Sunday, 07 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Pentagon, Media Control Aur Security Ka Bahana

Pentagon, Media Control Aur Security Ka Bahana

پینٹاگون، میڈیا کنٹرول اور "سکیورٹی" کا بہانہ

محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو ایک خفیہ زون قرار دے دیا ہے اور صحافیوں کو وہاں جانے سے روک دیا ہے تاکہ وہ پبلک افیئرز افسران سے نہ مل سکیں جو روایتی طور پر ان کے سوالوں کے جواب دیتے تھے۔

آج کی دنیا میں جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان "آزاد میڈیا" کو سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ریاستیں طاقتور ہو جاتی ہیں تو وہی میڈیا اکثر دباؤ، کنٹرول اور پابندیوں کی زد میں آ جاتا ہے۔ زیرِ نظر خبر بھی اسی عالمی حقیقت کی ایک جھلک دکھاتی ہے کہ کس طرح حساس اداروں یا ریاستی نظام میں پریس کی رسائی کو محدود کیا جا رہا ہے اور سوال اٹھانے کے حق کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں یہ خبر 2 جون 2026 کو شائع ہوئی تھی۔

زیرِ نظر خبر کوئی معمولی انتظامی نوٹیفکیشن نہیں، بلکہ ایک بڑے اور خطرناک عالمی رجحان کی چھوٹی سی جھلک ہے یعنی "سکیورٹی" کے نام پر میڈیا کو آہستہ آہستہ قابو میں کرنا۔ الفاظ بدل جاتے ہیں، طریقے بدل جاتے ہیں، لیکن نتیجہ ایک ہی رہتا ہے: سوال کرنے والی آواز کو دیوار کے ساتھ لگا دینا۔

یہ ہے اس دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی عالمی قوت جو کہ دنیا کا پولیس مین بنا پھرتا ہے لیکن پینٹاگون میں قلم کار (صحافیوں) سے خوفزدہ ہے، یہ ہے اس عالمی قوت کی منافقت، کہ دنیا بھر کو پریس فریڈم کی تبلیغ اور اپنے ملک میں ندارد۔

واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق کئی بڑے میڈیا اداروں (جیسے واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز وغیرہ) نے ان پابندیوں کو پریس فریڈم کے خلاف قرار دیا بعض صحافیوں نے احتجاجاً اپنی پریس رسائی چھوڑ دی، قانونی چیلنجز بھی شروع ہو گئے ہیں۔

آج میڈیا کی آزادی کا سب سے بڑا مرکز سوال نہیں، اجازت ہے اور اجازت کہاں سے آتی ہے؟ وہیں سے جہاں طاقت بیٹھتی ہے، واشنگٹن، پینٹاگون اور وہ پورا سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نیٹ ورک جس نے "قومی سلامتی" کو ایک ایسا لفظ بنا دیا ہے جس کے بعد ہر سوال غیر قانونی محسوس ہونے لگتا ہے۔

خبر میں جو چیز دکھائی گئی ہے وہ صرف "پریس رسائی محدود" نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اب دنیا میں معلومات دینے کا نہیں، معلومات فلٹر کرنے کا نظام چل رہا ہے اور یہ فلٹرنگ کوئی چھوٹے دفاتر نہیں کرتے یہ بڑے اسٹریٹیجک مراکز کرتے ہیں جہاں یہ طے ہوتا ہے کہ دنیا کو کیا دکھانا ہے اور کیا چھپانا ہے۔

پینٹاگون جیسے ادارے صرف جنگی حکمت عملی نہیں بناتے، وہ "arrative strategy" بھی بناتے ہیں۔ کون سا واقعہ خبر بنے گا، کون سا نہیں، کس زاویے سے دکھایا جائے گا اور کس سوال کو "سکیورٹی رسک" کہہ کر بند کیا جائے گا، یہ سب اب جدید ریاستی طاقت کا حصہ ہے۔

