Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asad Ur Rehman
  4. Koi Mari Kar Jaye Te Mar Nai Jayi Da

Koi Mari Kar Jaye Te Mar Nai Jayi Da

کوئی ماڑی کر جائے تے مر نئی جائی دا

لاہور کی ایک نجی جامعہ میں طالبہ کی جامعہ حدود میں خود کشی کی کوشش کی خبر میڈیا کی زینت بنی۔ تازہ ترین اطلاعات تک بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ متعلقہ جامعہ کے رجسٹرار نے میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ بچی کے تعلیمی و معاشی ریکارڈ میں کوئی کمی یا سقم نہ ہے۔ ذہنی صحت (مینٹل ہیلتھ) پوری دنیا میں ایک مجموعی مسئلہ ہے، جس کے باعث ایسے مسائل کا ہونا فطری رویہ ہے۔

ذہنی صحت جسکا براہ راست تعلق انسانی نفسیات سے منسلک کیا جاتا ہے، جبکہ سماجی عناصر اس نفسیات کو ترتیب دینے میں مکمل ذمہ دار ہیں۔ ایک طالبعلم کی ذہنی صحت کے ساتھ کھلواڑ بچے کی شعوری عمر کے آغاز سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ محترم وقار احمد صاحب نے اس زاویہ کو اساتذہ کی عزت و تکریم کے چرچوں سے منسوب کیا۔ جس کے نتیجے میں بچے اپنے استاد کو آئیڈیلائز کرتے ہیں۔ جبکہ استاد بھی اسی قوم اور قبیل کاحصہ ہیں، اسی سماجی منافقت اور استحصال کا لبادہ اوڑھے شعبہ تدریس سے منسلک ہیں۔ جب طالبعلم اپنے آئیڈیل کی شخصیت میں منافقت اور جھول دیکھتا ہے تو اسکی ذہنی صحت پر پہلے وار کا آغاز ہو جاتا ہے۔

بچے کی ذہنی صحت سے کھلواڑ کرنے کی دوسری اکائی اسکے والدین ہوتے ہیں۔ جو نہ صرف بچے کی پیدائش سے لے کر اپنی قبر کے سفر تک بچے کے ذہنی تالے کو اپنی چابی سے کھولنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ والدین اپنی تعلیمی، معاشی و سماجی ناکامیوں کا بدلہ اپنی اولاد سے، ان تمام خوابوں کی تکمیل کی چتاؤنی دے کر پورا کرتے ہیں۔ جن کو پورا کرنے میں وہ ناکام رہے۔

چوہا دوڑ (ریٹ ریس) جس کا ہر برصغیری مزاج رکھنے والے والدین لازماً حصہ دار ہوتے ہیں۔ اس چوہا دوڑ میں، جنریشن وائی کے تمام بچے بھی اپنے اپنے زماں و وسائل میں دوڑتے رہیں۔ جو کامیاب ہو گئے وہ خاندان و سماج کے مہذب بچے کہلائے۔ جن کے پاؤں، سماج کی روایات کے جوتوں میں پورے نہ آ سکے، انکو نالائق، نکمّے، آوارہ گرد کے خطابات سے نوازا گیا۔

یہ چوہا دوڑ اور اسکا دائرہ کار فقط تعلیمی میدان تک محدود نہیں رہتا۔ ہر جماعت میں نمایاں درجہ اور شاندار گریڈ ہی کسی بھی بچے کی بنیادی خواہشات، جیسے کھیل کود، پسندیدہ کھلونے یا تفریح کے لیے گرین کارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر آپ تعلیمی میدان میں نصاب، استاد یا سکول کے ماحول سے مطابقت نہ رکھنے کے نتیجہ میں ناکام ہیں تو اسکا ذمہ داری مکمل بچے پر عائد کی جاتی ہے۔

والدین کا یہ جملہ ہی بچے کا منہ بند کرنے کے لیے کافی ہے کہ ہم تو اپنی آسائشوں کی قربانی دے کر انکے فیسوں اور خرچوں کو پورا کرتے ہیں۔ نتیجتاً بچوں سے اس عمر میں قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جس عمر میں انکو تجربات اور سیکھنے کے لئے نئی جہتوں اور سمت میں طبع آزمائی کرنا لازم و ملزوم ہوتا ہے۔ درسی کتب اور نصاب کی کتابوں کی پر ذیل کا مصرع ہمہ وقت بچوں کے لیے ننگی تلوار کا درجہ رکھتا تھا۔

پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب
کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب

یہ ہیں وہ تمام کنڈیشنگ جس کے چنگل سے آزاد ہو کر ہمارے سماج میں لاکھوں میں سے ایک بچہ دنیا میں تخلیقی سوچ کے ساتھ ملک کی نمائندگی کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس میں کمال نہ تو نظام کا ہوتا نہ ہی استاد کا اور نہ ہی والدین کی پرورش کا۔ بچے کا اپنی خدا داد صلاحیتوں کو پہچان کر تمام عمر باغی بن کر، بیروزگاری اور کم آمدنی جیسے خوف کے سائے تلے اپنے شوق کو اپنانا پھر اسکو عروج تک لانا ہی وہ عظیم جنگ ہے، جسکا تمغہ بالآخر مخالف صف میں کھڑے جرنیلوں کے سینوں پر سجا دیا جاتا ہے۔

اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ اختتام کو پہنچ چکا ہے، مصنوعی ذہانت نے پلک جھپکتے ہی حقیقی ذہانت کے بنیادی مسائل کو حل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب بیسوی صدی کے آخری چوتھائی حصے والے کانسیپٹ، گریڈ کی چوہا دوڑ، روزگار کے مسائل، روایات و اقدار کا تحفظ وغیرہ انسانی زندگی میں غیر ضروری ہو چکے ہیں۔ وہاں والدین کا دباؤ یا اساتذہ کا تشدد ذہنی صحت سے کھلواڑ بتدریج اپنی شراکت داری قائم کیے ہے۔

سرکاری جامعات جو کہ آمر کے دور میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے زیرِ انتظام اپنے نصاب اور اپنے طریقہ امتحان میں تبدیلی کی جانب گامزن ہوئی۔ عین اسی وقت ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تعلیم کے فروغ کے نام پر ملک میں دھڑا دھڑ نجی جامعات کا ایک بزنس کھول کر رکھ دیا۔ سمیسٹر سسٹم کے نفاذ نے جامعات میں آمریت کو ایگزام ڈیپارٹمنٹ سے چھین کر استاد کے ہاتھوں میں دے دیا۔ اس تبدیلی سے، کاروباری طبقہ کے نفع کی ہوس اور استاد کی آمریت کے تال میل کا آغاز ہوگیا۔

نجی جامعات میں پیسہ بٹورنے کے نام پر بچوں کا استحصال پچھلی دو دہائیوں سے جاری ہے۔ سرکاری جامعات میں میرٹ پر اپنے داخلے کو یقینی بنانے اور پھر اسی ذہانت کی چھاپ کو قائم رکھنے کی خاطر، بچے گریڈ کی دور کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ نظام کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے جنسی، معاشی، اخلاقی و تعلیمی زوال میں اپنا مکمل حصہ ڈالا۔ جامعات میں بچوں کے داخلوں کے تازہ ترین اعداد و شمار ان تمام کرداروں کی دو دہائیوں کی کمائی کا نتیجہ ہیں۔

سوشل سائنسز اور فنون کے مضامین میں بچوں کے رحجان کی کمی ٹیکنالوجی میں بدلاؤ اور پچھلی صدی کی کنڈیشنگ سے بغاوت کا نتیجہ ہے۔ جبکہ جامعات کے کرتا دھرتا سرکاری پالیسیوں پر اسکا ملبہ ڈال اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے سے کترا رہے ہیں۔ جنریشن زی جو کہ کھیل کود سے دور، فزیکل سوشلائزیشن سے عاری جنریشن ہے۔ انکو تعلیمی اہمیت سے راغب کرنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو اپنے تعلیمی رحجانات کی سمت اور نظریات کو ازسرِ نو مرتب کرنا ہوگا۔

