعون کے ایوان ہل گئے۔ یہ فقر کی طاقت ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو علم کی محتاج نہیں، بلکہ علم کو سمت دیتی ہے۔ علم اگر فقر کے بغیر ہو تو وہ مکّار بھی ہو سکتا ہے، ظالم بھی اور استحصالی بھی۔ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ علم نے ایٹم بم بھی بنایا، نوآبادیاتی نظام بھی کھڑا کیا اور انسان کو انسان کے خلاف ہتھیار بھی تھمائے۔ مسئلہ علم نہیں، مسئلہ علم کا رخ ہے اور یہ رخ فقر متعین کرتا ہے۔

آج کا انسان شاید پہلے سے زیادہ عالم ہے، مگر پہلے سے زیادہ بھٹکا ہوا بھی ہے۔ معلومات کا سیلاب ہے، ڈگریوں کی قطار ہے، مگر مقصد کی کمی ہے۔ ہر شخص راہ پوچھ رہا ہے، مگر راہ دکھانے والا کم ہے۔ اقبال اسی لیے کہتے ہیں کہ علم جویائے راہ ہے، وہ سوال پر سوال کرتا ہے، سرچ انجن کی طرح، مگر فقر دانائے راہ ہے، وہ جانتا ہے کہ جانا کہاں ہے۔ فقر انسان کو مرکز عطا کرتا ہے، ایک اخلاقی قطب، ایک روحانی سمت۔ جب یہ سمت مل جائے تو علم نعمت بن جاتا ہے، ورنہ بوجھ۔

اقبال کا پیغام دراصل امتِ مسلمہ ہی نہیں، پوری انسانیت کے لیے ہے۔ وہ ہمیں یہ نہیں کہتے کہ کتابیں بند کر دو، مدرسے و یونیورسٹیاں گرا دو۔ وہ کہتے ہیں کہ علم کے ساتھ فقر کو جوڑو، عقل کے ساتھ دل کو بیدار کرو اور معلومات کے ساتھ بصیرت پیدا کرو۔ ایک ایسا عالم پیدا کرو جو صرف مسئلہ حل نہ کرے بلکہ انسان بھی سنوارے، ایک ایسا فقیہ جو قانون کے ساتھ رحمت کو سمجھے، ایک ایسا حکیم جو منطق کے ساتھ اخلاق کو بھی لازم جانے۔ جب علم فقر کے چراغ سے روشن ہو جاتا ہے تو وہ محض راستہ ڈھونڈنے والا نہیں رہتا، بلکہ خود چراغِ راہ بن جاتا ہے۔

آخر میں اقبال کا یہ شعر ہمیں ایک خاموش سوال دے جاتا ہے: ہم علم کے مسافر ہیں یا فقر کے امین؟ ہم راہ پوچھنے والوں میں ہیں یا راہ دکھانے والوں میں؟ شاید اصل دانش یہی ہے کہ ہم علم حاصل کریں، مگر فقر کے ادب کے ساتھ، ہم سیکھیں، مگر جھکنے کے ہنر کے ساتھ اور ہم آگے بڑھیں، مگر اس یقین کے ساتھ کہ اصل راہ وہی ہے جو دل کو خدا سے جوڑ دے اور انسان کو انسان کے قریب لے آئے۔ یہی وہ فقر ہے جو دانائے راہ ہے اور یہی وہ علم ہے جو آخرکار ہدایت بن جاتا ہے۔

علم اگر چراغ ہے تو فقر اس کی لو ہے، جو ہوا کے تیز جھونکوں میں بھی بجھتی نہیں ہے۔ اقبال ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اصل سوال زیادہ جاننے کا نہیں، بلکہ درست سمت میں جاننے کا ہے۔ جب علم، فقر کے وقار سے جڑ جاتا ہے تو وہ محض ذہن کو نہیں، انسان کے باطن کو روشن کرتا ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو راستہ بھی دکھاتی ہے اور مسافر کو بھی بدل دیتی ہے۔

علم نے نقشے بنائے، فقر نے رستہ دکھایا
ڈھونڈنے والا رہا میں، اس نے منزل کو پایا

لفظ سمجھے تھے سبھی، راز مگر وہی جانا
جس نے دل کو جھکایا، جس نے سر کو نہ جھکایا

کتب و دفتر سے نکلا تو یہ معنی کھلے
راہ خود بول اٹھی، جب فقر ساتھ آیا

اقبال کی صدا اب بھی یہی کہتی ہے
علم ہو ہاتھ میں، دل میں ہو درویش کا سایہ

Check Also

Hamari Tarjeehat Sirf Protocol Ya Maeeshat

By Malik Zafar Iqbal