Board For Peace: Aik Tanqeedi Jaiza
بورڈ فار پیس: ایک تنقیدی جائزہ

عالمی سیاست کے افق پر ابھرتے ہوئے نئے اداروں اور تصورات کا مطالعہ ہمیشہ سے ہی دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا جانے والا "بورڈ فار پیس" ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو غزہ کے امن پلان سے شروع ہو کر عالمی سطح پر ایک متبادل امن ادارے کی صورت اختیار کر گیا ہے یا کر چکے گا۔۔ بورڈ، کی تقریب رونمائی گزشتہ روز ڈیووس میں ہوئی۔ بنیادی طور پر یہ ادارہ عالمی امن کی بحالی کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس کی سٹرکچر اور اصولوں پر تنقید کی بازگشت سنائی دی رہی ہے کہ یہ ادراہ بین الاقوامی قانون کی بجائے ذاتی اتھارٹی اور معاشی طاقت پر مبنی ہے۔۔
راقم پہلے ذکر کر چکا ہے کہ بورڈ فار پیس کا آغاز غزہ کے امن پلان سے ہوا، مگر اس کا چارٹر اسے ایک وسیع عالمی ادارے کی صورت دیتا ہے۔ چارٹر کے مطابق، یہ ادارہ "پرگیٹک ججمنٹ" اور "کامن سینس سلوشنز" پر زور دیتا ہے، جو پرانی عالمی اداروں جیسے اقوام متحدہ کی ناکامیوں سے سبق سیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
تاہم، یہ ادارہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کی بجائے چیئرمین کی ذاتی اخلاقیات اور فیصلوں پر انحصار کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو چارٹر میں واضح طور پر چیئرمین نامزد کیا گیا ہے، جو لائف ٹائم ممبر ہیں اور مکمل ایگزیکٹو اتھارٹی رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی ممبر ریاست کو دعوت دے سکتے ہیں یا خارج کر سکتے ہیں، جو عالمی جمہوریت کے اصولوں سے متصادم ہے۔
چارٹر کے آرٹیکل 2.2 میں واضح ہے کہ رکنیت کی مدت تین سال ہے، مگر اگر کوئی ریاست پہلے سال میں ایک بلین ڈالر نقد ادا کرے تو یہ حد ختم ہو جاتی ہے۔
یہ شرط امیر اور طاقتور ریاستوں کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ غریب ممالک کی شرکت مشروط اور محدود رہتی ہے۔ یہ اصول اقوام متحدہ کے "ایک ریاست، ایک ووٹ" کے برعکس ہے، جو جمہوریت کی بنیاد پر استوار ہے۔ بورڈ کا یہ ڈھانچہ 19ویں صدی کے نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتا ہے، جہاں طاقت اور دولت ہی فیصلہ کن تھی۔ تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ اور نیٹو اور جیسے اداروں کو کمزور کرے گا بلکہ بین الاقوامی قانون کے میکانزم کو ختم کر دے گا۔
بورڈ فار پیس میں کوئی آزادانہ نگرانی کا نظام نہیں ہے۔ چیئرمین کی ویٹو پاور اور ذاتی فیصلوں پر انحصار سے یہ ادارہ شخصی حکمرانی کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔
چارٹر کے آرٹیکل 3.2 میں چیئرمین کو سبسڈیری انٹیٹیز بنانے، تبدیل کرنے یا ختم کرنے کی مکمل اتھارٹی دی گئی ہے، جو اجتماعی فیصلہ سازی کی بجائے ایک فرد کی مرضی پر مبنی ہے۔ اس سے انسانی حقوق بھی مشروط ہو سکتے ہیں، کیونکہ کوئی قانونی فریم ورک موجود نہیں جو چیئرمین کے فیصلوں کو چیلنج کر سکے۔
مزید برآں، یہ بورڈ امن قائم کرنے کے بجائے طاقتور ممالک کے حکمرانوں کو مزید بااختیار بناتا ہے۔ غزہ کے امن پلان میں اس کا آغاز ہوا مگر چارٹر میں غزہ کا کوئی خاص ذکر نہیں، جو اسے عالمی سطح پر ٹرمپ کی ذاتی خارجہ پالیسی کا آلہ کار بناتا ہے۔ کئی مغربی اتحادیوں نے اسے جوائن کرنے سے انکار کر دیا، جو اس کی متنازع نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ بورڈ خاص طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک بلین ڈالر کی شرط غریب ممالک کو اس ادارے سے دور رکھتی ہے، جس سے عالمی امن کے فیصلوں میں ان کی آواز دب جاتی ہے۔ پاکستان، جو خود دہشت گردی اور علاقائی تنازعات کا شکار ہے، اس طرح کے ادارے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مزید پسماندگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ بورڈ نوآبادیاتی دور کی واپسی کی مانند ہے، جہاں امیر ممالک غریبوں پر حکمرانی کرتے تھے۔ اگر یہ ادارہ اقوام متحدہ کو کمزور کرتا ہے تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے بین الاقوامی فورمز میں اپنے حقوق کی حفاظت مشکل ہو جائے گی۔
بورڈ فار پیس ایک دلچسپ مگر متنازع منصوبہ ہے جو عالمی امن کی بحالی کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس کی بنیاد ذاتی اتھارٹی اور معاشی طاقت پر ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کی بجائے چیئرمین کی مرضی کو فوقیت دیتا ہے، جو عالمی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو اس سے احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ یہ نوآبادیاتی استحصال کی نئی شکل ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ایسے اداروں کی بجائے اقوام متحدہ جیسے جمہوری فورمز کو مضبوط کرے، تاکہ امن کی بحالی سب کے لیے یکساں ہو۔