اور پھر دنیا کو کہا جاتا ہے: یہ آزادی ہے۔

سوال یہ ہے: اگر صحافی سوال نہیں کر سکتا، اگر کیمرہ صرف اجازت شدہ جگہ پر جا سکتا ہے، اگر رپورٹ صرف پہلے سے طے شدہ لائن کے اندر لکھی جا سکتی ہے تو پھر یہ صحافت ہے یا PR؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ "کنٹرول" وہ ہے جو پابندی کی صورت میں نہیں آتا، بلکہ "پالیسی" کی صورت میں آتا ہے۔ نہ دروازہ بند ہوتا ہے، نہ منع کیا جاتا ہے بس اتنا کہا جاتا ہے: "یہ حساس ہے"۔

اور جیسے ہی یہ لفظ آتا ہے، صحافت رک جاتی ہے۔

یہی وہ ماڈل ہے جو دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ امریکہ ہو یا اس کے اتحادی ادارے، سب ایک ہی فریم ورک میں کام کرتے ہیں: آزادی کا تاثر برقرار رکھو، لیکن بیانیہ کنٹرول کرو اور بیانیہ کنٹرول کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار آج میڈیا رسائی ہے۔

جیسا کہ میں اپنے ھر کالم میں لکھتا آ رہا ہوں کہ آخر دنیا میں کوئی تو ان جیسی چیزوں کا حل ہوگا یا دوسرا راستہ ہوگا۔ تو بلکل وہ ازل سے موجود ہے حضرت حق کی باتوں پر عمل کرنا، جس کی جدید شکل قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے کہ بے شک اسلام ہی دین فطرت ہے اس کے علاؤہ ھمارا کوئی گزارہ نہیں ہے، چاہے میرے لبرل دوست مانیں یا نہ مانیں، تو دین فطرت کیا کہتا ہے۔

اسلام اس معاملے میں بہت واضح اصول دیتا ہے یکن انداز "کنٹرول" کا نہیں بلکہ اخلاق، ذمہ داری اور سچائی کا ہے۔

قرآن کا بنیادی حکم ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو" (سورہ الحجرات: 6)

اس کا مطلب یہ ہے کہ: خبر بغیر تحقیق کے پھیلانا منع ہے، جھوٹی یا ادھوری معلومات معاشرے کو نقصان دیتی ہیں۔ میڈیا یا فرد، دونوں پر ذمہ داری ہے۔

اسلام میں معلومات چھپانا بھی مطلق نہیں اور پھیلانا بھی بے لگام نہیں اسلام ایک درمیانی راستہ دیتا ہے: سچ بولنا فرض ہے لیکن ہر سچ ہر وقت ہر جگہ بتانا ضروری نہیں اگر اس سے نقصان ہو۔

نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے"۔

اسلام میں "کنٹرول" کا تصور کیا ہے؟ اسلام "اسٹیٹ کنٹرول فار پاور" نہیں سکھاتا، بلکہ: "امانت اور ذمہ داری کا کنٹرول" سکھاتا ہے یعنی: حکمران یا ادارہ معلومات کا مالک نہیں، امانت دار ہے۔

میڈیا یا خبر بھی امانت ہے۔ عوام کا حق ہے کہ انہیں سچ ملے۔ اسلام میں شفافیت (Transparency) کا اصول اور بقول علامہ شبلی نعمانی جنہوں نے حضرت عمرؓ کو (UMAR THE GREAT) کہا ہے ان کا اصول مشہور ہے کہ "تم مجھ سے اس وقت تک سوال کر سکتے ہو جب تک میں سیدھا نہ ہو جاؤں"۔

اس کا مطلب کہ حکمران accountability (احتساب) سے بالاتر نہیں سوال کرنا جرم نہیں، حق ہے۔

Check Also

Mera Bachpan Nagar: Mohsin Khalid Mohsin

By Mohsin Khalid Mohsin