Tum Aurat Se Ziada Sakhi Nahi Ho Sakte
تم عورت سے زیادہ سخی نہیں ہو سکتے

اداسیوں کا سبب کیا کہیں بجز اسکے
یہ زندگانی ہے پریشانیاں تو ہوتی ہیں
(احمد فراز)
زندگی لامحدود حیران کر دینے والے حادثات اور سمجھوتوں سے لبریز فیصلوں کے مجموعوں کا نام ہے۔ بدیسی بھاشا میں اسکو بیان کیا جائے تو۔
Life is full of surprises and compromises.
زندگی کا کوئی بھی فلسفہ، مذہبی متن کی تفاسیر یا ریاستوں کے عمرانی معاہدے، سمجھوتوں کے بوجھ سے آزاد زندگی کا تصور پیش نہیں کرتے۔
جون ایلیاء غالباً "فرنود" میں انسانی جاندار کی اس کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں۔
"جانداروں میں صرف انسان ہی وہ جان دار ہے جو خواب دیکھتا ہے اور خواب دیکھنے کی جزا یا سزا پاتا ہے"۔
بیسیوں صدی کا آغاز و اختتام زندگی اور اسکو گزارنے کے فلسفوں کی ترویج کے زیرِ اثر رہا۔ جہاں ایک ازم نے دوسرے ازم پر سبقت لے جانے کے لیے کاغذات پر تو سمجھوتوں سے آزاد شخصی آزادی جیسی زندگی کا تصور دیا۔ مگر عملی طور پر کہیں مارکسزم کے نام پر لاکھوں انسانوں کا خون بہا، تو کہیں سرمایہ دارانہ نظام کی آڑ میں معاشی استحصال جیسے گھناؤنے وار کیے گئے۔
انہی فلسفوں میں ایک فلسفہ فیمنزم کے نام سے مغرب و ترقی یافتہ ممالک میں کافی مقبول ہوا۔ جس نے بعد از صنعتی انقلاب، عورتوں کے استحصال پر مبنی سماجی، معاشی اور معاشرتی رویوں کے تدارک پر آواز بلند کی۔ نتیجتا عورت صنفِ نازک ہونے کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کا ایندھن بننے پر مجبور ہوئی۔
ہمارا برصغیری سماج جس کو نام نہاد فکری و معاشرتی آزادی مکمل کیے بمشکل 70 برس ہی گزرے ہیں۔ لیکن آج کے جدید دور میں عورتوں میں اپنے حقوق و استحصال پر مبنی رویوں کے خلاف آگہی کا معیار گزشتہ چند دہائیوں کے مقابل بہت بہتر ہے۔ جو کہ انتہائی خوش آئند بات ہے، اسکے نتیجہ میں عورتوں میں معاشی خودمختاری اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا تصور ایک لازمی حقیقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ہم جنریشن ایکس اور وائے شاید وہ جنریشنز ہیں، جنہوں نے سمجھوتوں کے ساتھ جیون بتانے کا خاموش، معاہدہ اپنے والدین کی پرورش سے مستعار لیا ہے۔ ہم نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ماؤں کا، اپنے شریکِ حیات سے کیے گئے عمرانی معاہدوں پر پہرہ دینے کا سبق سیکھا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے والدین کے رشتے جدید دور کے "ٹاکسک" مزاج سے آزاد تھے، تو یہ دعوی سراسر غلط ہوگا۔
نزار قبانی لکھتے ہیں "تم عورت سے زیادہ سخی نہیں ہو سکتے"۔
شاید ہماری مائیں، بطور عورت اپنی سخاوت کو تمام عمر اس رشتے کو سنبھالے رکھنے پر خرچ کرتی رہیں۔ عدم تشدد جیسے نظریات پر کاربند دو انسانوں کے باہمی اختلافات اتنے طاقتور نہیں ہونے چاہیے کہ انکو ٹاکسک رویوں کا نام دے کر اپنے آنے والی نسل کو سماجی تھپیڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
مستنصر حسین تارڑ سے مکمل اتفاق کے ساتھ "روح اور خون کے رشتے ایسے خیمے نہیں ہوتے، جن کو جب چاہا نصب کر لیا اور جب چاہا اُکھاڑ لیا"۔
طلاق یا علیحدگی کے نتیجے میں، والدین کا اپنے بچوں سے الگ ہونا یا بچوں کی تقسیم، ایسا زہر آلود نشتر ہے۔ جو بچوں کی ذہنی و نظریاتی تربیت میں ہمیشہ ہرے بھرے رہتے ہیں۔ آپس میں سمجھوتہ نہ کرنے والے والدین کی اولاد تمام عمر دنیا سے سمجھوتے کرتے عمر گزار دیتی ہے۔
ماں یا باپ کی کمی پر سمجھوتہ کرنا، کسی بھی نابالغ لڑکا/لڑکی کے لیے اپنی پرورش کے آدھے حصے سے محروم ہونے جیسا عمل ہے۔
جدید دور کی ہر عورت جو معاشی و نظریاتی دور پر شخصی آزادی پر کار بند ہے، اسکو ٹاکسک رویوں، معاشی خودمختاری اور مرد کے استحصال سے چھٹکارا پانے کے ساتھ ساتھ اس طرزِ زندگی کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے، جو ہماری ماؤں نے بطور لڑکی اپنے لیے اختیار کی۔
شاید ہماری مسلمان ماؤں کا بطور لڑکی اس آیت کے مفہوم پر تکیہ ہی انکی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
"پھر وہ تمہاری من پسند چیز تمھارے تک لائے گا، مقررہ وقت پر اور پھر تم حیران رہ جاؤ گے"۔
عمر حسین کا انگریزی زبان میں مکالمہ اس سوچ کو اچھے سے سمیٹنے میں مدد دیتا ہے۔
A girl asked "Omer Hussain":
Hey! what's your Love Language?
Omer Replied delinquent way:
Staying is my Love Language
Staying when things get messy.
Staying when conversations gets uncomfortable.
Staying when silence feel heavy and walking away would be easier.
Love isn't always poetry and sparks. Sometimes it's choosing the same person on the day when it's quite, ordinary and hard. it's showing up without needing to be perfect and letting someone see you as you are.

