Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Altaf Ahmad Aamir
  4. Wales Aur Manchester Mein Guzre Din

Wales Aur Manchester Mein Guzre Din

ویلز اور مانچسٹر میں گزرے دن

مانچسٹر لے جانے کے لیے میرے انتہائی قریبی دوست سہیل گوندل آکسفورڈ شائر آ گئے۔ اس کے ساتھ بلال، ثنأ اور محسن بھی تھے۔ سہیل اور مظہر مختلف اوقات میں میرے ساتھ ایک تعلیمی ادارے میں پڑھاتے رہے، غائبانہ انہوں نے مجھ سے ایک دوسرے کا نام سن رکھا تھا لیکن یہ ان کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ دن کا کھانا ہم نے مظہر کے پاس کھایا اور قریب ایک بجے ہم مانچسٹر کی طرف روانہ ہو گئے۔ آکسفورڈ سے مانچسٹر روڈ کے ذریعے فاصلہ تقریباََ 203 کلومیٹر تھا، سہیل سے میری ملاقات کافی عرصہ بعد ہو رہی تھی اس لیے سارے رستے ہم پاکستان میں اپنے گزرے وقت اور پرانے دوستوں کو یاد کرتے رہے۔ وہ 2010ء میں سٹڈی ویزا پر یہاں انگلینڈ آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا، آج الحمدللہ وہ مانچسٹر میں اپنی فیملی کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔

سارا انگلینڈ روڈز کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہے اور ہر روڈ بالکل ہماری موٹروے کی طرح ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے ملک کی موٹروے دراصل انگلینڈ کے روڈ کی کاپی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ ہم اڑھائی گھنٹوں میں مانچسٹر پہنچ گئے، سہیل کا وہاں اپنا گھر ہے لیکن اس نے میرے آرام کی خاطر ہوٹل میں انتہائی آرام دہ کمرہ بک کروا رکھا تھا، میں نے ہوٹل میں چیک ان کیا اور سہیل مجھے لے کر اپنے گھر آگیا جہاں اس نے رات کے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ کھانے پر سہیل صاحب کے بچوں کے علاوہ چند اور دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی۔

میں انگلینڈ میں کسی بھی دوست کے گھر گیا تو یہ بات دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ وہاں رہنے والے اپنے گھروں میں بچوں میں اسلامی تعلیمات، روایات اور اخلاقی اقدار کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں جب کوئی بھی کمیونٹی اقلیت میں ہوتی ہیں تو وہ ہمیشہ اپنی مذہبی پہچان کو نہیں بھولتی، شاید یہی وجہ ہے کہ وہاں مسلم کمیونٹی ہم سے زیادہ پریکٹیکل مسلم ہیں، ڈنر کے بعد وہاں سہیل کے گھر ہی یہ پروگرام طے ہوا کہ ہم صبح ویلز دیکھنے جائیں گے۔

اگلی صبح نو بجے سہیل مجھے پک کرنے ہوٹل آ گیا، ناشتہ کرنے کے بعد ہم 10 دوست دو گاڑیوں پر تقریباََ ساڑھے دس بجے مانچسٹر سے ویلز کے لیے نکلے، ویلز ایک چھوٹا سا ملک ہے جو گریٹ برٹن میں شامل ہے۔ عام طور پر گریٹ برٹن اور یو کے، کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے لیکن ان دونوں میں فرق ہے۔ گریٹ برٹن دراصل ایک جزیرہ ہے جس میں تین ملک انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز شامل ہیں جبکہ یونائٹڈ کنگڈم میں چوتھا ملک شمالی آئی لینڈ بھی شامل ہے۔

ہم انگلینڈ سے ویلز کب داخل ہوئے پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ گاڑی روڈ پر تیزی سے چل رہی تھی اور میں نے ویلز کا صرف ایک سائن بورڈ دیکھا، اس کی نہ تو کوئی سرحد تھی اور نہ ہی کوئی چیک پوسٹ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلینڈ اور اس کے دیہی علاقے خوبصورت ہیں مگر جونہی ہماری گاڑی ویلز میں داخل ہوئی تو وہاں کی خوبصورتی حیران کن تھی، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ، اس سبزے کے درمیان خوبصورت سڑک، کہیں پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا تھا اور کہیں سر سبز کھلے میدان۔ ان کھلے میدانوں میں کہیں خوبصورت گھوڑے، کہیں بھیڑیں، کہیں گائیں اور کہیں بکریاں چرتی ہوئی دکھائی دیں۔ اونچے نیچے رستوں پر بل کھاتی سڑک پر گاڑی میں سفر کرنا بہت بھلا محسوس ہو رہا تھا۔

ویلز کے دیہی علاقوں کی خاص بات ان پہاڑوں پر بنے ہوئے گھر تھے، ان گھروں کے مناظر کو الفاظ میں بیان کرنا شاید میرے لیے بہت مشکل ہے لیکن اگر میں انہیں خوابوں کا گھر کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔ ساری دنیا سے الگ تھلگ نیچرل بیوٹی، خاموشی، گرینری، بہتے پانی کا شور اور سادہ زندگی وہاں کیا نہیں تھا؟ ہر لمحے بعد جب بھی کوئی منظر دکھائی دیتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے یہ منظر پہلے مناظر سے زیادہ حسین ہے۔

سچ تو یہ ہے اس سے پہلے میں نے کہیں بھی اتنا خوبصورت دہی علاقہ نہیں دیکھا تھا۔ راستے میں ہم ایک جگہ جھیل کے کنارے رک گئے، جہاں ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ ہم وہاں کافی سی لطف اندوز ہوئے اور ان مناظر کو ہمیشہ کے لیے اپنے ذہن میں نقش کر لیا۔ انگلینڈ میں موسم ایسے ہی رہتا ہے، ہلکی ہلکی بوندا باندی کب شروع ہو جائے پتہ ہی نہیں چلتا اور اگلے ہی چند لمحوں میں موسم صاف بھی ہو جاتا ہے۔ اس جھیل کنارے ہم سب دوست نے تصاویر بھی بنوائیں اور اگلے پوائنٹ پر چل دیے۔

ویلز ایک چھوٹا سا ملک ہے جو اپنی تاریخی اہمیت، پرانے قلعوں، جھیلوں، خوبصورت ساحلی پٹی اور سر سبز وادیوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ برطانیہ کا حصہ ہے کیونکہ یہ گریٹ برٹن کے جزیرہ پر واقع ہے لیکن یہ ایک الگ ملک کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اس کے شمال اور مغرب میں آئرش سمندر، مشرق میں انگلینڈ جنوب میں بریسٹل چینل اور جنوب مغرب میں سیٹلک سمندر واقع ہے۔ 2021ء کے مطابق اس کی آبادی 32 لاکھ تھی اور اس کا کل رقبہ 21218 مربع کلومیٹر ہے جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنا چھوٹا ملک ہے۔ اس کی ساحلی پٹی کی لمبائی 2700 کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔

ویلز زیادہ تر پہاڑی علاقہ ہے اور اس کا دارالحکومت کارڈف ہے جو ویلز کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ رومیوں کے پانچویں صدی میں برطانیہ سے انخلا کے بعد کیلٹک برطانوی باشندوں میں ایک منفرد ویلزی ثقافت نے جنم لیا۔ 1055ء میں ویلز کے لوگ مختصر عرصہ کے لیے ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہو گئے، 200 سال سے زیادہ جاری رہنے والی جنگوں کے بعد 1283ء میں انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ اول نے ویلز کو فتح کر لیا تاہم 15ویں صدی کے آغاز میں اووین گلینڈور نے انگریز حکمرانی کے خلاف ویلزی بغاوت کی اور مختصر عرصہ کے لیے ایک آزاد ویلزی ریاست قائم کی، جس کی اپنی قومی پارلیمنٹ تھی۔

سولویں صدی میں پورے ویلز کو انگلینڈ میں شامل کر لیا گیا اور 1535ء سے 1542ء کے قوانین کے (Laws in Wales Acts) تحت اسے انگریزی قانونی نظام میں ضم کر دیا گیا۔ انیسویں صدی میں ویلز کی سیاست نے ایک منفرد شکل اختیار کی۔ ویلزی لبرلزم جس کی نمائندگی 19ویں صدی کہ آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ڈیوڈ الائیڈ جارج نے کی جو بعد میں سوشلزم اور لبرل پارٹی کے عروج کی وجہ سے کمزور پڑ گئی۔ اسی صدی کے دوران ویلزی قومی شعور میں اضافہ ہوا اور ایک قوم پرست جماعت 1925ء میں قائم ہوئی اور اسی طرح ویلزی زبان سوسائٹی 1962ء میں بنی۔ ویلز میں اختیارات کی منتقلی کا نظام نافذ ہے، جس کا سب سے بڑا اقدام 1998ء میں ویلزی پارلیمنٹ کا قیام ہے جو ویلز میں مختلف انتظامی امور کی ذمہ دار ہے۔

