Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Biryani Commander

Biryani Commander

بریانی کمانڈر

پاکستانی شادیوں میں نکاح کے وقت "قبول ہے"، "قبول ہے"، "قبول ہے" کے بعد اصل امتحان روٹی کھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پاکستانی شادی میں عام طور پر روبرو گواہان مولوی صاحب جو نکاح پڑھواتے ہیں وہ دراصل اس وقت تک نامکمل سمجھا جاتا ہے جب تک چکن و مٹن قورمے، بریانی، رشین سیلڈ اور مہمانوں کی پلیٹوں کے درمیان ایک مقدس، پائیدار اور خالص دنیاوی تعلق قائم نہیں ہو جاتا۔ دلہا دلہن تو بیچارے اس کھانے کے سارے ہنگامے کے دوران صرف واجبی سے کردار بن جاتے ہیں۔ ہر شادی میں اصل خودساختہ ہیرو وہ چچا ہوتے ہیں جو کھانے کے وقت ایسے متحرک ہوتے ہیں جیسے اقوامِ متحدہ نے انہیں کھانے کے عالمی تحفظ کا سفیر مقرر کر دیا ہو۔

ہمارے ایک دوست کے عزیز ہیں۔ نام تو ان کا بشیر صاحب ہے مگر خاندان میں وہ "بریانی کمانڈر" کے نام سے مشہور ہیں۔ شادی میں ان کی آمد بارات سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ وہ وقت سے پہلے تمام دیگوں کا معائنہ کرنے اور نائی کو طعن لعن کرنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ سالن کی مقدار، رائتے کی روانی، سلاد کی تازگی اور بریانی میں گوشت کی مقدار۔۔ ہر چیز پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ جب ویٹر ہال میں کھانا لگا رہے ہوتے ہیں تو بشیر صاحب کی عقابی نگاہوں میں وہی چمک ہوتی جو کسی ماہر شکاری کی آنکھ میں اپنے شکار پر نشانہ باندھنے سے چند لمحے پہلے آتی ہے۔

وہ پلیٹ ہاتھ میں لے کر ایسے آگے بڑھتے ہیں جیسے سرحد پار کوئی اہم مشن سر انجام دینے جا رہے ہوں۔ قورمے کی دیگ اور کھیر کے پتیلے کے قریب وہ ایسی پوزیشن سنبھالتے ہیں کہ باقی مہمانوں کو شک ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ دیگ اور پتیلہ ان کی وراثتی ملکیت ہے۔ اگر کسی نے ان سے پہلے بوٹی نکالنے کی کوشش کی تو وہ ایسی خوفناک نگاہ ڈالتے ہیں کہ اگلا بندہ کانپ کر رہ جاتا ہے۔

بچے بھی اس میدان کے الگ سپاہی ہوتے ہیں۔ کھانے کے وقت انہیں نہ دلہا سے دلچسپی ہوتی ہے، نہ دلہن سے، نہ خاندان کے رشتوں سے۔ ان کی پوری توجہ صرف رشئین سیلڈ اور آئس کریم کے فریزر پر مرکوز ہوتی ہے اور خواتین، اللہ اللہ! ان کے ہاتھ میں پلیٹ نہیں گویا عمرو عیار کی زنبیل ہوتی ہے۔ وہ پلیٹ میں اتنی اشیاء جمع کر لیتی ہیں کہ پلیٹ خود کانپتے ہوئے کہتی محسوس ہوتی ہے: "اے بہن مجھ پر بھی رحم کر، میں بھی کسی ماں کی بیٹی ہوں"۔ بریانی، قورمہ، روسٹ، سلاد، رائتہ، چٹنی، کھیر، زردہ۔۔ سب ایک ہی پلیٹ میں کے-ٹو چوٹی کی صورت میں اس طرح اکٹھے ہوتے ہیں جیسے مخلوط حکومت بن رہی ہو۔ پھر وہ نہایت سنجیدگی سے فرماتی ہیں "میں تو بس ڈائٹنگ پر ہوں"۔

