Sunday, 01 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Altaf Ahmad Aamir
  4. Oxford University Museum (2)

Oxford University Museum (2)

آکسفورڈ یونیورسٹی میوزیم (2)

نیچرل سائنس میوزیم دیکھنے کے بعد جب ہم باہر نکلے تو بارش تھم چکی تھی، ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، خوشگوار موسم میں یونیورسٹی کا کیمپس اور بھی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ ہم پیدل چلتے ہوئے یونیورسٹی کے چرچ والے مین کیمپس کے قریب پہنچ گئے، وہاں ہم نے ایک جگہ دیکھا کہ کچھ بزرگ اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آٹھ آٹھ دس دس کا گروپ بنا کر ایک چھوٹے سے سٹیج کے سامنے بیٹھے تھے اور ان میں سے بزرگوں کا ایک گروپ پرفارم کر رہا تھا اور ہم جیسے بہت سے سیاح انہیں دیکھ رہے تھے۔

ان کا لباس کچھ ایسے تھا جیسے ہمارے ہاں شادی بیاہوں پر بینڈ والوں کے ہوتے ہیں۔ ان کے پاؤں میں گھنگرو تھے اور ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی چھڑیاں جو رقص کے دوران وہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہے تھے۔ اس گروپ میں میں نے ایک بزرگ تقریباََ 80 سال اور ایک بڑھیا 70 سال کہ لگ بھگ دیکھی، وہ دونوں بھی رقص سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ مختلف بینڈز دراصل یونیورسٹی کے اولڈ اسٹوڈنٹس ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے گروپس بنا رکھے ہیں جو یونیورسٹی کے کسی بھی ایونٹ پر پرفارم کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ مختلف میوزیکل بینڈز سکاٹ لینڈ، ویلز اور لندن سے تھے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں موجودہ پڑھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا بھی ایک گروپ تھا۔ 70,80 سال کے وہ گورے اور گوریاں دنیا سے بے فکر اپنی زندگی انجوائے کر رہے تھے بنا یہ سوچے کوئی کیا کہے گا۔ ہم نے وہاں آدھا گھنٹہ گزارا، ان کے ساتھ تصاویر بنائیں اور اس کے بعد یونیورسٹی کہ مین کیمپس میں داخل ہوئے جس میں چرچ بھی موجود ہے۔ وہ کیمپس اتنا خوبصورت تھا کہ اسے میں لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ مجھے تاریخی عمارتیں ویسے ہی بہت اچھی لگتی ہیں لیکن تاریخی عمارت اگر ایسی ہو جہاں دنیا کے بے شمار عظیم لوگ پڑھتے رہے ہوں اور وہ درس گاہ جس میں پڑھنا کسی بھی طالب علم کا خواب ہو یقیناََ وہ عمارت دیکھنے کے قابل تھی۔

چرچ کے سامنے چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنی سڑک پر ہم چہل قدمی کر رہے تھے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ چلتے چلتے چرچ کے بالکل سامنے ہم مین لائبریری میں آگئے جو برٹش کی دوسری بڑی لائبریری ہے۔ یہ لائبریری 1602ء میں بنائی گئی۔ اس لائبریری کو اس دور کی ملکہ نے اس وقت بنوایا جب بادشاہ نے کوئی جنگ جیتی۔ ملکہ نے لائبریری کی یہ خوبصورت عمارت بنوائی اور بادشاہ کا اور اپنا مجسمہ بنوا کر لائبریری کے اندر اونچی جگہ پر نصب کروا دیا۔ ہم کافی دیر اس لائبریری اور اس سے ملحقہ علاقے کو دیکھتے رہے۔

یونیورسٹی کا ماحول انتہائی پرسکون تھا، کہیں کوئی شور شرابا نہیں تھا۔ کہیں طلباء گروپس کی شکل میں گھوم پھر رہے تھے، کہیں سبز گھاس پر بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے اور کہیں طالب علم سائیکلوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا رہے تھے۔ آکسفورڈ شہر کو سائیکلوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں زیادہ تر طالب علم سائیکل ہی استعمال کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کی احاطے میں جگہ جگہ سائیکل سٹینڈ نظر آ رہے تھے۔ یونیورسٹی میں ایک جگہ میں نے ایک سائیکل دیکھا جو 385 پاؤنڈ میں فار سیل تھا اور نیچے سیل کرنے والے کا نمبر لکھا تھا۔ وہ سائیکل بھی کافی پرانی تھی لیکن اس کے باوجود پاکستانی روپوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کی تھی۔

