Tuesday, 20 April 2021
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Asghar Shamall/
  4. Awam Aur Siasat

Awam Aur Siasat

ہماری عوام کی مثال اُس کسان کی مانند ہے جو فصلوں کو پانی دیتے وقت پانی کا رخ کہی بھی دے سکتا ہے۔ سیاست کے نام پر ہماری عوام کو بے وقف بنا کر اپنا اقتدار حاصل کر کے عوام کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔ اور پانچ سال کے لئے اپنی مرضی کا مالک بن کر پوری عوام کے سامنے مشکلوں کی دیواریں کھڑی کرتے ہیں۔ انکے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنی سیاسی سازش کے بنا پر مزید انکی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ عوام سے ہمیشہ زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگواتے ہیں، عوام کو سیاسی ہتھیار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔

پی ڈی ایم کے سب جلسوں میں ہر پارٹی کے کارکنان نے شرکت کی، لیکن لاہور کے جلسے میں لوگوں کی تعداد بنسبت دیگر جلسوں سے کچھ زیادہ تھی۔ صبح سویرے عوام پنڈال میں شریک ہوتے رہے اور عوام کا ہجوم بڑھتا جارہا تھا، اس سردی میں پورا دن ہاتھ میں جھنڈے پکڑ کر لہراتے رہے، اور سٹیج پر کھڑے صاحبان کے نعروں کا جواب دیتے رہے۔ یہ سب اس وجہ سے تھوڑی کررہے تھے کہ اس ماحول کا مزہ لیں، نہیں ایسا ہرگز نہیں تھا، بلکہ انکی اپنے سیاسی اراکین سے کچھ امیدیں وابستہ ہیں، وہ یہ سوچ کر یہاں آئے تھے کہ ہوسکتا ہے کہ ان میں کوئی اقتدار پر آکر ہماری آواز سن سکے، ہمیں روزگار دیں سکیں، ہمیں مہنگائی سے نجات دلا سکیں، ہمیں انصاف دلا سکیں، ہم پر مسلط ظالمانہ نظام کا خاتمہ کرسکیں جو خود کو قانون اور آئین کا آقا سمجھتے ہیں، اور ہم پر قابض جابرانہ نظام کا خاتمہ کرسکیں، ہم غلاموں کے بجائے آزاد جی سکیں، ہم سے سالوں سال سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو واپس گھر لا سکیں۔ وہ یہ امیدیں لیکر آئے تھے صاحب، نہ کے انکی تقاریر سننے کے لئے۔

اس ملک کے بیشتر علاقوں میں لوگ اب بھی سرمایہ درانہ نظام کا شکار ہیں جو کہ ان کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرتے ہیں، وہ اپنے حقوق مانگنے سے قاصر ہیں، ایسے علاقے اب بھی موجود ہیں جو ووٹ نہ دینے کی صورت میں انہیں دھمکیاں دینے آتے ہیں، اور ان پر پابندیاں عائد کرتے ہیں انہیں پانی، بجلی جیسے سہولیات سے محروم کیا جاتا ہے۔ وہ اِس قسم کے فرعونیت کے پنجروں سے خود کو آزاد کرنا چاہتے ہیں۔

اس دیس کے لوگوں کا یقین، اعتماد، امید اب بھی اپنے ملک کے آئین اور قانون سے وابستہ ہیں، وہ اب بھی اپنا حق اور انصاف آئین اور قانون کے دائرے میں قبول کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی صورت میں اپنے ملک کا قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے۔

اس ملک کے سیاستدان اگر اپنے عوام کو آئین اور قانون کے تحت اپنے حقوق دیں، انہیں انصاف دیں، تو پھر کبھی بھی ملک میں کسی قسم کی نہ کوئی تحریک، نہ تنظیم اور نہ ہی لوگ بغاوت جیسے راستے کو اختیار کریں گے۔ سب پرامن، ترقی یافتہ، اور خوشحال رہیں گے۔

کشور ناہید نے کورونا وائرس کے باعث خود پر مسلط کردہ تنہائی میں جو شاعری کی ہے، وہ "دریا کی تشنگی" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اِس میں ایک نظم کا عنوان ہے "سیاسی لُغت"۔ لکھتی ہیں:

عوام کو سبق پڑھانے والے

ص سے صبر کہتے ہیں

ج سے جلسوں کی رونق

بڑھانے کے لئے کندھے پر

بٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں

کہو زندہ باد کہو مردہ باد

ع سے عوام

ر سے روٹی

مانگتے تھکتے نہیں

تو انہیں نیا سبق

غ سے غدار سکھایا جاتا ہے

روٹی پھر بھی نہیں ملتی

Check Also

Kya Shaukat Tareen Maeeshat Ko Sahara De Payenge?

By Nusrat Javed