گاؤں کی شادیوں کا تو الگ ہی جلال ہوتا ہے۔ وہاں کھانا صرف کھایا نہیں جاتا بلکہ سومنات کا مندر فتح کیا جاتا ہے۔ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے اپنے دادا کے ساتھ میں ایک قریبی شادی پر گیا۔ وہاں مہمانوں کو پرات میں بیف کا سالن سروو کیا جا رہا تھا اور ساتھ روٹی تھی۔ دادا جی نے ایک پیالے میں کھانا مجھے ڈال کر دیا اور بالکل مناسب سا کھانا اپنے لئے ڈال لیا۔ ایک بزرگ نے دادا جی سے بےتکلف ہو کر کہا "او پا جی شرما کیوں رہیے جے؟ ویاہ دی روٹی تے شرمانا نہیں چاہی دا، ایتھے جہڑا نئیں کھاندا اوہ گھر جا کے پچھتاندا اے"۔ پھر انہوں نے خود بیف کی پرات میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایسے صاف کی کہ مجھے شک ہوا کہیں ہمارے پیالے بھی یہی صاف نہ کر جائیں۔

ولیمے میں ایک اور کیٹیگری کے مہمان ہوتے ہیں جو کھانے سے پہلے ہی ویٹر سے ذاتی تعلقات استوار کر لیتے ہیں۔ "بیٹا، ذرا ایک بوٹی اور ڈال دو"۔ بعض ویٹر بھی ایسے ہوتے ہیں جیسے اپنی ذاتی گرہ سے گوشت دے رہے ہوں۔۔ چاول کا پہاڑ ڈال دیں گے مگر بوٹی یوں بچائیں گے گویا خاندانی ملکیت ہو۔

پھر وہ رشتہ دار بھی ہوتے ہیں جو کھانے کے فوراً بعد تنقیدی نشست جما لیتے ہیں۔ شادی میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ دو چار رشتےدار صرف آپکا شادی کا فنکشن خراب کرنے اور کھانے میں کیڑے نکالنے آتے ہیں۔ "بریانی اچھی تھی مگر مصالحہ بہت زیادہ تھا"۔ بندہ پوچھے بریانی کھا رہے ہو یا پلاؤ؟ جب بریانی ہوگی تو لامحالہ سپائسی ہی ہوگی۔ "قورمہ میں وہ بات نہیں تھی" آب ان سے کوئی پوچھے کہ کیا بات ہونی چاہیے؟"آئس کریم صرف قلفہ فلیور ہی تھا ٹوٹی فروٹی نہیں تھا"۔۔ بندہ پوچھے کہ تم شادی پر آئے ہو یا چمن آئس کریم پر جہاں چالیس فلیورز میں سے اپنی پسند کا فلیور منتخب کر لے۔ اصل صورتحال تو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایسے رشتےداروں کی وجہ سے میزبان بیچارہ خود بھوکا رہ جاتا ہے۔ سارا دن وہ مہمانوں کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے "کھانا کھایا؟ میٹھا لیا؟ کولڈ ڈرنک کیوں نہیں لی؟" اور رات گئے جب سب جا چکے ہوتے ہیں تو وہ خود ایک کونے میں بیٹھ کر ٹھنڈی بریانی ایسے کھاتا ہے جیسے اپنی ہی شادی میں لیٹ آیا ہوا مہمان ہو۔

پاکستانی شادی دراصل محبت، رشتے اور سماجی تعلقات سے زیادہ معدے کی جمہوریت کا تہوار ہے۔ یہاں ہر شخص دلہا دلہن کو بعد میں یاد رکھتا ہے، کھانے کو پہلے۔ بعض لوگوں کو تو پانچ سال بعد بھی دلہا کا نام یاد نہیں ہوتا مگر وہ پورے یقین سے کہتے ہیں: "بھئی، اس شادی کا بیف قورمہ اور رشین سیلڈ لاجواب تھی"۔

سو اگر آپ کسی شادی میں جائیں اور دیکھیں کہ ایک چچا بریانی کے قریب مورچہ بنائے کھڑے ہیں، ایک بچہ آئس کریم کے فریزر کے گرد طواف کر رہا ہے، ایک مہمان میز بجا بجا کر چیزوں کی کمی کی شکایت کر رہا ہے جبکہ اسکے ساتھ بیٹھا مہمان کھانے میں سے کیڑے نکال رہا ہے اور ایک خاتون پلیٹ کو اس کی جسمانی استطاعت سے زیادہ بوجھ دے رہی ہیں تو سمجھ لیجیے آپ بالکل صحیح پاکستانی شادی میں پہنچ چکے ہیں۔ وہاں محبت تو ہوگی ہی مگر سب سے بڑھ کر کچھ گھٹیا رشتےداروں کی خواہ مخواہ تنقید بھی۔۔

Check Also

Pakistani Adalaton Ka Nizam e Istehsal

By Mohsin Khalid Mohsin