Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Charwahon Se Rehnumaon Tak

Charwahon Se Rehnumaon Tak

چرواہوں سے رہنماؤں تک

زندگی کے بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان فوری طور پر کوئی بڑی امید قائم نہیں کر پاتا۔ ایک نوجوان صحرا کی تپتی دھوپ میں بکریاں چرا رہا ہو، گرد و غبار اس کے کپڑوں پر جم رہا ہو، ہاتھوں میں لاٹھی ہو، چہرے پر تھکن کے آثار ہوں اور اس کے گرد کوئی ایسی علامت موجود نہ ہو جو یہ بتائے کہ آنے والا زمانہ اسے تاریخ کا عظیم ترین انسان قرار دے گا۔ لیکن قدرت کے فیصلے انسانوں کے اندازوں سے ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے موجودہ حالات سے نہیں بلکہ ان کی صلاحیت، اخلاص، صبر اور نیت سے دیکھتا ہے۔

حضرت موسیٰؑ نے ایک طویل عرصہ بکریاں چرائیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا کام تھا، لیکن اسی صحرا، اسی تنہائی، اسی خاموشی اور اسی جدوجہد نے ایک ایسے انسان کی تربیت کی جسے بعد میں کلیم اللہ کا عظیم مرتبہ عطا ہوا۔ کوہِ طور کی وہ ساعت، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ سے کلام فرمایا، انسانی تاریخ کے عظیم ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ مگر اگر کوئی شخص اس وقت حضرت موسیٰؑ کو مدین کے صحرا میں بکریاں چراتے ہوئے دیکھتا تو شاید اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوتا کہ یہی شخص آنے والے دنوں میں فرعون جیسے جابر بادشاہ کے سامنے حق کا پرچم بلند کرے گا۔

یہی حقیقت حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زندگی میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی جوانی کے ایک حصے میں قریش کے لوگوں کی بکریاں چرائیں۔ معمولی اجرت پر کام کرنا، سخت دھوپ میں محنت کرنا اور سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اس دور میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، لیکن یہ کون جانتا تھا کہ یہی نوجوان ایک دن رحمت للعالمین بن کر پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا چراغ روشن کرے گا؟

عرب کے وہ لوگ جو کبھی آپ ﷺ کو ایک یتیم نوجوان کے طور پر دیکھتے تھے، بعد میں اسی عظیم انسان کے قدموں میں دنیا کی سب سے بڑی روحانی قیادت کا اعتراف کرتے نظر آئے۔ یہ محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ امید، محنت اور حسنِ ظن کا ابدی پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے راستوں سے عظمت عطا کرتا ہے جن کا تصور بھی انسانی عقل نہیں کر سکتی۔ انسان اپنی موجودہ محرومیوں، ناکامیوں اور چھوٹے حالات کو اپنی قسمت کا آخری فیصلہ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ابھی پردۂ غیب میں ہوتے ہیں۔

آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ جلد مایوس ہو جاتا ہے۔ چند ناکامیاں، کچھ مالی مشکلات، لوگوں کی بے اعتنائی، یا وقت کی سختیاں اسے یہ یقین دلانے لگتی ہیں کہ شاید اس کی زندگی میں اب کوئی خوبصورت صبح باقی نہیں رہی۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ زندگی کا حسن یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اندھیری رات کے بعد نئی صبح پیدا کرتا ہے۔ جو انسان آج خود کو بے حیثیت سمجھ رہا ہوتا ہے، ممکن ہے کل وہ ہزاروں لوگوں کے لیے روشنی کا سبب بن جائے۔ جو نوجوان آج ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر خواب دیکھ رہا ہے، کل وہ اپنے عزم اور محنت سے دنیا بدلنے والوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان اپنے اندر امید کو زندہ رکھے۔ مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے جبکہ امید مومن کی طاقت۔ قرآن مجید بار بار انسان کو یہی درس دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کیونکہ ناامیدی دراصل اللہ کی قدرت پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ جو رب ایک چرواہے کو کلیم اللہ بنا سکتا ہے، جو ایک یتیم نوجوان کو خاتم النبیین بنا سکتا ہے، وہ تمہاری زندگی کو بھی بدلنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

