Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Khabeki Jheel Ke kinare Muraqba

سورج طلوع ہو رہا تھا اور ہم سب وادی سون کی "کھبیکی جھیل" کے کنارے 20 مارچ کی صبح دریوں پر آلتی پالتی مارے، آنکھیں بند کر کے یوگا کرنے کے انداز میں بیٹھے تھے اور علی عباس صاحب ہمیں اپنی کہانی سنا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں چند سال قبل مراقبے(Meditation) کا ایک کورس کرنے کے لیے سری لنکا گیا، جونہی میں کولمبو ایئرپورٹ پر اترا، تو مجھے کولمبو سے تقریبا 70 کلومیٹر دور جنگل میں لے جایا گیا، جہاں بہت سے یوگی ایک پہاڑ پر مختلف لوگوں کو مراقبہ کروا رہے تھے۔

میں نے بھی اپنی رجسٹریشن کروائی اور ایک گروپ میں شامل ہو گیا جس میں مختلف ممالک سے لوگ شامل تھے، مراقبے کا وقت صبح چار بجے سے شام 5 بجے تک تھا، پہلے ہی دن ہمیں اپنی اپنی مخصوص جگہ پر آنکھیں بند کرکے مخصوص انداز میں بٹھا دیا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ آپ نے اپنی کمر بالکل سیدھی رکھنی ہے۔ اس کے بعد وہ وقتاً فوقتاً ہمیں ہدایات بھی دیتے اور ہم ان کی ہدایات پر عمل کرتے۔ میں گھومنے پھرنے والا بندہ تھا، یوں ایک ہی جگہ ایک مخصوص پوزیشن میں بیٹھنا میرے لئے بہت مشکل تھا، لیکن شوق کی خاطر میں اس تکلیف کو برداشت کرتا رہا، کیونکہ میں اس سکون کو پانا چاہتا تھا جس کے لئے یہ یوگی اتنی دور جنگلوں میں آ بیٹھے تھے۔

درمیان میں کچھ دیر کے لیے وقفہ ہوتا اور ہمیں برائے نام کچھ کھانے کے لیے دیا جاتا اور دوبارہ پہلی پوزیشن میں بیٹھنے کا حکم دے دیا جاتا۔ خدا خدا کر کے پہلا دن مکمل ہوا لیکن میرا جسم اکڑ گیا، مراقبہ کرنے کا میرا سارا شوق تو پہلے دن ہی پورا ہو گیا لیکن پھر سوچا کہ اگر چھوڑ کر یہاں سے چلا جاتا ہوں تو واپس جا کر دوستوں کو کیا جواب دوں گا؟ خیر ہمت کر کے مزید دو دن بھی اسی کیفیت میں گزارے۔ علی عباس پاکستان کے نامور ٹرینر اور مصنف ہیں، جب وہ اپنی یہ کہانی سنا رہے تھے تو میری بند آنکھوں کے سامنے وہ سارا منظر ایک ویڈیو کی طرح چل رہا تھا۔

میں اس وقت سری لنکا کے جنگل میں اونچے اونچے درخت اور بھرپور سبزہ دیکھ سکتا تھا، اور اس یوگی کو بھی، جو اونچی چٹان پر آلتی پالتی مارے بیٹھا، سب کو مراقبہ کروا رہا تھا۔ اس تصوراتی منظر کے ساتھ ساتھ کچھ حقیقی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں، علی عباس صاحب کی آواز کے علاوہ اس "کھبیکی جھیل" کے اردگرد صبح صبح مختلف پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں بھی مجھےالگ الگ سنائی دے رہی تھیں اور ان آوازوں کے علاوہ مجھے اس لمحے دور سڑک پر کسی نہ کسی گاڑی کی چلنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی، اگلے ہی پل میرا خیال ان چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کی طرف گیا، جنہیں میں تھوڑی دیر پہلے جھیل کے کنارے کھڑا ہو کر صاف شفاف پانی میں دیکھ رہا تھا۔

کوئی ایک مچھلی جب روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا حاصل کرکے تیزی سے تیرتی تو کس طرح دوسری مچھلیاں اس ایک مچھلی کا پیچھا کرتیں۔ مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی آ رہا تھا کہ تب مجھے وہاں اتنے قسم کے پرندوں اور دور سڑک پر چلتی گاڑیوں کی آوازیں کیوں سنائی نہیں دے رہی تھیں؟ یہ اب ہی کیوں سنائی دے رہی ہیں؟ علی عباس صاحب کی آواز میں سن رہا تھا اور یہ سارے سوالات، ساری آوازیں اور سری لنکا کے اس جنگل کا منظر جس کا وہ واقعہ سنا رہے تھے، میرے سامنے تھا۔

وہ بولے کہ جب اس مراقبے کے تین دن مکمل ہوگئے تو میرا جسم بری طرح ٹوٹ چکا تھا اور ساتھ ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، اب اس خوف اور بے چینی کی کیفیت میں مجھے نیند بھی نہیں آتی تھی۔ چوتھا دن شروع ہوا تو میرا دل گھبرانا شروع ہو گیا، میں عجیب طرح کے خوف میں مبتلا ہو گیا کہ شاید میں اب نارمل زندگی نہ گزار سکوں، اسی صورت حال میں میرا پانچواں اور چھٹا دن گزرا۔ چھ دنوں بعد میں نے وہاں سے بھاگنے کا پروگرام بنا لیا، کیونکہ خوف سے میرے دل کی دھڑکن اس قدر تیز ہو چکی تھی، جیسے میرا سینہ پھٹ جائے گا۔