ویلز کے دارالحکومت کاروڈف کے ساحلی مقام پر گھومتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ یہاں کے اور برطانیہ کے لوگوں کے رویوں میں بہت فرق ہے۔ ویلش لوگ بہت ہی کم گو اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور ہر ایک سے بس ٹو دی پوائنٹ بات کرتے ہیں لیکن ان کی نسبت انگلینڈ کے لوگ کھلے مزاج کے ہیں۔ میں نے اس ساحلی مقام پر بیٹھے چند ویلش لوگوں سے ویلز کی تاریخ جاننے کے لیے سوال کیا لیکن ان کا سادہ سا جواب تھا کہ ہم نہیں جانتے یا شاید وہ کسی اجنبی سے بات کرنا زیادہ اچھا محسوس نہیں کرتے۔

ویلز کی اس ساحلی پٹی کے مشرق میں سمندر کا گہرا نیلا پانی تھا اور مغرب میں انتہائی خوبصورت جدید طرز کے بے شمار ہوٹلز۔ ہم سب دوست جب ساحل کے ساتھ بنے خوبصورت راستے پر واک کر رہے تھے تو ہمیں ایک ہیلی کاپٹر دکھائی دیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے اسی راستے پر ہم سے تھوڑا سا دور آ کر لینڈ کر گیا۔ فوراََ وہاں چند سیکیورٹی کے اہلکار آ گئے۔ دنیا کے مختلف تفریحی مقامات پر ہیلی کاپٹرز ہوتے ہیں جو سیاحوں کو پورے شہر کا چکر لگواتے ہیں، میں سمجھا یہ ہیلی کاپٹر بھی سیاحوں کے لیے ہی ہوگا لیکن اس کے لینڈ کرتے ہی ایک ایمبولنس قریبی ہوٹل سے کسی بیمار شخص کو لے کر تیزی سے آئی اور اس مریض کو ہمارے سامنے اس ہیلی کاپٹر میں شفٹ کیا گیا اور وہ اس شخص کو لے کر فوراََ وہاں سے پرواز کر گیا۔

میرے دوست نے بتایا کہ یہ ہیلی کاپٹر ایمرجنسی کی صورت میں یہاں ایئر ایمبولینس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ میں اس کی بات سن کر محسوس کر سکتا تھا کہ ایک ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ وہاں ساحلی مقام پر ایک جگہ چند بچے ساحل کی ریت پر گھروندے بنا کر کھیل رہے تھے اور بہت خوش ہو رہے تھے۔ اسی ساحل پر ایک جگہ شہداء کی ایک یادگار بنائی گئی تھی، وہ شہداء جنہوں نے اپنے وطن ویلز کے لیے جنگ آزادی میں اپنے وطن کے لیے جان دی تھی۔ ایک بلند مینار پر ان شہداء کے نام بھی کندہ تھے۔ وہاں گھومتے کافی وقت ہو چکا تھا لہذا دن کا کھانا ہم نے وہیں ایک قریبی ریسٹورنٹ میں کھایا اور واپس مانچسٹر کی طرف چل نکلے۔ ہلکی ہلکی بارش پھر شروع ہوگئی، پہاڑی راستہ ہر طرف سبزہ اور سکون وہ دنیا سے کوئی الگ ہی مقام محسوس ہو رہا تھا۔

میرے ایک دوست قلب عباس انگلینڈ کے شہر مڈل برو (Middlesbrough) میں رہتے ہیں۔ جب انگلینڈ میں میرے وزٹ کا انہیں پتہ چلا تو ان کا اصرار تھا کہ آپ نے میرے پاس لازمی آنا ہے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اگلے دن واپس لندن جانا تھا اور میرے پاس وقت بالکل نہیں تھا۔ شام کے پانچ بج رہے تھے اور سفر کے دوران ہی قلب کی کال آ گئی کہ آپ نے میرے پاس ہر صورت آنا ہے۔ پھر کیا تھا! کہ ہم سب دوست وہیں سے سیدھا مڈل برو کی طرف چل نکلے۔