مین لائبریری دیکھنے کے بعد ہم چرچ میں آگئے کیونکہ ہم نے چرچ کے بلند مینار کہ ٹاپ پر جانا تھا جہاں سے یونیورسٹی کو چاروں طرف سے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ اتوار کا دن تھا اس لیے چرچ میں یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے طلباء و طالبات مخصوص انداز میں گروپس میں کھڑے عبادت کر رہے تھے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں کتاب تھی اور وہ اپنے سامنے موجود انسٹرکٹر کی ہدایت کے مطابق اونچی آواز میں کچھ پڑھ رہے تھے۔ اس وقت کافی زیادہ تعداد میں سیاح اس چرچ کے بینچز پر بیٹھ کر ان کی عبادت کی ایکٹیوٹی دیکھ رہے تھے۔ ایک کونے میں بیٹھ کر میں بھی وہ سارا منظر دیکھتا رہا جب تک ہمیں چرچ کے مینار کے ٹاپ پر جانے کا ٹکٹ نہیں مل گیا۔ ان میں دنیا کے مختلف ممالک کے طلباء شامل تھے جو یونیورسٹی میں مختلف کورسز کر رہے تھے۔

ٹکٹس ملنے پر ہم چرچ کے بلند مینار کے ٹاپ پر آ گئے۔ اوپر جانے کے لیے یہ سیڑھیاں اتنی چھوٹی تھیں کہ مشکل سے ایک وقت میں ایک ہی بندہ اوپر یا نیچے آ جا سکتا تھا۔ ان تنگ سی سیڑھیوں کے بعد جب ہم مینار کے ٹاپ پر پہنچے تو بلندی سے یونیورسٹی اور اس کے چاروں اطراف ملحقہ علاقہ دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ اس مینار سے یونیورسٹی سے تمام تاریخی کیمپسز دکھائی دے رہے تھے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی تاریخی تو ہے ہی لیکن بہت بڑی اور خوبصورت بھی ہے۔ یونیورسٹی کے اس چرچ کی بنیاد 1546ء میں کنگ ہینری viii نہیں رکھی۔

یہ کرائس چرچ کالج یونیورسٹی کا مشہور ترین کالج ہے اور اس میں سالانہ پانچ لاکھ کے قریب سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ یونیورسٹی کے اس کالج میں دنیا کے مختلف 13 وزرائےاعظم پڑھ چکے ہیں جن میں پاکستان کے سابقہ وزیراعظم بھی شامل ہیں۔ اس چرچ کے مینار سے آکسفورڈ یونیورسٹی کو دیکھنا ایک لائف ٹائم تجربہ تھا۔ ہم سیاح لوگ تنگ سیڑھیوں سے ایک ایک کرکے نیچے اترے، ہم چرچ کے اندرونی دروازے سے باہر نکلے جو کیمپس کی طرف کھلتا ہے۔ باہر نکلتے ہیں سامنے لائبریری کی خوبصورت عمارت تھی جس کے سامنے لان میں بہت سے طلباء ایک دوسرے سے گپ شپ کرنے میں مگن تھے۔

میں لائبریری کے سامنے ایک بینچ پر بیٹھ گیا اور خود کو ایک لمحے کے لیے اس یونیورسٹی کا طالب علم محسوس کیا اور اس ایک لمحے میں میں نے تصوراتی طور پر اس عظیم درسگاہ میں پڑھنے والی ساری زندگی گزار لی۔ اس لمحے میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کہ یہ واقعی سچ ہے کہ جب ہم کسی بھی چیز کو بہت شدت سے چاہتے ہیں تو اللہ کریم ہمیں وہ چیز عطا کر دیتا ہے۔ سکول کے دور میں میں جب بھی لاہور جاتا تو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی خوبصورت عمارت اور اس کا بلند مینار مجھے بہت بھلا محسوس ہوتا اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی کہ کاش میں بھی یہاں پڑھ سکوں۔ ایم اے تک تو میری وہ خواہش پوری نہ ہوئی لیکن ایم فل میں مجھے وہاں پڑھنے کا موقع ملا جسے میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔

جی سی یونیورسٹی کا وہ بلند مینار اور خوبصورت عمارت بالکل آکسفورڈ یونیورسٹی میں بنی عمارتوں کی طرز پر بنائی گئی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی دیکھنے کی خواہش بھی میرے دل میں ہمیشہ رہی اور آج میں اسی یونیورسٹی کہ مین کیمپس میں بیٹھا تھا۔ میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ مظہر کی آواز آئی، کیا خیال ہے سر چلیں؟ میں مسکر کر اٹھا اور مظہر کے ساتھ یونیورسٹی کہ اس احاطے میں آ گیا جہاں بہت سے ریسٹورنٹ تھے اور ہم نے وہاں سے کافی پی۔ شام کے چار بج چکے تھے، ہم یونیورسٹی سے نکلے اور چلگروہ کی طرف چل دیے۔

Check Also

Dorahe Par Khara Pakistan

By Noorul Ain Muhammad