Gama Goon
گاما گُوں

پوش علاقوں کی چمچماتی سڑکیں، خاموش گلیاں اور لفٹ میں بھی "گڈ مارننگ" کہنے والے پڑوسی اپنی جگہ، مگر اصل زندگی کے اسپیشل ایفیکٹس مڈل کلاس بلکہ لوئر مڈل کلاس محلّوں میں ملتے ہیں، وہاں ہر گلی ایک نیا سٹیج، ہر دن ایک نیا ڈرامہ، سنسنی سے بھرپور ایک نئی قسط اور ہر ہمسایہ بغیر آڈیشن کے مکمل فنکار ہوتا ہے، کہیں نلکے سے پانی نہیں آتا تو کہیں پڑوسی کی معلومات کا فوارہ بند ہی نہیں ہوتا، کہیں بجلی بند ہوتی ہے تو پورا محلہ ایک ہی وقت میں یو پی ایس، موم بتی اور واپڈا کو گالیوں والی کتاب کھول لیتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ پوش ایریا رہنے کے لیے ہوتے ہیں اور مڈل کلاس علاقے، کہانیوں کے لیے!
بچپن کے وہ دن بھی کیا دن تھے، جب ہم میڈم شہناز عرف خونخوار میڈم کے پی ایف ماڈل اسکول کی طرف یوں جاتے تھے جیسے بکرا، عید سے ایک دن پہلے قصائی کے پیچھے جاتا ہے، دل میں ڈر، قدموں میں مجبوری، ہماری گلی کے عین سامنے جامع مسجد صدیقیہ کی بیرونی دکانوں میں سے ایک میں، میری والدہ ماجدہ کے سگے ماموں رمضان راجپوت خالص دودھ دہی بیچتے تھے، خالص اتنا کہ فجر کے بعد وہاں ایسا کھڑکی توڑ رش ہوتا جیسے دودھ نہیں، فری ویزا بانٹا جا رہا ہو، مسجد کی دکانوں کے عین مقابل باؤ اسلم بجلی والا کی دکانیں تھیں، جو اب حاجی منظور کھوکھر کی ملکیت ہیں، کونے والی دکان میں صفدر نائی عرف گاما محلے کا واحد گرم حمام چلاتا تھا، جہاں نہانے سے پہلے لوگ پانی نہیں، اپنی ہمت چیک کرتے تھے کہ آج واقعی نہانا ہے یا صرف اخبار پڑھ کر واپس آ جانا ہے، یہ گرم حمام محلے کا واحد "سوشل میٹنگ پوائنٹ" تھا، سردیوں میں اہلِ محلہ کی موج لگی رہتی تھی، کچھ اخبار پڑھنے کے بہانے اُدھر کا رخ کرتے اور کچھ ابراہیم چاول چنے فروش کی ریڑھی کے انتظار میں کھڑے رہتے تاکہ ناشتہ اور اخبار ایک ہی پیکج میں میسر آ جائیں، یوں لگتا تھا جیسے پورا محلہ ایک جیتا جاگتا نیوز چینل ہو جہاں بریکنگ نیوز دودھ کے ناپ کے ساتھ مفت ملتی تھی۔
ماہ جنوری 1985 کی ایک صبح حسبِ معمول گھر سے ایک روپیہ جیب خرچ وصول کرکے، بستہ لٹکائے جونہی گلی سے باہر نکلا تو ایک عجب منظر دیکھنے کو ملا، جمِ غفیر اکٹھا تھا اور بیچ میں صفدر نائی مائیک کے بغیر اونچی آواز میں گالیاں بک رہا تھا، میں رُکا اور سمجھنے کی کوشش کی کہ معاملہ کیا ہے، مگر کہانی سمجھ میں آنے سے پہلے ہی میڈم شہناز کے بھاری بھرکم تھپڑ آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے، چنانچہ جان بچانا ضروری سمجھا اور تیزی سے سکول کی راہ لی۔
دو دن بعد پھر وہی منظر! وہی جمِ غفیر، وہی صفدر نائی اور نان سٹاپ گالیاں، فرق صرف اتنا تھا کہ اس مرتبہ صفدر نائی ہاتھ میں پانی والا پائپ تھامے اپنی دکان کے لکڑی والے دروازے پر نصب لوہے کے تالے کو آئی سی یو میں پڑے زخمی مریض کی مانند دھو رہا تھا، میں ایک بار پھر زیرِ لب مسکراتا ہوا، بِنا کچھ سمجھے، سکول چل دیا، واپسی پر دیکھا کہ صفدر نائی کی دکان کے دروازے پر نیا تالا جگمگا رہا تھا۔
چند دن بعد اسی ڈرامہ سیریل کی نئی قسط ریلیز ہو چکی تھی، اس بار کیمرہ بالکل کلوز آپ میں تھا اور حقیقت صاف صاف نظر آ رہی تھی: صفدر نائی کی دکان کے تالے پر کسی نامعلوم فنکار نے انسانی فضلے کا بھاری لیپ کر رکھا تھا کہ تالہ کم اور احتجاجی پوسٹر زیادہ لگ رہا تھا، تب جا کر سمجھ آیا کہ یہ گالیاں، یہ مجمع، یہ پائپ اور ایک نیا تالہ، سب مل کر بجلی محلے کا وہ شاہکار ڈرامہ تھے جو نہ ٹی وی پر آتا تھا، نہ کسی چینل پر لیکن روز صبح فجر کے بعد لائیو نشر ہوتا تھا، صبح سویرے لوگ گھروں سے نکلتے تو یہ مسٹری ڈرامہ سیریز زیادہ انجوائے کرتے، کوئی ہنستا ہوا آگے بڑھ جاتا، کوئی جگت لگا دیتا اور کوئی کہتا