زندگی کی جدوجہد کبھی ضائع نہیں جاتی۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چھوٹے کام کرنا یا خاموشی سے محنت کرتے رہنا بے فائدہ ہے، لیکن حقیقت میں یہی معمولی دن انسان کی اصل تربیت کرتے ہیں۔ صحرا میں بکریاں چرانا صرف روزگار نہیں تھا بلکہ صبر، تحمل، تنہائی، ذمہ داری اور قیادت کی تربیت تھی۔ جو شخص بکھرے ہوئے جانوروں کو سنبھال سکتا ہے، وہ انسانوں کی قیادت بھی کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام نے بکریاں چرائیں۔ اس کام نے ان کے اندر وہ اوصاف پیدا کیے جو بعد میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے ضروری تھے۔ آج کا انسان صرف نتیجہ دیکھتا ہے، جدوجہد نہیں دیکھتا۔ وہ عظمت کو تو پسند کرتا ہے مگر اس عظمت کے پیچھے موجود خاموش قربانیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ حالانکہ ہر کامیابی کے پیچھے ایک لمبا صبر، مسلسل محنت اور بے شمار آزمائشیں ہوتی ہیں۔ اگر انسان اپنے ابتدائی دنوں کی سختیوں سے گھبرا جائے تو وہ کبھی اپنی اصل منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو ہمیشہ اس کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اس کی ضرورت کے مطابق تیار کرتا ہے۔ کبھی وہ انسان کو تنہائی دیتا ہے تاکہ وہ خود کو پہچان سکے، کبھی مشکلات دیتا ہے تاکہ اس کے اندر طاقت پیدا ہو، کبھی تاخیر دیتا ہے تاکہ اس کے صبر کو نکھار سکے اور کبھی محرومیاں دیتا ہے تاکہ وہ تکبر سے محفوظ رہے۔ دنیا کے اکثر بڑے انسان اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں گمنامی، غربت یا مشکلات سے گزرے ہیں۔ لیکن انھوں نے حالات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ وہ مسلسل محنت کرتے رہے اور اللہ کے بارے میں حسنِ ظن قائم رکھا۔ حسنِ ظن محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ میرا رب میرے لیے بہتر فیصلے کرے گا، تو پھر وہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی شمع روشن رکھتا ہے۔ یہی یقین انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔ یہی یقین اسے بار بار اٹھنے کا حوصلہ دیتا ہے اور یہی یقین آخرکار اسے ایسی منزلوں تک پہنچا دیتا ہے جہاں پہنچنے کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

آج اگر کوئی نوجوان اپنی زندگی سے پریشان ہے، اگر کسی شخص کو لگتا ہے کہ اس کی محنت رائیگاں جا رہی ہے، اگر کوئی انسان اپنے حالات کی وجہ سے خود کو کمتر سمجھنے لگا ہے، تو اسے ان عظیم ہستیوں کی زندگی پر غور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کے لیے بڑا مقام لکھ دیتا ہے تو پھر راستے کی مشکلات اس کے مقدر کو نہیں روک سکتیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان ہمت نہ ہارے۔ اپنے خوابوں کو زندہ رکھے۔ اپنی نیت کو پاک رکھے۔ اپنی محنت کو جاری رکھے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن قائم رکھے۔ کیونکہ زندگی کے اصل خوبصورت ایام اکثر اُس وقت آتے ہیں جب انسان سمجھنے لگتا ہے کہ شاید اب کچھ باقی نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اچانک نوازتا ہے، ایسے راستوں سے نوازتا ہے جن کا انسان نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ اس لیے آج کی تھکن، آج کی ناکامی، آج کی بے نامی اور آج کی جدوجہد کو اپنی قسمت کا آخری باب مت سمجھو۔ ممکن ہے تمہاری کہانی کا سب سے خوبصورت باب ابھی لکھا جانا باقی ہو۔

Check Also

Mushkil Waqt Mein Kya Karen?

By Mohsin Khalid Mohsin