جنریشن زی جن کا اوڑنا بچھونا، سوشل میڈیا ہے۔ جن کی تربیت و موٹیویشن یوٹیوبرز یا انفلوئنسر کے زیرِ سایہ ہوئی۔ اس جنریشن کو بین الاقوامی کانفرنسوں اور تعلیمی اجتماعات سے کوئی سروکار نہ ہے۔ انکے نزدیک یہ فقظ وقت اور ٹیکس منی کا ضیاع ہے اور بومرز کی عیاشی کا ذریعہ ہے۔ جامعات کے کرتا دھرتا سے گزارش ہے اپنے مینٹل ہیلتھ نصاب کو اپڈیٹ کریں اور اسے جڑے اپنے نظریات کو بھی بدلیں۔

جنریشن زی کو، بطور جنریشن وائی کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے چند گزارشات ہیں:

اول: جب تک بومرز اور جنریشن ایکس اس نظام کا حصہ ہیں۔ ہمیں اس نظام کو چلانے کے لیے ایک کاغذ کے ٹکڑا جسکو ڈگری کہا جاتا ہے، ہمہ وقت ضرورت رہے گی۔ تاکہ ہم لقب "ایجوکیٹڈ" کے متحمل ہوں سکیں۔ اسلیے گریڈ کی دوڑ سے کوسوں دور بیٹھ کر ڈگری حاصل کرنے کے لیے کم از کم لوازمات پورے کیے رکھیں۔

دوم: واٹس ایپ گروپس، چیٹ کمیونٹیز، انسٹا ریلز اور یوٹیوبرز کی مادیت سے پرے اک حقیقی دنیا ہے۔ جسکے آپ سب فزیکل حصہ دار ہیں، وہاں اپنی مکمل شراکت داری دکھائیں، تاکہ آپ خلائی مخلوق میں تبدیل نہ ہو جائیں۔

اس شعر کے مصداق نہ ہو جائیں۔

ہمارے گھر میں کسی کو بھی یہ گماں نہیں تھا
کہ کٹ رہی تھی، جہاں عمر میں وہاں نہیں تھا

سوم: سنیں سب کی کریں من کی، یہ آپکی جنریشن کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ بیک وقت یہی آپکو کمزور کر دیتی ہے، جب آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جب ہم نے اپنے من کی کرنی تو پھر کسی کی سنی ہی کیوں جائے۔ جب ڈیڑھ منٹ کی ریل یا ڈیڑھ گھنٹہ کی طویل پوڈ کاسٹ آپ مستقل مزاجی سے سن سکتے تو اپنے والدین یا کسی تجربہ کار انسان سے نشست سے اکتاہٹ کیونکر۔

پوڈ کاسٹ اور حقیقی زندگی کے وقت میں واحد فرق یہ ہوتا کہ آپکو اپنے مخالف، نظریات یا سوچ کے حامل لوگوں سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ آپکی ورچوئل دنیا، آپکی پسندید اور ناپسند کے الگورتھم کی محتاج ہے۔ جبکہ حقیقی دنیا کا الگورتھم اسکا محتاج نہیں۔ اسلئے جب کسی ورچوئل دنیا کے دلدادہ انسان کا حقیقی دنیا کے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس حقیقت سے بھاگنے کی کوشش میں خودکشی جیسی آخری حد بھی عبور کر لیتا ہے۔

آخری: اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زندگی آپکا حق نہیں تھا۔ آپ اخلاقی، سیاسی، وجودی، مذہبی اور علمی نائہلزم کے حامی ہیں۔ تب بھی یہ زندگی آپ سے اس پے بیک کی متقاضی ہے، خواہ وہ مثبت ہو یا منفی اور اگر آپ اخلاقیات، سیاسیات، علم اور وجودیت کو کسی مذہبی یا غیر مذہبی فلسفہ سے کشید کرتے ہیں تو کوئی بھی فلسفہ انسانی وجود کی اپنے ہاتھوں یرغمالی کو کر جان کا خاتمہ کرنے کی سختی سے تردید کرتا ہے

پنجابی زبان کا سادہ آکھان ساری بحث کو اچھے سے سمیٹنے میں مددگار ثابت ہو۔

کوئی ماڑی کر جائے تے مر نئی جائی دا
پہلے نالوں زیادہ نکھر کے وکھائی دا

Check Also

Haramain Shareefain Ka Aik Aur Bulawa

By Mushtaq Ur Rahman Zahid