"یار آج کی قسط کل والی سے زیادہ شاندار تھی"۔
چند دن بعد اس نامعلوم فنکار نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے آسکر ایوارڈ نامزدگی والا کارکردگی دکھا دی، اب کی بار صرف تالہ نہیں بلکہ پورا دروازہ انسانی فضلے کے لیپ سے سجا دیا گیا تھا، دروازہ کسی جدید آرٹ گیلری کی نمائش کا حصہ لگتا تھا، بس فرق یہ تھا کہ دیکھنے سے پہلے ناک بند کرنا ضروری تھا، صفدر نائی نے ہمت جمع کی، آستینیں چڑھائیں اور دروازہ دھو ڈالا، مگر گاہکوں نے احتجاج شروع کر دیا:
"صفدر بھائی! بال تو ٹھیک کٹ جاتے ہیں، مگر دروازے سے جو بدبُو آ رہی ہے، اس میں بیٹھ کر بال کٹوانا جرأت کا کام ہے"۔
چند دن سکون کے بعد وہی نامعلوم فنکار پوری فارم میں واپس آیا اور ایک بار پھر دروازے کو تختۂ مشق بنا ڈالا، اس مرتبہ صفدر نائی نے فیصلہ کیا کہ بات گالیوں اور پانی کے پائپ سے آگے بڑھ چکی ہے، چنانچہ پولیس بلائی گئی، سنتری بادشاہ ناک پر رومال رکھے، دور ہی سے "جائے واردات" کا معائنہ کر رہے تھے، قریب جانے کی ہمت نہ تھی، چند قدم دور جا کر بجلی کے کھمبے تلے نامعلوم شرپسند افراد کے خلاف درخواست لکھی گئی، اس "رنگین واردات" کو لکھتے ہوئے قلم چل رہا تھا مگر ہنسی چھپاتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے تھے، صفدر نائی نے چند مستقل نمازیوں کی ڈیوٹی لگائی لیکن بےسود، وہ دور بھی کیا دور تھا، نہ سیف سٹی کیمرے، نہ سی سی ٹی وی، لہٰذا نامعلوم فنکار انسانی آنکھ سے اوجھل رہا۔
اگلی واردات کے بعد اہلِ محلہ کے پُرزور اصرار پر صفدر نائی نے آخرکار ہمت باندھی اور دکان کا پرانا دروازہ اکھاڑ دیا، نیا چمچماتا دروازہ نصب ہونے کے بعد محلے میں عارضی طور پر امن مشن کامیاب ہوگیا، لوگ کہنے لگے:
"صفدر میاں، مبارک ہو، لگتا ہے فنکار ریٹائر ہوگیا ہے"۔
چند دن واقعی سکون رہا، مگر وہ فنکار بھی کوئی عام بندہ نہیں تھا، سرکس سے بھاگا ہوا لگتا تھا، جسے تماشائی چاہئیں، داد چاہیے اور بدبو، اظہارِ فن کا لازمی جزو لگتی تھی، اگلے ہفتے دیکھا کہ نیا دروازہ بھی مکمل طور پر تختۂ مشق بنا ہوا تھا، نیا، چمکتا دروازہ اور اس پر فنکار کی تازہ تخلیق، یعنی "ماڈرن آرٹ، لوکل ورژن"۔
صفدر نائی نے احتجاجا اس دن دکان بند رکھی اور گھر واپس چلا گیا، سڑک پر سے گزرتے ہر آتا جاتا ناک پر ہاتھ رکھ کر گزرتا اور اس نامعقول حرکت پر گالیاں یا داد ضرور دیا، مسجد کمیٹی کی شکایت پر صفدر نائی کو گھر سے لایا گیا اور دروازہ دھلوایا گیا۔
اگلے ہفتے جب دروازے پر پھر سے انسانی فضلے کی نقش و نگاری چمکی تو اس بار صفدر نائی کو اچانک دانش مندی کا دورہ پڑا، اس نے گالی، پائپ اور پولیس، سب کو ایک طرف رکھا اور پورے جمِ غفیر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر ایسی عاجزانہ معافی مانگی کہ دل پسیج جائیں:
"بھائیو! اگر کسی کو مجھ سے رنجش ہے تو میں معافی کا طالب ہوں، میں ہر ہفتے نیا دروازہ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، ابھی پچھلے دروازے کے پیسے باقی ہیں"۔
یہ اعلانِ معافی ہوا تو فنکار کو شاید پہلی بار احساس ہوا کہ اسٹیج پر سامنے والا بھی انسان ہے، چنانچہ اس کے بعد وارداتیں واقعی بند ہوگئیں، مگر محلہ ایسا کہاں چھوڑتا ہے؟ فنکار غائب ہوگیا لیکن صفدر نائی کو تاحیات ایک اعزازی لقب مل گیا، اس دن کے بعد صفدر نائی پورے محلے میں "گاما گُوں" کے نام سے معروف ہوگیا۔

