Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Wo Aah, Jo Na Suni Gayi

Wo Aah, Jo Na Suni Gayi

وہ آہ، جو سنی نہ گئی

رات کے پچھلے پہر جب شہر کی شاہراہوں پر ہو کا عالم ہوتا ہے تو کچھ گھروں کے اندر ایسے جوار بھاٹے جنم لیتے ہیں جن کا شور باہر نہیں آتا مگر ان کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔ ایک تھکی ہاری عورت آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے جس کے ایک ہاتھ میں اپنی نئی زندگی کی دہلیز جبکہ دوسرے ہاتھ میں اپنے بچوں کے ہاتھ ہوتے ہیں۔ اس کے چہرے پر خوشی کم جبکہ سوال زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ سوچتی ہے "کیا میں صرف ایک عورت ہوں جسے دوبارہ جینے کا حق ہے یا ایک ماں بھی ہوں جسے اپنی اولاد کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہے"؟ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں طلاق صرف کاغذ پر لکھی ہوئی جدائی نہیں رہتی بلکہ ایک ماں کے دل میں عمر بھر کے لیے پیوست ہو جانے والا کانٹا بن جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کی دوسری شادی کو اکثر ایک "نئی شروعات" کہا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شروعات اکثر پھولوں کی سیج کے بجائے کانٹوں کا بستر ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر اُس عورت کے لیے جو اپنے سابق شوہر سے ہونے والی اولاد کو ساتھ لے کر دوسری دہلیز پر قدم رکھتی ہے۔ یہ صرف نکاح نہیں ہوتا بلکہ یہ اعتماد، خوف، ذمہ داری اور معاشرتی تعصبات کے درمیان ایک مسلسل جنگ ہوتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ مرد سوتیلے بچوں کو قبول کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہ بات درست بھی لگتی ہے۔ نکاح کے وقت مسکراتے ہوئے وعدے کیے جاتے ہیں۔ "بچے بھی میرے اپنے جیسے ہوں گے" جیسے جملے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر اصل امتحان نکاح کے بعد شروع ہوتا ہے جب گھر کی دیواریں بولنے لگتی ہیں۔ شوہر کی بہنیں، بھابھیاں، کبھی کبھی خود ماں۔۔ یہ سب وہ خاموش عدالت بن جاتی ہیں جہاں ہر روز عورت اور اس کے بچوں کا مقدمہ چلتا ہے۔ "اپنے بچوں کو ذرا سنبھال کر رکھا کرو"، "آخر یہ کب تک ہمارے ساتھ رہیں گے؟"، "اپنے باپ کے گھر کیوں نہیں جاتے؟" یہ جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے، یہ ننھے دلوں پر پڑنے والے وہ زخم ہوتے ہیں جو برسوں بعد بھی ہرے رہتے ہیں۔

ایک آٹھ سال کا بچہ جب یہ سنتا ہے کہ وہ "غیر" ہے تو اس کی معصومیت جوانی سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔ اگر اولاد میں جوان بیٹی ہو تو ماں کا خوف کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ وہ دروازے کی ہر آہٹ پر چونکتی ہے، ہر نگاہ کا مطلب پڑھنے لگتی ہے، ہر خاموشی میں خطرہ تلاش کرتی ہے۔ ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے صرف چھت نہیں چاہتی، تحفظ چاہتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہر چھت سایہ نہیں دیتی، کچھ چھتیں دھوپ سے زیادہ جلانے لگتی ہیں۔

چند برس قبل میرے پاس ایک عورت آئی۔ اس کی آنکھوں میں سکون نہیں، صرف خوف تھا۔ اس نے خلع کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ وجہ پوچھی تو پہلے خاموش رہی، پھر ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا "میں اپنے لیے نہیں، اپنی بیٹی کے لیے الگ ہونا چاہتی ہوں"۔

اس کا دوسرا شوہر جو نکاح کے وقت خود کو ایک مہذب اور ذمہ دار انسان کہتا تھا، اس کی جوان بیٹی پر غلیظ نظر رکھتا تھا۔ وہ عورت کئی راتیں جاگتی رہی، کئی بار خود کو سمجھایا کہ شاید وہ غلط سوچ رہی ہے مگر ماں کی چھٹی حس اکثر عدالت کے ثبوتوں سے پہلے سچ جان لیتی ہے۔ آخرکار اس نے گھر بچانے کے بجائے اپنی بیٹی بچانے کا فیصلہ کیا۔ معاشرہ آج بھی اسے "دو بار گھر توڑنے والی عورت" کہتا ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اس نے گھر نہیں، اپنی بیٹی کی عزت بچائی تھی۔

وکالت میرا پیشہ ہے اور عدالت کی فائلوں میں قلم بند کہانیاں اکثر افسانوں سے زیادہ خوفناک ہوتی ہیں۔ عورتیں اور لڑکیاں ایسے راز بیان کرتی ہیں جنہیں سن کر انسان کا قانون پر نہیں، انسانیت پر ایمان ڈگمگا جائے۔ بہت سی باتیں لکھی نہیں جا سکتیں، صرف دل کے قبرستان میں دفن کی جاتی ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ عورت دوسری شادی کرے یا نہ کرے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اسے اس حق کے ساتھ عزت بھی دیتا ہے؟ کیا ہم اس کے بچوں کو قبول کرتے ہیں یا انہیں ہمیشہ "کسی اور کے بچے" کہہ کر سزا دیتے رہتے ہیں؟

ماں کے لیے دوسری شادی صرف اپنی تنہائی کا علاج نہیں ہوتی، وہ ہر قدم پر اپنے بچوں کی قسمت بھی ساتھ لے کر چلتی ہے۔ وہ اپنے۔ لیے شوہر نہیں، اپنی اولاد کے لیے محفوظ پناہ بھی تلاش کرتی ہے۔ اگر یہ پناہ نہ ملے تو وہ اکثر اپنی خوشی کو دوبارہ دفن کر دیتی ہے۔ بعض عورتیں واقعی شادی نہیں چھوڑتیں، وہ صرف اپنی اولاد کو اندھیروں سے نکالتی ہیں اور بعض اوقات خلع دراصل رشتے کا خاتمہ نہیں، ایک بےبس ماں کی آہ ہوتی ہے۔۔ وہ آہ جو عدالت میں نہیں، رات کے سناٹے میں خدا کے سامنے سنی جاتی ہے۔

Check Also

Khamosh Deta, Phelta HIV

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi