Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Asal Zindagi Yehi Hai

جون جولائی کی شدید گرمی میں بھی اگر سب دوستوں کے گھومنے پھرنے کا پروگرام بن جاتا، تو میں بھی ان کے ساتھ آؤٹنگ کے لیے گرمی کی پرواہ کیے بغیر، اپنی پرانی موٹر سائیکل نکالتا اور ہم سب نہر کے کنارے تپتی دھوپ میں چل پڑتے، راستے میں گزرتی چمکتی گاڑیوں کو جب ہم دیکھتے تو کہا کرتے، یار ایسی گاڑی ہو نا، تو پھر زندگی کا مزہ ہے، اس ٹوٹی موٹر سائیکل پر زندگی کا کیا لطف؟

گرمی کی حدت اتنی زیادہ ہوتی کہ ہماری جلد تک جھلس جاتی، میں ہمیشہ حالات اور ٹوٹی ہوئی موٹرسائیکل کو کوستا رہتا، مگر تم ستم ظریفی دیکھو کہ اب میرے پاس اچھا گھر ہے، پیسہ ہے، گاڑی ہے، لیکن میں اس قابل نہیں کہ گاڑی میں بھی سفر کر سکوں، کسی ہوٹل میں جا کر کھانا کھا سکوں یا کسی کھوکھے پر جا کر اپنے دوستوں کے ساتھ چائے کا ایک کپ ہی پی سکوں، اس کی باتوں میں شدید کرب تھا۔

بیڈ سے اس نے ٹیک ہٹائی اور سیدھا بیٹھ کر بولا، یار یہ کینسر بہت ہی بری بیماری ہے، میں اس بیماری کے ساتھ پچھلے سات سال سے لڑ رہا ہوں، کیموتھراپی کے تکلیف دہ پراسیس نے مجھے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا ہے، میں بہت حوصلے سے اس بیماری کا مقابلہ کر رہا ہوں، مگر جب میں گزرے وقت کو سوچوں تو خیال آتا ہے کہ وہ کالج کا زمانہ کتنا اچھا تھا، جب بھلے ہی ہم ٹوٹی سائیکلوں، موٹر سائیکلوں اور بسوں پر دھکے کھا کر پڑھنے جاتے تھے، خوار ہوتے اور اس وقت لگتا تھا کہ زندگی کس قدر مشکل ہے، اور اگر انسان کے پاس پیسہ ہو تو ہم سب کچھ، اپنی مرضی کے مطابق، دنیا کی ہر چیز خرید سکتا ہے مگر آج سب کچھ ہونے کے باوجود میں اس قابل نہیں ہوں کہ چل پھر بھی سکوں۔

میں چپ چاپ اس کی گفتگو سنتا رہا، میں اس کے دکھ اور درد کو محسوس کر سکتا تھا۔ ذیشان کالج میں میرا ہم جماعت تھا، اور وہ چالیس سال کی عمر میں کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ میں اس کی باتیں سن رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ لمحہ موجود میں زندگی گزارنے کا میرا یقین اور بھی پختہ ہوتا گیا، وہ ٹھیک کہہ رہا تھا، اس دنیا میں صحت سے بڑی کوئی دولت نہیں اور صحت کے بعد زندگی کا اصل مزہ اس بات میں ہے کہ ہم زندگی کے ہر پل کو بھرپور طریقے سے گزاریں، جن لمحات کو ہم برا سمجھ رہے ہوتے ہیں، دراصل وقت کے گزر جانے کے بعد وہی وقت ہمیں اچھا لگتا ہے، وہی ماضی ہمیں حسین لگنے لگتا ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارا یہ موجودہ وقت اچھا نہیں، مگر چند سال گزرنے کے بعد ھم اسی وقت کو یاد کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ کتنا شاندار وقت تھا، 2017 میں جب مالی لحاظ سے میں تھوڑا مستحکم ہوا تو میری پہلی خواہش یہی تھی کہ والدین کو لے کر عمرہ کی ادائیگی کے لیے جاؤں، ایک دو بار یہ سوچ بھی آئی کہ اس سال رہنے دیتا ہوں، اگلے سال چلا جاؤں گا مگر اللہ نے کرم کیا اور اسی سال مئی 2017 میں اپنے والدین کو لے کر عمرہ کی ادائیگی کے لئے چلا گیا۔