اس کے علاوہ ایک اور خوف مجھے اندر ہی اندر ختم کر رہا تھا، وہ یہ تھا کہ اس کورس کے شروع میں ان یوگیوں نے کہا تھا کہ یہ دس دن کا کورس لازمی کرنا ہے، اگر کوئی درمیان میں اس کورس کو چھوڑے گا تو اس کا ذہنی توازن بھی خراب ہو سکتا ہے، جب خوف سے میرا برا حال ہوگیا تو اسی کیفیت میں میں نے پاکستان میں بلال قطب سے رابطہ کیا جو کہ ایک نامور مذہبی اسکالر ہیں۔ جب میں نے انہیں اپنی ساری کیفیت بتائی تو انہوں نے مجھے وہاں سے فوری نکلنے کا کہا۔ میں نے اپنے ٹرینر سے بات کی کہ میں یہ کورس ختم کر کے واپس جانا چاہتا ہوں۔

اس نے مجھے کہا، کہ ایسا کرنے سے اگر آپ کا ذہنی توازن قائم نہ رہا تو ہم ذمہ دار نہ ہوں گے لیکن میں ہر صورت وہاں سے نکلنا چاہتا تھا لہذا میں نے کاغذ پر دستخط کرکے ان کے حوالے کئے اور اگلے ہی دن وہاں سے نکل پڑا۔ ہم سب اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے، مراقبہ کی حالت میں علی عباس کی یہ باتیں سن رہے تھے، اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ بولے کہ میں کس طرح وہاں سے نکلا اور کس طرح ایئرپورٹ پہنچا مجھے کچھ معلوم نہیں؟ جب جہاز میں سوار ہونے کے لئے اناؤنسمینٹ ہوئی تو میں اس قدر خوف زدہ تھا کہ جیسے جہاز فضا میں تباہ ہو جائے گا اور میں واپس پاکستان نہیں پہنچ پاؤں گا۔

حالانکہ اس سے قبل میں جہاز کا کئی مرتبہ سفر کر چکا تھا۔ بہرحال اسی خوف کی کیفیت میں پاکستان پہنچا، کراچی ایئرپورٹ پر میرا ایک دوست مجھے لینے آیا ہوا تھا وہ مجھے وہاں سے سیدھا ایک پیر صاحب کے پاس لے گیا، پیر صاحب نے میری حالت دیکھی تو میرے لئے کھانے کے لئے کچھ منگوایا۔ میں پانچ چھ دنوں کا بھوکا اور پیاسا تھا کیونکہ وہاں کھانا نہ ہونے کے برابر ملتا تھا۔ میں بریانی کی تین پلیٹیں کھا گیا۔ مجھے آج تک کسی کھانے کا اتنا مزا نہیں آیا جتنا اس بریانی کا تھا، اس کھانے کے بعد میں تھوڑا نارمل ہونا شروع ہوا اور آہستہ آہستہ زندگی کی طرف واپس لوٹ آیا۔

علی عباس صاحب کا یہ قصہ سنتے، ہمیں تقریبا آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا، انہوں نے ہمیں کہا کہ اب آپ آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں، جب میں نے آنکھیں کھولی تو سامنے "کھبیکی جھیل" کا نیلا شفاف پانی تھا اور ہر چیز مجھے بہت ہی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ پھر انہوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ بغیر کھانا کھائے یا پانی پئے کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟ سب کے جوابات مختلف تھے، کسی نے کہا پانچ دن، سات دن، بارہ دن۔ پھر پوچھا کہ یہ بتائیں کہ سانس کے بغیر ہم کتنی دیر زندہ رہ سکتے ہیں؟ کسی نے کہا 5 منٹ، سات منٹ یا 11 منٹ وغیرہ۔

پھر علی عباس صاحب کہنے لگے کہ ہم گاڑیوں، بنگلوں اور زمینوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں مگر جس سانس کے بغیر ہم تین منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتے اس پر کبھی غور نہیں کیا، پھر انہوں نے سب کو تین منٹ میں اپنی سانسیں کاؤنٹ کرنے کے لئے کہا، کسی نے تین منٹ میں 80 سانسسیں کاؤنٹ کیں، کسی نے 60، کسی نے 40۔ پھر وہ کہنے لگے کہ ہماری ساری ڈیپریشن، اینگزائٹی اور پریشانیوں کی وجہ صرف ہمارے منتشر خیالات ہیں، جب کبھی آپ کو اسٹریس محسوس ہو تو اپنے ذہن کو سکون دینے کے لیے کبھی کبھار مراقبہ ضرور کریں اور ان تمام نعمتوں کے بارے میں سوچیں جو اللہ تعالی نے آپ کو دے رکھیں ہیں، آپ کا سارا ڈیپریشن اور ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ جس سکون کی تلاش میں میں سری لنکا کے جنگلوں میں ان یوگیوں کے پاس گیا، وہ سکون تو میرے اندر ہی کہیں موجود تھا اور میں اسے اتنی دور جنگلوں میں تلاش کر رہا تھا۔ لہذا اگر آپ نے اس اندر کے سکون کو تلاش کرنا ہے تو کبھی کبھی ایسے ہی آنکھیں بند کر کے اپنے خیالات کو منتشر ہونے سے بچائیں اور صرف کسی ایک چیز پر فوکس کرنے کی کوشش کریں، زندگی پرسکون ہو جائے گی، قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام وادی سون کے دو روزہ دورے میں مراقبے کا یہ تجربہ انتہائی شاندار تھا۔

Check Also

Gaye To Kya Teri Bazm e Khayal Se Bhi Gaye

By Orya Maqbool Jan