Sarkari Mulazmeen Aur Rehaish Ka Bohran
سرکاری ملازمین اور رہائش کا بحران

پاکستان میں جب بھی سرکاری ملازمین کا ذکر آتا ہے تو اکثر لوگوں کے ذہن میں کرپشن کا تصور ابھرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض افراد بدعنوانی میں ملوث ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ لاکھوں سرکاری ملازمین دیانت داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ چند افراد کی غلطیوں کی وجہ سے پورے طبقے کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان معاشی اور سماجی عوامل کا بھی جائزہ لیا جائے جو بعض ملازمین کو غلط راستوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور سندھ کا معاشی مرکز ہے۔ یہاں لاکھوں سرکاری ملازمین مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد اپنی پوری ملازمت کرائے کے مکانوں میں گزار دیتی ہے۔ ہر ماہ تنخواہ کا ایک بڑا حصہ کرائے کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ مہنگائی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور دیگر ضروریات پوری کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ہر ملازم کی سب سے بڑی خواہش اپنی چھت حاصل کرنا ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے سرکاری ملازمین کے لیے رہائشی سہولتوں کے منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دوسری طرف نجی بلڈرز کراچی میں مسلسل نئی ہاؤسنگ اسکیمیں، اپارٹمنٹس اور فلیٹس تعمیر کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک متوسط درجے کا سرکاری ملازم اپنی پوری سروس کے دوران بھی آسانی سے گھر نہیں خرید سکتا۔
سندھ حکومت کے پاس کراچی اور اس کے اطراف میں وسیع سرکاری اراضی موجود ہے۔ سپر ہائی وے، ناردرن بائی پاس، ٹول پلازہ کے اطراف اور شہر کے بیرونی علاقوں میں بڑی مقدار میں زمین دستیاب ہے۔ اگر حکومت ایک جامع پالیسی کے تحت مختلف سرکاری اداروں کے لیے رہائشی کالونیاں قائم کرے تو ہزاروں ملازمین کو مناسب قیمت پر پلاٹ یا گھر فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں سرکاری ملازمین کے لیے ہاؤسنگ اسکیمیں کامیابی سے چل رہی ہیں۔ ان اسکیموں کا مقصد ملازمین کو بنیادی ضرورت یعنی رہائش فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ذہنی سکون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ جب کسی ملازم کو یقین ہو کہ اس کے خاندان کے لیے ایک مستقل چھت موجود ہے تو اس کی کارکردگی، اطمینان اور ادارے سے وابستگی بھی بڑھ جاتی ہے۔
سندھ حکومت کو چاہیے کہ صحت، تعلیم، پولیس، بلدیات، سیسی، واٹر کارپوریشن اور دیگر اداروں کے ملازمین کے لیے مشترکہ یا علیحدہ ہاؤسنگ اسکیمیں متعارف کرائے۔ زمین حکومت فراہم کرے جبکہ تعمیراتی اخراجات آسان اقساط میں ملازمین سے وصول کیے جائیں۔ جدید ٹاؤن پلاننگ کے تحت اسکول، ڈسپنسریاں، پارک، مساجد اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی شامل کی جائیں تاکہ یہ بستیاں مکمل رہائشی کمیونٹیز کی شکل اختیار کر سکیں۔
منصوبے صرف فلاحی اقدامات نہیں ہوں گے بلکہ صحت، تعلیم، پولیس، بلدیات، سیسی، واٹر کارپوریشن اور دیگر اداروں کے ملازمین کے لیے مشترکہ یا علیحدہ ہاؤسنگ اسکیمیں متعارف کرائے۔ زمین حکومت فراہم کرے جبکہ تعمیراتی اخراجات آسان اقساط میں ملازمین سے وصول کیے جائیں۔ جدید ٹاؤن پلاننگ کے تحت اسکول، ڈسپنسریاں، پارک، مساجد اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی شامل کی جائیں تاکہ یہ بستیاں مکمل رہائشی کمیونٹیز کی شکل اختیار کر سکیں۔
آخرکار کسی بھی ملازم کی سب سے بڑی خواہش ایک ایسی چھت ہوتی ہے جسے وہ اپنا گھر کہہ سکے۔ اگر حکومت اپنے ملازمین کو یہ بنیادی تحفظ فراہم کر دے تو اس کے مثبت اثرات صرف ملازمین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا معاشرہ اس سے مستفید ہوگا۔
مشہور اندلسی عالم امام ابن حزم نے لکھا کہ اگر کسی علاقے کے لوگ بھوک، لباس یا رہائش سے محروم ہوں تو حکومت اور مالدار افراد پر لازم ہے کہ ان کی ضروریات پوری کریں۔ ان کے نزدیک رہائش بھی بنیادی انسانی ضرورت ہے۔
"دنیا کی کامیاب ریاستوں نے یہ سمجھ لیا کہ سرکاری ملازم کو صرف تنخواہ دینا کافی نہیں، بلکہ اسے باعزت رہائش بھی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سنگاپور، برطانیہ اور دیگر ممالک نے اسی سوچ کے تحت ہاؤسنگ پروگرام شروع کیے، جبکہ کراچی جیسے شہر میں آج بھی ہزاروں سرکاری ملازمین اپنی پوری ملازمت کرائے کے مکانوں میں گزار دیتے ہیں"۔
یہاں پر اسلام کی دین فطرت کی بات اور مضبوط ہوتی ہے کہ "اسلامی ریاست کے تصور میں رعایا کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا حکمران کی ذمہ داری ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے نئے شہر آباد کرکے لوگوں کو زمینیں فراہم کیں اور بیت المال کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا۔ آج اگر سندھ حکومت اپنے ملازمین کے لیے مناسب رہائشی اسکیمیں متعارف کرائے تو یہ صرف ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اسلامی فلاحی ریاست کے اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہوگا"۔