میری خوش نصیبی تھی کہ والد اور والدہ کے ساتھ میں نے عمرہ کی سعادت حاصل کی، گزشتہ برس میری والدہ انتقال کر گئیں، آج میں سوچتا ہوں کہ یہ اللہ کا کرم تھا کہ میں اس وقت عمرہ کی ادائیگی کے لیے چلا گیا، میں اگر اس وقت ان کو نہ لے جاتا تو آج سوائے پچھتاوے کے میرے پلے کچھ نہ ہوتا، ہم اکثر زندگی کے خوبصورت لمحات کو یہ کہہ کر ضائع کر دیتے ہیں کہ یہ کام آج نہیں کل کر لیں گے مگر وہ کل کبھی نہیں آتا، ہم اکثر اپنے کاروبار، اپنی نوکری میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنے ماں باپ، بچوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے بھی وقت نہیں ہوتا، ہم پیسہ کمانے کی دوڑ میں اور زندگی کو خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش میں اتنے محو ہو جاتے ہیں، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر بچوں کا وہ بچپن نہیں رہتا، وہ اپنے قریبی دوست، پیارے رشتے اس دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں، جن کے پاس بیٹھ کر سکون ملتا تھا۔

ہمارے اردگرد جس طرح کچھ لوگ گزرے وقت کو یاد کر کے دکھی ہوتے ہیں، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ اپنے مستقبل کی فکر میں رہتے ہیں کہ کل ہمارا کیا بنے گا، یہ دونوں قسم کے لوگ دراصل اس زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو رہے ہوتے، جو گزر رہی ہوتی ہے۔ میرے ایک دوست گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں، میری جب بھی اس سے ملاقات ہوئی، میں نے اسے فکر مند ہی دیکھا کہ پتا نہیں آنے والے بجٹ میں گورنمنٹ ہماری کتنے فیصد تنخواہ بڑھائے گی، پتا نہیں اس ملک سے مہنگائی کب ختم ہوگی، پتا نہیں یہ حالات کب ٹھیک ہوں گے، آنے والا وقت تو اور بھی مشکل ہوتا چلا جائےگا، وغیرہ۔

میں اکثر اسے کہتا ہوں کہ اگر آج اس تنخواہ میں تمہارا اچھا گزارا ہو رہا ہے، تو فکر نہ کرو، انشاءاللہ آنے والا کل بھی تمہارے لیے اچھا ہی ہوگا، مگر اس کی پریشانی ختم نہیں ہوتی۔ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ، جو وقت کے ساتھ چلتے ہیں، جو نہ ماضی میں رہتے ہیں اور نہ مستقبل میں، وہ بس لمحہ موجود میں زندگی گزارتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل میں نے نامور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کو والدین سے گفتگو کرتے ہوئے سنا تھا، جس میں انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کا ماضی اچھا بناؤ، اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کو عجیب لگ رہا ہوگا کہ ہم ماضی کو کیسے اچھا بنا سکتے ہیں؟ پھر کہنے لگے کہ یاد رکھیں آپ کا آج دراصل آپ کے بچوں کا ماضی ہی ہوگا، آپ اپنا آج بہتر بنا لیں، آپ کے بچوں کا ماضی شاندار ہو جائے گا لہذا اچھی اور خوبصورت زندگی گزارنے کے لیے ماضی میں اتنا ہیں جھانکیں جتنا ہم کار چلاتے ہوئے بیک مررز سے دیکھتے ہیں اور لمحہ موجود میں اس طرح زندگی گزاریں کہ جس طرح فرنٹ مرر میں ہم مسلسل دیکھ رہے ہوتے ہیں، یعنی ماضی کے اچھے برے تجربات سے کچھ سیکھ کر، اپنے آج کو خوبصورت بناؤ، زندگی کے یہ گزرتے پل اپنے ہر خوبصورت رشتے کے ساتھ خوشی سے گزاریں، اصل زندگی یہی ہے۔

Check Also

Apne Khwab Na Jalayen

By Haider Javed Syed