Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Durrani
  4. Private School, Barbad Nasal

Private School, Barbad Nasal

پرائیویٹ سکول، برباد نسل

تعلیم واقعی ہماری بنیادی ضرورت ہے، لیکن ہماری ضرورت بھی ذرا منفرد قسم کی ہے۔ یہاں تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ کچھ سیکھ لے بلکہ یہ ہے کہ سکول کی فیس وقت پر جمع ہو جائے یونیفارم روز دھل کر استری ہو اور صبح گاڑی میں بٹھا کر "انسٹاگرام" پر ایک خوبصورت تصویر ڈال دی جائے جس کے کیپشن میں لکھا ہو "میرا ہونہار مستقبل!"۔ تعلیم کی اہمیت پر تقریریں تو بہت ہوتی ہیں، لیکن زیادہ تر نجی سکولوں کے نظامِ تعلیم کو دیکھ کے لگتا ہے جیسے یہ نظام خود کسی امتحانی پرچے میں پھنس گیا ہو، یہ سوچتے ہوئے کہ ہم پڑھا رہے ہیں یا بچوں کا وقت ضائع کر رہے ہیں؟

کہتے ہیں تعلیم شعور دیتی ہے اخلاقیات سکھاتی ہے اور مسائل حل کرنے کا ہنر پیدا کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں شعور کی جگہ "نقل کے آرٹ" اور "پیپرز میں صحیح چوائس مارنے کی حکمت عملی" پڑھائی جاتی ہے۔ بچوں کے سر پر کتابیں رکھ کر ماڈل فوٹو تو کھینچی جاتی ہے، مگر وہ کتاب کھول کر پڑھنا ان کے لیے کسی سسپنس ناول جیسا کام بن جاتا ہے۔ استاد صاحب ایک طرف سوچتے ہیں کہ بچوں کو علم دیں تو دوسری طرف اس بات پر الجھے رہتے ہیں کہ آج ان کی کلاس میں کون سا "وٹس ایپ لطیفہ" گردش کرے گا۔

تعلیم کسی بھی قوم کی معاشی سماجی سیاسی اور عدالتی نظام کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ افراد ملک کی خوشحالی اور ترقی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جہاں تعلیم ہوتی ہے وہاں امن، استحکام اور خوشحالی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ جہاں تعلیم کی کمی ہوتی ہے وہاں کے افراد امن پسند نہیں ہوتے اور سماجی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں شدت پسندی انصاف کا فقدان اور زندگی کی بدحالی عام ہوتی ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام پر نظر ڈالیں تو یہ کئی حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ طبقاتی فرق وسائل کی کمی اور معیارِ تعلیم کا فقدان ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور انہیں کاروبار کے طور پر چلانے کی وجہ سے تعلیم کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

انگریزی زبان کو تعلیم کا معیار سمجھا جاتا ہےجبکہ دیگر زبانوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ سوچ آج کل بہت عام ہے کہ اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے افراد کو بہتر روزگار نہیں ملے گا، حالانکہ یہ تصور غلط ہے۔ کامیابی کسی مخصوص زبان یا مضمون پر نہیں بلکہ فرد کی قابلیت اور محنت پر منحصر ہے۔

آج ہر گلی کے کونے پر "انگلش میڈیم" سکول ملے گا۔ فیس سن کر بندے کو لگتا ہے کہ بچے کو پڑھانے نہیں امریکا بھیجنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ لیکن سکول کے اندر جھانکیں تو "انگلش میڈیم" بچے دو جمع دو کے جواب میں "ٹُو اینڈ ٹُو" کرتے نظر آتے ہیں۔

نجی تعلیمی ادارے اکثر کاروبار کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ پرانے زمانے میں چند سکول ہوتے تھے۔ جہاں تعلیم کو بڑی دولت سمجھا جاتا تھا۔ آج ہر گلی میں نجی سکول کھل گئے ہیں لیکن ان کا معیار سوالیہ نشان ہے۔

بعض اداروں میں اساتذہ تو تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لیکن سکول انتظامیہ ایسے طلبہ کو بھی داخلہ دے دیتی ہے جن کی تعلیمی بنیاد بے حد کمزور ہوتی ہے۔ پھر یہی طلبہ سالانہ بورڈ امتحانات میں غیر معمولی طور پر زیادہ نمبر حاصل کر لیتے ہیں جس سے محنتی اور لائق طلبہ کی حق تلفی ہوتی ہے اور تعلیمی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

انگلش میڈیم سکولوں کی فیسیں اردو میڈیم سکولوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں لیکن ان سکولوں کا معیار اکثر ناقص پایا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کو اہمیت دینے کے باوجود بچے نہ تو اسے درست طریقے سے بول پاتے ہیں اور نہ ہی الفاظ کا صحیح تلفظ ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں زیادہ تر تعلیم کا مقصد "رٹا لگاؤ، کامیابی پاؤ" ہے۔ سوال پوچھنے کا طریقہ سکھانا تو دور کی بات سوال کرنے والوں کو ہی شرمندہ کر دیا جاتا ہے۔ امتحانات میں رٹے کا راج ایسا ہے کہ نقل کرنے والے بھی ایک دوسرے کو "نوٹس" دیتے ہیں کہ "پرسوں یہ سوال آ رہا ہے۔ تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور سوال کرنے کی مہارت کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ طلبہ کو سوال کرنے کا طریقہ اور مسائل کا تجزیہ کرنا نہیں سکھایا جاتا جو کسی بھی تعلیمی نظام کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں تعلیمی نظام اس حد تک متاثر ہوچکا ہے کہ بچے سیاست اور کرپشن پر ایسے تبصرے کرتے ہیں۔ کہتے ہے فلاں سیاستدان ملک دشمن ہے۔۔ پھر کہتے ہیں کہ "سب یہی کہتے ہیں" اور پوچھو کہ محب وطن کون ہے، تو فوج کا نام لیں گے۔ کیا یہ تربیت ہے؟ زیادہ تر ڈگری یافتہ افراد بھی اکثر عقل و شعور سے عاری ہوتے ہیں اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف تعلیمی نظام کی خرابی تک محدود نہیں کہ حکومت تعلیمی نظام میں اصلاحات کرے معیاری تعلیم کو فروغ دے اور طلبہ کو تنقیدی سوچ سوال کرنے کی صلاحیت اور اخلاقی اقدار سکھائے۔ یہ واحد راستہ ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔

Check Also

Dil Ka Acha

By Ayesha Batool