قصہ مختصر ہم نے لگاتار پانچ گھنٹے سفر کیا اور رات 10 بجے قلب کے پاس مڈل برو پہنچ گئے جہاں قلب اور منیب نے ہم سب دوستوں کے لیے انتہائی پر تکلف کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ برسوں بعد قلب سے مل کر انتہائی خوشی ہوئی، ہم نے تقریباََ اڑھائی گھنٹے اکٹھے وقت گزارا اور وہاں سے واپس تین بجے مانچسٹر پہنچے۔ وہ ایک دن مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک مہینہ گزر گیا ہو کیونکہ اس ایک دن میں ہم نے بہت سا سفر کیا تھا۔ اگلی صبح ناشتے کے بعد سہیل، محسن اور ثنا مجھے مانچسٹر یونیورسٹی دکھانے لے آئے۔

سرد ٹھنڈی ہوا میں میں نے مانچسٹر یونیورسٹی کا اولڈ اور نیو کیمپس دیکھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرح اس یونیورسٹی میں بھی ایک میوزیم بنایا گیا ہے لیکن یہ میوزیم آکسفورڈ میوزیم کی نسبت کافی چھوٹا ہے لیکن یونیورسٹی کا جدید کیمپس انتہائی خوبصورت ہے۔ مانچسٹر میں کافی زیادہ تعداد میں پاکستانی مسلمان آباد ہیں۔ ہم ایک جگہ کافی کے لیے رکے تو سامنے ایک قدیم چرچ کی عمارت دکھائی دی۔ میں نے سہیل سے کہا اس چرچ کی عمارت کتنی خوبصورت ہے، سہیل بولا! یہ چرچ نہیں مسجد ہے۔ میں اس کی بات سن کر حیران ہوا، اس نے مجھے بتایا کہ یہاں مانچسٹر میں بہت سے پاکستانی بڑے بڑے بزنس مین ہیں۔ جن میں سے ایک پاکستانی نے یہ چرچ کی جگہ خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دی ہے۔

میں نے کہا یہ تو اچھی بات ہے لیکن اس کی عمارت کو مسجد کی طرز پر کیوں نہیں بنایا گیا؟ سہیل نے بتایا کہ یہاں کوئی بھی پرانی عمارت خریدی تو جا سکتی ہے لیکن اس عمارت کی بیرونی تعمیر کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہاں البتہ اس عمارت کے اندرونی حصے کو اپنی مرضی سے بدلا جا سکتا ہے۔ اس لیے باہر سے تو یہ چرچ ہی دکھائی دیتی ہے لیکن اندر سے یہ بالکل مسجد کی طرز پر بنائی گئی ہے، وہ بتانے لگا کہ یہی وجہ ہے کہ آپ کو یہاں پر جتنے بھی گھر دکھائی دیں گے سب ایک ہی طرز کے ہیں چاہے وہ کسی امیر کا گھر ہے یا غریب کا۔ بس گھروں کے اندرونی حصوں کو آپ اپنی استطاعت کے مطابق بدل سکتے ہیں لیکن باہر کا اسٹرکچر نہیں۔

مانچسٹر یونیورسٹی سے کچھ فاصلے پر مختلف نیوز چینل کے دفاتر تھے جن میں بی بی سی نیوز کا دفتر بھی شامل تھا۔ سہیل نے مجھے وہ جگہ بھی دکھائی جہاں سے بی بی سی نیوز کا آغاز ہوا تھا۔ میں نے آج ہی واپس لندن بھی جانا تھا، سہیل کا اصرار تھا کہ میں آپ کو اپنی گاڑی پر ہی لندن چھوڑ آتا ہوں۔ مگر میں ٹرین کے ذریعے واپس لندن جانا چاہتا تھا کیونکہ ایک تو پہلے ہی تین دنوں سے ان دوستوں نے مجھے بہت وقت دیا تھا دوسرا میں ٹرین کے سفر سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔

دوپہر تین بجے ان دوستوں نے مجھے مانچسٹر ریلوے اسٹیشن پر چھوڑا اور میں مانچسٹرز کے تمام دوستوں اور ویلز کی خوبصورت یادوں کے ساتھ ٹرین کے ذریعے مانچسٹر سے لندن کی طرف روانہ ہوگیا۔ انگلینڈ جیسے ملک میں کسی دوست کا ایک دن کے لیے یوں وقت نکالنا آسان نہیں ہوتا لیکن جس طرح سہیل گوندل، محسن گوندل، ثنا گوندل اور بلال گوندل کے علاوہ باقی دوستوں نے مجھے تین دن اپنا انتہائی قیمتی وقت دیا، یقیناََ یہ سب ان کی محبت تھی اور میں ان کی اس محبت کا ہمیشہ مقروض رہوں گا۔

Check Also

Wali Ullah (8)

By Rizwan Akram