1.  Home
  2. Blog
  3. Arslan Aziz
  4. Maan Jaiye

Maan Jaiye

مان جائیے

خس خس جنھوں قدر نئیں میرا میرے صاحب نوں وڈیائیاں
میں گلیاں دا روڑا کوڑا محل چڑھایا سائیاں

ایک درویش سے کسی نے پوچھا: دن کیسے گزر رہے ہیں؟ وہ رو پڑے اور کہنے لگے گناہ گار ہونے کے باوجود رحمتیں برس رہی ہیں سمجھ نہیں آتا کس بات پر اللہ کا شکر ادا کروں۔ نعمتوں کی کثرت پر یا عیبوں کی پردہ پوشی پر۔

انسان ساری زندگی گزار دیتا ہے لیکن دل سے نہیں مانتا، اگر مان جائے تو کامیاب ہو جائے۔

ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ نماز چھوڑنا اللہ کی ناراضگی اور عذاب کا سبب ہے لیکن ہم مانتے نہیں۔ اگر دل سے مان جائیں کہ واقعی ہی اللہ ناراض ہوگا تو نماز کو چھوڑنے کے بارے میں سوچیں بھی نہ۔

اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، زبان سے مانتے ہیں مگر دل سے مانتے نہیں، اگر دل مان جائے تو ہم تنہائی میں گناہ کیوں کریں۔

ہم تسبیح پر استغفار پڑھتے رہتے ہیں لیکن دل میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے خشوع و خضوع کہ ساتھ معافی نہیں مانگتے اگرچہ صرف استغفر اللہ پڑھنے کا بھی ثواب ہوگا اور امید ہے کہ اللہ بخش دے گا۔ لیکن بات تب بنے گی جب سچے دل سے توبہ کریں۔ بالفرض ایک بچہ روز استاذ کی بات نہ مانے اور روز آکر کہے مجھے معاف کردیں تو استاذ ایک نہ ایک دن کہہ ہی دیں گے کہ بیٹا روز آکر معافی مانگتے ہو اور روز بات بھی نہیں مانتے، بچے! سچے دل سے توبہ کرو کہ آئندہ حکم کی نافرمانی نہیں کرو گے۔

خدا را اگرچہ دن میں صرف ایک مرتبہ مانئیے کہ ہم گناہ گار ہیں ہم سے گناہ ہوئے ہیں، ہم نے جھوٹ بولیں ہے، ہم نے غیبت کی ہے، نمازیں چھوڑیں ہیں، مگر مانئیے ضرور اور اللہ سے رو رو کر معافی مانگئے۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگر گناہ آسمان تک بھی ہو جائیں، بندہ اللہ سے معافی مانگے تو اللہ معاف کر دے گا۔ اس لئے خدا را آج سے معمول بنا لیجئیے کہ ہر رات سونے سے پہلے صرف ایک مرتبہ سچے دل سے یہ مان کر سوئیں گے کہ ہاں یا اللہ پاک میں گناہ گار ہوں۔ بس تیری رحمت ہی سے میری بخشش ہونی ہے یا اللہ معاف کر دے۔

جے ویکھاں میں عملاں ولے، تے کُج نئی میرے پلّے
تے جے ویکھاں تیری رحمت ولّے، تے بلّے بلّے بلّے

Check Also

Pakistan Mein Khwateen Ke Haqooq: Haqeeqat Ya Khwab?

By Ahmar Aliza