Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Durrani
  4. Qarzon Pe Khari Maeeshat

Qarzon Pe Khari Maeeshat

قرضوں پر کھڑی معیشت

فرض کریں ایک شخص ہر مہینے تنخواہ ملتے ہی سب سے پہلے پرانے قرض کی قسط ادا کرتا ہے۔ اس کے بعد بجلی، گیس اور بچوں کی فیس کا نمبر آتا ہے۔ مہینے کے آخر میں جب جیب خالی ہو جاتی ہے تو وہ پھر کسی دوست سے ادھار لے لیتا ہے، یہ سوچ کر کہ اگلی تنخواہ پر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگلی تنخواہ بھی اسی چکر میں گزر جاتی ہے۔ کچھ عرصے بعد قرض زندگی کا حصہ نہیں، زندگی قرض کا حصہ بن جاتی ہے۔

آج پاکستان کی معیشت اسی کردار میں کھڑی دکھائی دیتی ہے، بس فرق یہ ہے کہ یہاں رقم کروڑوں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ اربوں میں لکھی جاتی ہے۔ اگر اس کہانی کو کسی مستند ذریعے کی زبان میں سمجھنا ہو تو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کافی ہیں۔ انہی کے مطابق 2023ء میں ملک کا مجموعی قرض تقریباً 65 ہزار 195 ارب روپے تھا۔ اگلے سال 2024ء میں یہ رقم بڑھ کر 70 ہزار 365 ارب روپے ہوگئی اور 2025ء میں قرض کا حجم مزید پھیل کر 77 ہزار 543 ارب روپے تک جا پہنچا۔ یعنی صرف ایک برس میں قریب 10 فیصد اضافہ۔ یہ وہ نمبرز ہیں جو فائلوں میں خاموشی سے درج ہو جاتے ہیں، مگر ان کی آواز بازار، تنخواہ دار طبقے اور عام شہری کی زندگی میں صاف سنائی دیتی ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے قرض کو، جسے خود بار بار ناسازگار اور نقصان دہ قرار دیتی ہے، اپنا سب سے وفادار اور لازمی ساتھی بنا لیا ہے۔ جب بھی ملکی آمدن کم پڑتی ہے، فوراً اسی کے دروازے پر دستک دی جاتی ہے، گویا یہی واحد جادوئی حل ہے۔ ملک کی معیشت ہر بحران کے بعد دوبارہ قرض کے سہانے بوجھ تلے دب جاتی ہے اور عوام کو صرف اعداد و شمار اور وعدوں کی خوشبو دی جاتی ہے۔ مسئلہ قرض لینے کا نہیں مسئلہ اس پر چلنے کا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک قرض لیتے ہیں کوئی بھی آزاد ملک ایسا نہیں ہے جو مکمل طور پر قرض سے پاک ہو۔

جدید اقتصادی نظاموں میں قومی قرض رکھنا معمول سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک مالیاتی مارکیٹ میں مضبوط ہوتے ہیں اور عام طور پر بڑے قرضے آسانی سے لے سکتے ہیں۔ مگر وہ قرض پیداوار بڑھانے، برآمدات میں اضافے اور معیشت کو مضبوط بنانے پر خرچ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ یہاں قرض کا بڑا حصہ پرانے قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں کھپ جاتا ہے۔ گویا ماہرین آگ بجھانے کے لیے مزید تیل ڈال رہے ہوں کہ آگ فوراً بھڑکتی نہیں، آہستہ آہستہ اندر ہی اندر سب کچھ جلاتی رہتی ہے۔

ایک عام قاری شاید یہ سوال کرے کہ آخر حکومت کے پاس اور کیا راستہ ہے؟ سوال بجا ہے مگر جواب۔۔ ریاست کی آمدن اس کے اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ ٹیکسوں سے جو رقم اکٹھی ہوتی ہے، وہ ملک چلانے کے لیے پوری نہیں پڑتی۔ وجہ یہ نہیں کہ عوام غریب ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ٹیکس نظام کمزور، غیر منصفانہ اور اعتماد سے خالی ہے۔ ایک طرف تنخواہ دار طبقہ ہے جس کی آمدن سے ٹیکس کٹنے سے پہلے اسے پوچھا بھی نہیں جاتا اور دوسری طرف ایسے شعبے اور طبقات ہیں جو برسوں سے ٹیکس نیٹ سے باہر مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

