Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Pakistan Ne Haq Ada Kar Diya

Pakistan Ne Haq Ada Kar Diya

پاکستان نے حق ادا کر دیا

پاکستان نے ایٹمی طاقت ہونے کا حق ادا کر دیا۔ ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے مثبت کردار پر آج پوری دنیا پاکستان کی تعریفیں کر رہی ہے۔ درحقیقت ایران امریکہ جنگ میں پاکستان امن کے سفیر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مشرق وسطیٰ آگ کے دھانے پر تھا کہ پاکستان چین اور ترکی کی کوششوں نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔۔ قوموں کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب شور سے زیادہ سکوت بولتا ہے اور قوت کا اصل اظہار میزائل سے نہیں بلکہ تدبر اور توازن سے ہوتا ہے۔

حالیہ کشیدہ ماحول میں، جب ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان تناؤ خطرناک حدوں کو چھونے لگا تھا، ایک ایسا وقفہ پیدا ہوا جس نے دنیا کو سکھ کا سانس لینے کا موقع دیا۔ اس وقفے کی تشکیل میں اگر پاکستان، چین اور ترکی جیسے ممالک کی کوششیں شامل رہی ہیں تو یہ یقیناً ایک مثبت اشارہ ہے مگر اس کا تجزیہ جذبات کے بجائے حقیقت کے آئینے میں ہونا چاہیے۔

پاکستان نے "ایٹمی طاقت ہونے کا حق ادا کر دیا"، ایک دلکش جملہ ضرور ہے مگر اس کی معنویت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایٹمی طاقت کا اصل مقصد جنگ جیتنا نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہوتا ہے۔ اسی تصور کو دنیا میں نیوکلیئر ڈیٹرنس کہا جاتا ہے یعنی طاقت کا ایسا توازن جو تصادم کو ناگزیر ہونے سے بچا لے۔ اگر پاکستان نے اس اصول کے مطابق ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا اور کشیدگی کم کرنے میں حصہ ڈالا تو یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔

بدقسمتی سے اگر امریکہ و اسرائیل کا ماضی دیکھا جائے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ایسے کئی "وقفوں" سے بھری پڑی ہے جہاں جنگ وقتی طور پر ٹلی مگر بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو ایک کامیاب موڑ ضرور کہا جا سکتا ہے مگر اسے مستقل امن کی ضمانت سمجھ لینا حقیقت پسندی نہیں ہوگا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک عرصے بعد ایک متوازن جھلک نظر آئی ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی اور تاریخی تعلقات، دوسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی وابستگی اور ساتھ ہی عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط ان سب کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان کام نہیں۔ اگر پاکستان نے اس نازک توازن کو برقرار رکھتے ہوئے کسی حد تک ثالثی یا سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے تو یہ اس کی سفارتی بلوغت کی علامت ہے۔

مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ عالمی سیاست میں تعریفیں اکثر عارضی ہوتی ہیں اور مفادات مستقل۔ آج جو ممالک کسی کردار کو سراہتے ہیں، کل وہی اپنے مفادات کے تحت مختلف پوزیشن اختیار کر سکتے ہیں۔ اسی لیے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ تعریفوں کے شور میں کچھ اپنے مفادات کا خیال بھی کر لیا جائے۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ اب پاکستان ایران کے ساتھ معاہدہ کرے جس میں اگلے دس سال تک ایران سے کم نرخوں پر گیس و پٹرولیم مصنوعات حاصل کرے جو ہمارا دیرینہ خواب بھی ہے تاکہ نہ صرف پاکستانی عوام کو سستے داموں ایندھن میسر آئے بلکہ مہنگائی میں بھی خاطر خواہ کمی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیں جذبات سے نہیں، پالیسیوں سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پاکستان کو اگر واقعی اپنی عالمی حیثیت کو مستحکم کرنا ہے تو اسے اپنی معاشی بنیاد کو مضبوط کرنا ہوگا، داخلی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا اور خارجہ پالیسی کو مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امن کے سفیر کا کردار ایک دن میں نہیں بنتا اور نہ ہی ایک واقعے سے قائم رہتا ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں صبر، تدبر اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اس راستے پر سنجیدگی سے چلتا ہے تو وہ واقعی ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔۔ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک امید ضرور ہے مگر اسے حتمی منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک آغاز ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم اس لمحے کو محض فخر کے اظہار تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس سے خاطرخواہ فائدہ بھی اٹھائیں کیونکہ تاریخ میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنی کامیابیوں سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانا جانتی ہیں۔

Check Also

Islamabad Mein Aman Muahida

By Tayeba Zia