Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Well Done Zahid Hussain Chihpa

میں جس اسکول میں پڑھتا تھا، میری ماں اس اسکول میں آیا کے طور پر کام کرتی تھی۔ میں اکثر سکول اوقات کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ اسکول جاتا اور اسکول کی صفائی کرنے میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتا۔ میں کئی بار صبح اسکول اس بینچ پر آکر بیٹھتا، جسے میں خود اپنے ہاتھوں سے گزشتہ شام صاف کرکے جاتا تھا۔ مجھے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی جب بچے اسکول میں میری ماں کو ماں سی کہہ کر پکارتے۔

گھر میں غربت کا یہ عالم تھا کہ کئی بار سوکھی روٹی کھانا پڑتی، ایک پاؤ دہی میں میری ماں پانی ملا کر ہم سب بہن بھائیوں کے سامنے رکھ دیتی اور کہتی تھوڑا تھوڑا لگا کر کھاؤ۔ میرے والد مزدوری کرتے، لیکن اس کے باوجود غربت نے ہمارا پیچھا نہ چھوڑا۔

جب زاہد حسین اسٹیج پر کھڑے ہو کر یہ ساری باتیں بتا رہے تھے تو تمام سننے والوں پر سناٹا طاری تھا، وہ کہنے لگے کہ میں چھیپا فیملی سے تعلق رکھتا ہوں اور چھیپا خاندان کراچی کے بڑے کاروباری لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ میرے چچا نے ماشاء اللہ 14، 15 حج کر رکھے ہیں، ظاہر ہے وہ کوئی غریب لوگ تو نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انہیں ہماری ذرا برابر پروا نہیں تھی، یہ حقیقت ہے کہ غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔ میں ہمیشہ اپنی ہر کلاس میں نمایاں پوزیشن لیتا رہا لیکن اس کے باوجود مجھے اپنے رشتہ داروں میں سے کوئی تھپکی دینے والا نہیں تھا۔

میٹرک کے بعد کالج میں داخلہ لیا تو اپنی فیس ادا کرنے کے لئے مجھے ریڑھی پر کیلے تک بیچنے پڑے۔ مجھے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا تھا اور آج بھی لگتا ہے، لیکن گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے میں فجر کی اذان سے پہلے اندھیرے میں گھر سے سبزمنڈی نکل جاتا، یوں کچھ پیسے کما کے اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتا رہا۔ کالج میں لڑکے جب مجھے کہتے کہ زاہد آو پیزا کھانے چلتے ہیں، آج ہم آپ کو کھلاتے ہیں کل تم ہمیں کھلا دینا تو میں ہمیشہ انہیں انکار کر دیتا ہوں اور انہیں کہتا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں آپ کو پیزا کھلا سکوں، میں تو بہت مشکل سے اپنی کالج کی فیس بھی ادا کرتا ہوں۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری ماں نے اسکول اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے ایک کمیٹی ڈال رکھی تھی نومبر 2007 میں جب وہ کمیٹی نکلی تو میری ماں نے مجھے 12000 روپے کا کمپیوٹر لے دیا۔ میں کالج سے یونیورسٹی تک آگیا اور اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ سبزی منڈی میں منشی کے طور پر کام کرتا رہا۔ ‏ساتھ ساتھ میں کمپیوٹر پر کام کرتا رہا اور 2011 میں"سرچ قرآن" کے نام سے ایک ویب سائٹ بنالی، اس ویب سائیٹ کو بنانے میں چار سال لگ گئے لیکن اس ویب سائٹ سے مجھے کوئی خاص فائدہ نہ ہوا لیکن اتنا ضرور ہوا کہ ایک سافٹ ویئر کمپنی میں مجھے 30 ہزار روپے پر ایک نوکری مل گئی۔

میں نوکری کے ساتھ ساتھ اپنی ویب سائٹ پر بھی کام کرتا رہا، ایک دن میرے باس نے مجھے بلایا اور کہا کہ تم اپنی اس ویب سائٹ کی وجہ سے نوکری پر صحیح توجہ نہیں دیتے، تمہیں اس نوکری یا ویب سائٹ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، میں گھر آیا استخارہ کیا اور دوسرے دن دفتر جا کر اپنے باس کو استعفی دے دیا۔ انہی دنوں 2007 میں ایک دوست کی وساطت سے میری ملاقات ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے ہوئی، میں نے اپنی ویب سائیٹ کے بارے میں انہیں بتایا تو انہوں نے مجھے اپنے ٹی وی پروگرام میں انٹرویو کے لیے بلا لیا۔ یہ لمحہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، اس پروگرام کے بعد مجھے مختلف جگہوں سے نوکری کی آفرز ہوئیں اور تیس ہزار کے بجائے ایک سافٹ ویئر ہاؤس میں مجھے ایک لاکھ 75 ہزار ماہانہ کی نوکری مل گئی۔

وہ بڑی عاجزی سے اپنی غربت سے لے کر اپنی کامیابی تک کی داستان سنا رہا تھا۔ زاہد حسین چھیپا کو قاسم علی شاہ صاحب نے فاؤنڈیشن کے سالانہ اجتماع کے موقع پر کراچی سے بطور خاص مہمان مدعو کر رکھا تھا، انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب میں سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کر رہا تھا تو ایک دن مجھے قرآن پاک کی ایک آیت کا ترجمہ نہیں مل رہا تھا، اس وقت میرے ذہن میں خیال آیا کیونکہ ایسی ایپ بنائی جائے جس میں قرآن پاک کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہو اور اس کے علاوہ احادیث مبارکہ کو بھی اس ایپ میں شامل کیا جائے۔ یہاں سے میں نے اسلام 360 پر کام شروع کیا اور الحمداللہ نومبر 2016 میں میں نے اس ایپ کو لانچ کر دیا۔ میں بچپن سے یہ دعا کرتا تھا یا باری تعالی مجھ سے کوئی بڑا کام لے لے، اللہ نے اسلام 360 ایپ کی صورت میں مجھ سے یہ بڑا کام کروا دیا۔

آج پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اس ایپ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس ایپ کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس ایپ میں قرآن پاک کا ترجمہ تمام مکتب فکر کے مطابق الگ الگ موجود ہے اور قرآن پاک کے ایک ایک لفظ کی تشریح اور تفسیر اس ایپ کی مدد سے سمجھائی گئی ہے۔ زاہد حسین چھیپا جہاں اپنی زندگی کی کامیابیوں کا ذکر کر رہے تھے وہی دکھی دل کے ساتھ اپنی زندگی کے تلخ واقعات بھی سنا رہے تھے، وہ بتانے لگے کہ غربت میں ہمارا کوئی رشتہ دار نہیں تھا لیکن اب جب وہی لوگ مجھے ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تو ہمارا اپنا قریبی رشتہ دار ہے، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ غربت اور بے بسی میں کوئی آپ کا رشتہ دار نہیں ہوتا۔

پھر کہنے لگے کہ میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس ایپ کی بدولت مجھے نہ صرف خوشحالی ملی بلکہ میں تین بار سعودی عرب میں امام کعبہ سے بھی مل چکا ہوں اور میں جب بھی ان سے ملا تو وہ ہمیشہ بہت پیار سے پیش آئے اور انہوں نے کہا کہ تمہاری وجہ سے مجھے پاکستان سے ہمیشہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا ہے۔

آج اس ایپ سے کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں، میں اللہ تعالی سے اس نیک کام کے بدلے اپنے والدین کی مغفرت کا طلب گار ہوں، اللہ مجھے ہمیشہ ریاکاری سے بچائے۔ زاہد حسین چھیپا سے میری ملاقات قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کی اسی سالانہ تقریب میں مارچ 2022ء میں ہوئی۔ وہ واقعی بہت عاجز انسان ہیں، اکثر لوگ شہرت کی ایسی بلندیوں پر پہنچ کر مغرور ہو جاتے ہیں لیکن یہ کمال انسان ہے جس کی بات بات پر آنکھیں بھر آتی ہیں، اور وہ جس سے بھی ملتا ہے عاجزی اور عزت سے پیش آتا ہے۔

زاہد حسین چھیپا نے اس بات کا بھی ذکر کیا کے مستقبل میں وہ اس ایپ میں قرآن پاک کا ترجمہ 104 زبانوں میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے علاوہ ان کی کوشش ہے کہ جو بھی شخص اس ایپ کو استعمال کرے، اس کے مزاج کے حساب سے ہر روز اسے قرآنی آیات اور ان کا ترجمہ اسے دکھایا جائے اور اس کے علاوہ زندگی کے روزمرہ مسائل کا حل بھی اس ایپ پر موجود ہو۔

زاہد حسین چھیپا نے اسلام 360 ایپ کی صورت میں یقینا بہت عظیم کام کیا ہے۔ اللہ کریم اس عظیم انسان کو یہ ہمت اور طاقت دے کہ وہ اس نیکی کے کام کو مزید پھیلا سکے۔ زاہد حسین چھیپا جیسے لوگ ہمارے ملک کے اصل ہیرو ہیں، ویلڈن۔۔ زاہد حسین چھیپا

Check Also

Roshni Jaisi Larkiyan

By Zaara Mazhar