Saturday, 28 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Online Dunya Aur Tanhai Ke Gunah

Online Dunya Aur Tanhai Ke Gunah

آن لائن دنیا اور تنہائی کے گناہ

نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ تنہائی میں گناہ کریں گے اور قیامت کے دن ان کے نیک اعمال بھی ضائع ہو جائیں گے کیونکہ وہ چھپ کر اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے لیے یہ بات حیران کن تھی کیونکہ ان کے دور میں تنہائی میں گناہ کرنا عام تصور نہیں تھا۔ وہ سوچتے تھے کہ جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو تو گناہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

آج کا دور اس حدیث کی واضح عملی تصویر پیش کر رہا ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے انسان کو ایک ایسی دنیا دی ہے جہاں وہ مکمل تنہائی میں ہر طرح کے اعمال کر سکتا ہے۔ ایک شخص یا بچہ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوتا ہے، بظاہر محفوظ اور پرسکون، مگر اسی تنہائی میں وہ ایسے کام کر رہا ہوتا ہے جو نہ صرف اس کی روحانیت بلکہ اس کی شخصیت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر نامناسب مواد دیکھنا، غلط چیٹنگ، وقت کا ضیاع اور آن لائن گیمز کے ذریعے تشدد یا نفرت کی عادت اپنانا یہ سب آج کے دور میں "تنہائی" میں ہونے والے گناہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے انسان کو گناہ کے لیے باہر جانا پڑتا تھا، جبکہ آج گناہ اس کی جیب میں موجود موبائل کے ذریعے اس تک پہنچ جاتا ہے۔

حال ہی میں دو خبریں اس خطرناک حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں۔ پہلی خبر کے مطابق، کیلیفورنیا کی جیوری نے بدھ 25 مارچ 2026 کو فیصلہ دیا کہ میٹا اور گوگل ایک لڑکی کے ڈپریشن اور بے چینی کے ذمہ دار ہیں، جو بچپن میں سماجی میڈیا کے استعمال سے متاثر ہوئی تھی اور اسے 6 ملین ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ جیوری نے پایا کہ میٹا اور گوگل کی ایپس، بشمول انسٹاگرام اور یوٹیوب، جان بوجھ کر لت لگوانے کے لیے بنائی گئی تھیں اور کمپنی کے ایگزیکٹوز نے کم عمر صارفین کی حفاظت میں ناکامی برتی۔

دوسرا فیصلہ نیو میکسیکو میں آیا، جس میں میٹا کو انسٹاگرام اور فیس بک پر نوجوان صارفین کو جنسی شکاریوں سے بچانے میں ناکامی پر 375 ملین ڈالر ہرجانے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ جیوری نے کہا کہ کمپنی نے صارفین کو گمراہ کیا اور ریاست کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

دوسری خبر یہ بتاتی ہے کہ امریکی نوجوان آن لائن گیمنگ کے ذریعے تشدد آمیز سرگرمیوں اور بعض اوقات عبادت گاہوں یا اسکولوں پر حملوں کی مشق کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے، جہاں پہلے مہینوں یا سال لگتے تھے، اب چند ہفتوں میں نوجوان انتہا پسندانہ سوچ کی طرف جا سکتا ہے۔

یہ دونوں خبریں واضح کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا اور آن لائن گیمنگ، جو بظاہر تفریح اور رابطے کے ذرائع ہیں، درحقیقت نوجوانوں کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ الگورتھمز، لائکس اور شیئرز کی دوڑ اور مسلسل اسکرین کے سامنے وقت گزارنے کی عادت حقیقت اور فریب میں فرق مشکل بنا رہی ہے۔

والدین اور معاشرہ اکثر سمجھ نہیں پاتے کہ بچہ گھر میں بیٹھ کر محفوظ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی ورچوئل دنیا میں ہے جہاں ہر قسم کا مواد آسانی سے دستیاب ہے۔ اسی لیے نوجوان غیر محسوس انداز میں خطرناک رجحانات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔

اس صورتحال کا حل مشترکہ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومتوں کو سخت قوانین بنانے اور عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کو طلبہ کو ڈیجیٹل آگاہی فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ اچھے اور برے مواد میں فرق کر سکیں۔ والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور کھل کر بات چیت کرنی چاہیے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا اور آن لائن گیمنگ بذات خود برے نہیں ہیں، لیکن ان کا غیر محتاط استعمال سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ نوجوان نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ بصورت دیگر، یہ خاموش خطرہ معاشرت کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔

سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان یا بوڑھا شخص خود کو دھوکے میں رکھتا ہے، سمجھتا ہے کہ چونکہ کوئی دیکھ نہیں رہا، وہ محفوظ ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ یہی نکتہ حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ چھپ کر کیے گئے گناہ انسان کے نیک اعمال کو ضائع کر سکتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنا غلام بنائیں، نہ کہ خود اس کے غلام۔

Check Also

Pakistan Aur Taliban Ki Haliya Jharpon Ka Tashweesh Naak Pehlu

By Mohammad Din Jauhar