عجیب بات ہے لوگ ٹیکس نہ دینے پر شکوہ کرتے ہیں اور چوری کو مجبوری کہتے ہیں۔ جب ریاست خود تولنے سے ڈرتی ہے، شکایت کس بات کی؟ آخرکار وسائل کم، بہانے زیادہ اور ہر بجٹ کے بعد قرض کی لائن لمبی۔۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہم نے بارہا یہ منظر دیکھا کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے فوری فیصلے کیے گئے۔ کبھی سخت ٹیکس، کبھی درآمدات پر پابندی، کبھی کسی عالمی ادارے سے ہنگامی پیکیج۔ کچھ مہینے سکون آ جاتا ہے، خبریں مثبت لگنے لگتی ہیں، مگر تھوڑے عرصے بعد وہی سوال، وہی بحران۔۔

مسلے کی جڑ یہ ہیں کہ ہماری معیشت زیادہ تر کھپت پر چل رہی ہے پیداوار پر نہیں۔ صنعت اور زراعت وہ شعبے ہیں جنہیں کسی بھی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یہی ریڑھ کی ہڈی کمزور دکھائی دیتی ہے۔ صنعتکار غیر یقینی پالیسیوں مہنگی توانائی اور پیچیدہ قوانین سے گھبرا کر سرمایہ روک لیتا ہے۔ کسان مہنگی کھاد پانی کے مسائل اور مناسب قیمت نہ ملنے پر دل برداشتہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ کم پیداوار برآمدات محدود اور درآمدات زیادہ ہو جاتی ہیں۔

جب برآمدات کم ہوں اور درآمدات زیادہ تو زرِمبادلہ کا دباؤ بڑھتا ہے۔ پھر ایک بار پھر وہی پرانا نسخہ سامنے آتا ہے قرض۔ یوں معیشت ایک ایسے دائرے میں گھومتی رہتی ہے جہاں ہر موڑ پر قرض ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ ہم اسے وقتی سہارا سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ مستقل بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ حکومتی اخراجات پر بات کیے بغیر یہ تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ کفایت شعاری کے بیانات اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ کفایت شعاری کی سرخیاں چھاپ کر حکومتی اخراجات پر چپ سادھ لینا صحافت نہیں کھلی ملی بھگت ہے۔ مگر عملی طور پر ریاستی اخراجات میں وہ سنجیدگی نظر نہیں آتی جو حالات کا تقاضا ہے۔

غیر ضروری مراعات، انتظامی فضول خرچیاں اور ایسے منصوبے جن کا معاشی فائدہ محدود ہو قومی خزانے کو خاموشی سے کھوکھلا کرتے رہتے ہیں۔ پھر جب پیسہ کم پڑتا ہے تو عوام کو قربانی کا درس دیا جاتا ہے۔ ریاست خود سادگی اختیار کرے بغیر عوام سے قربانی مانگتی ہے قرض کم کرنے کے دعوے کرتے ہوئے ہر سال قرض میں اضافہ کر لیتی ہے۔ سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار اس تضاد کی گواہی دے رہے ہیں، مگر ہم اسے وقتی مسئلہ کہہ کر نظر انداز کرنے کے عادی ہو چکے ہیں

حقیقتِ حال یہ ہے کہ وقتی اور عارضی فیصلوں کی ہر ممکن گنجائش اب یکسر معدوم ہو چکی ہے۔ معاملہ اس قدر عمیق اور ہمہ گیر صورت اختیار کر چکا ہے کہ اس کا تدارک محض ایک جامع، ہمہ پہلو اور طویل المدتی حکمتِ عملی ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ نظامِ محاصل کی بامعنی اور سنجیدہ اصلاح، پیداواری شعبہ جات میں حقیقی اور پائیدار سرمایہ کاری، برآمدات کے فروغ کے لیے سازگار اور مستحکم ماحول کی تشکیل اور حکومتی مصارف میں واضح، عملی اور غیر مبہم تخفیف یہ تمام اقدامات بیک وقت اور مربوط انداز میں ناگزیر ہیں۔ اس کے سوا کسی نیم دلانہ یا ادھورے فیصلے کا حاصل مزید استقراض اور بڑھتے ہوئے بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔

قرض کی بیساکھیوں پر کھڑی معیشت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے بل بوتے پر چل سکے گی ایسی ہی خوش فہمی ہے جیسے ریت پر محل بنا کر اسے مستقل سمجھ لیا جائے۔ ایسی معیشت زیادہ دیر تک کھڑی نہیں رہتی البتہ ہر بار گرنے کے بعد نئے قرض کی تلاش ضرور شروع کر دیتی ہے۔

Check Also

Mark Tully: Awaz Jo Yaad Ban Gayi

By Asif Masood