Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Qaidion Ka Maseeha

Qaidion Ka Maseeha

قیدیوں کا مسیحا

اسلام دنیا میں واحد دین ہے جس میں قیدیوں کے لئے بھی خصوصی مقام ہے اور قیدیوں کی رہائی بھی نیکی شمار کی جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ایک عضو کو جہنم سے آزاد فرمائے گا"۔ (صحیح مسلم)

علماء فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو قید یا غلامی سے نجات دلانا بہت بڑی نیکی ہے۔

دنیائے تاریخ نے قیدیوں کے حقوق کی پہلی عملی مثال دیکھی جب کائنات کے رحمت اللعالمینﷺ نے غزوۂ بدر کے بعد قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ بعض قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کیا گیا اور جو فدیہ ادا نہ کر سکتے تھے، انہیں تعلیم دینے کے بدلے آزادی دی گئی۔

کئی مواقع پر بلا معاوضہ بھی رہائی دی گئی۔

بعد از بزرگ توئی قصہ مختصر

کے بعد، حضرت ابو بکر صدیق کا نام آتا ہے جن کا آزادی دلانا ان کی مستقل عادت اور پسندیدہ عمل تھا اور انہوں نے ہی گوھر نایاب حضرت بلال حبشی کو آزادی دلائی تھی۔ ظاھر ہے کہ صدیق کے بعد شھید کی باری آتی ہے اور شھید بھی ایسا کہ جس گلی سے ابن خطاب گزرتے تھے، تین دن تک شیطان مردود اس گلی سے نہیں گزرتے تھے۔ انہوں نے اپنے خلافت کے دور میں قیدیوں کے ساتھ عدل و انصاف کو یقینی بنایا۔

اگر کسی مسلمان کو دشمن نے قید کیا تو اس کی رہائی کے لیے ریاستی سطح پر اقدامات کیے اور بیت المال سے فدیہ ادا کرنے کے واقعات بھی ملتے ہیں۔

ان کے بعد اسلامی تاریخ میں صلیبی جنگوں کے زمانے میں نور الدین زنگی نے مسلمانوں کو قید سے چھڑانے کے لیے باقاعدہ رقم مختص کی۔

قیدیوں کی رہائی کو جہاد کا اہم حصہ سمجھتے تھے۔

ان کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی فتح کے بعد ہزاروں عیسائی قیدیوں کو معاف کیا یا معمولی فدیے پر آزاد کر دیا اور انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

یہ دنیا اچھے لوگوں سے کبھی محروم نہیں رہی، لیکن آج ھم جس شخصیت کا ذکر کررہے ہیں وہ اسے آج کی دنیا قیدیوں کا مسیحا کے نام سے جانتی ہے۔

یہ ایک ایسے کاروباری رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں جنہوں نے تجارت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت کو بھی اپنی پہچان بنایا۔ خاص طور پر قیدیوں کی رہائی میں ان کا کردار اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی ہمدردی اور خدمتِ خلق کی عملی مثال سمجھا جاتا ہے اور وہ اب تک 20 ھزار سے زیادہ قیدیوں کی رہائی میں ان کا کردار ہے۔

جی ہاں یہ ہیں فیروز مرچنٹ ایک معروف بھارتی نژاد مسلمان تاجر اور سماجی شخصیت ہیں جو زیادہ تر متحدہ عرب امارات (UAE) میں اپنی کاروباری اور فلاحی سرگرمیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ دبئی میں قائم سونے اور زیورات کی مشہور کمپنی Pure Gold Jewellers کے بانی اور چیئرمین ہیں۔

ان کا کاروبار خلیجی ممالک سمیت کئی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ فیروز مرچنٹ خاص طور پر جن کاموں کی وجہ سے مشہور ہیں ان میں رمضان المبارک میں قیدیوں کی رہائی کے لیے جرمانے اور دیت کی ادائیگی، متحدہ عرب امارات میں قید پاکستانیوں سمیت مختلف ممالک کے قیدیوں کی مالی مدد اور تعلیمی وظائف، اسپتالوں اور دیگر سماجی منصوبوں میں تعاون۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے سالہا سال سے لاکھوں درہم قیدیوں کی رہائی کے لیے ادا کیے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں "قیدیوں کے مسیحا" بھی کہا جاتا ہے۔

وہ قیدیوں کی مدد اس طرح کرتے ہیں جیسے بہت سے قیدی ایسے ہوتے ہیں جو کافی عرصے سے عرب امارات میں جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید رہتے ہیں۔ فیروز مرچنٹ ہر سال خصوصاً رمضان المبارک میں ان کے جرمانے ادا کرتے ہیں۔

بعض کیسز میں متاثرہ فریق کو دیت ادا کرنے سے قیدی کی رہائی ممکن ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں بھی وہ مالی مدد فراہم کرتے ہیں اور رہائی کا عمل عموماً مقامی حکام اور متعلقہ ملک کے سفارتخانے کے تعاون سے مکمل ہوتا ہے۔

ہر سال "رمضان" میں وہ اپنی کمپنی کی سالانہ آمدنی کا ایک حصہ قیدیوں کی رہائی کے لیے مختص کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ کئی برسوں میں انہوں نے ہزاروں قیدیوں کی رہائی میں مالی مدد کی ہے۔

ان قیدیوں میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہوتے ہیں۔

خاص طور پر وہ پاکستانی قیدی جو معمولی جرائم یا مالی جرمانے کی وجہ سے قید ہوتے ہیں اور جن کے پاس جرمانہ ادا کرنے کے وسائل نہیں ہوتے، ان کی رہائی میں ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔

انہوں نے دبئی میں سونے اور ہیروں کے کاروبار سے آغاز کیا بعد ازاں Pure Gold Jewellers کی بنیاد رکھی۔ کمپنی کی آج تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب کے شاخیں ہیں جوکہ دنیا کے بارہ ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں اور معروف برانڈ ہے۔ انہیں خلیجی مارکیٹ میں جدت، معیار اور صارف دوستی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔

برانڈ کی متعدد برانچز دبئی، ابوظہبی، شارجہ اور دیگر ممالک میں موجود رہی ہیں۔ سپلائی چین میں بین الاقوامی سونے اور ہیروں کے سپلائرز، ہول سیل مارکیٹس اور ریٹیل شاپنگ مالز شامل ہیں۔ خلیجی مارکیٹ میں رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کے ساتھ مضبوط روابط رکھے جاتے ہیں۔

اسلام نے جس سنتِ رحمت اور آزادی کی تعلیم دی ہے، فیروز مرچنٹ اسی روایت کو جدید دور میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ تجارت اور خدمتِ خلق ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں اور اصل کامیابی صرف دولت کمانا نہیں بلکہ انسانوں کے دل جیتنا ہے۔

Check Also

Masla Taluq Mein Hai

By Amer Abbas