University Of Okara Ki Adabi Wardat
یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی ادبی واردات

دوستو کل کی بات ہے، اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین نے ایک معرکہ سر انجام دیا کہ منطقہ، شعر و ادب کے میدان میں لشکر کشی کی۔ اِس کی سپہ سالاری کا عَلم ڈاکٹر گورش نیاد کے ہاتھ میں تھا۔ معاملہ یہ ہوا کہ پچھلے دِنوں اُن دونوں کے درمیان طے پایا، ن م راشد کی نظم حسن کوزہ گر کی تفہیم میں بہت سی ایسی گتھیاں ہیں جو شارحینِ راشد آج تک سلجھا نہیں پائے۔ نظم کے بیانیے میں کئی ایسے خلا ہیں جو تضادات پیدا کر دیتے ہیں۔ اُن کے سبب نظم اپنی تفہیم کا راستہ بدل دیتی ہے۔ جتنے اساتذہ اور ناقدین نے اِسے سُلجھانے کی کوشش کی وہ اور پیچیدہ کر دی۔ لہذا اِس نظم پر اوکارہ یونیورسٹی میں ایک نشست رکھ لی جائے اور علی اکبر ناطق کوبات کرنے کے لیے بلایا جائے۔ یہی ایک ایسا ذبیحہ ہے جس پر چھُری پھیرنا آسان ہے۔ چنانچہ پروگرام طے ہوگیا۔ پروگرام میں ڈاکٹر سجاد مبین صاحب نے تجویز دی کیوں نہ اوکاڑہ میں موجود ادب کے تمام اساتذہ اور شعرا کو بھی مدعو کر لیا جائے تاکہ نظم کی تفہیم کے بعد ایک مشاعرہ کا انعقاد بھی ہو جائے۔
ہم یونیورسٹی پہنچے تو پہلے وائس چانسلر کی طرف سے پھول پیش کیے گئے۔ پھر گورش صاحب نے وائس چانسلر صاحب سے ملوایا۔ ہمارے ساتھ ہی سید گلزار حسنین ایک بڑے افسانہ نگار اور مسعود احمد صاحب بھی پہنچ گئے۔ مسعود احمد کی صدارت ہر جگہ اِسی طرح لازم ہے جس طرح کھیر میں شکر کا ہونا لہذا وہ صدر ہو کر یونیورسٹی پہنچے۔ ہمارے پیچھے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج اوکاڑہ سےپروفیسر کاشف مجید اور پروفیسر سخن ور نجمی صاحب بھی احمد شہزاد لالہ کی ڈولی اٹھائے وارد ہو گئے۔ اِن کے آنے سے ہمیں ایک گونہ حوصلہ ہوا کہ میدانِ جنگ میں ہم تنہا نہیں ہیں۔ انھی کے ساتھ اوکاڑہ کے دیگر شاعر یعنی شفقت رسول قمر، مصطفیٰ مغل، پروفیسر امین انجم، چوہدری افضل گل صاحب (یہ تھانیداری بھی کرتے ہیں بلکہ شاعری میں اِسی طاقت کو استعمال کرتے ہیں) بھی آ گئے۔
یونیوورسٹی کے بڑے ہال میں اِس نشست کا اہتمام تھا۔ معمول کے مطابق درودو نعت کے بعد ہمیں یعنی ناطق کوسٹیج کی قربان گاہ پر لایا گیا کہ بھائی سخن فہمی کے دیوتا کو اپنا خون پیش کیجیے۔ ہم نے خود کو پیش کیا اور کم و بیش آدھ گھنٹہ میں حسن کوزہ گر کے پہلے حصہ کی تفہیم کی اور حیرت زدہ ہوئے کہ سامعین نے کس قدر انہماک اور جوش جذبے سے سُنی۔ ہال میں پانچ سو کے قریب سامعین موجود تھے، مجال ہے ہماری گفتگو کے دوران ایک بھی فرد نے توجہ کسی اور جانب کی ہو۔ یہ سماں دیکھ کر ہمیں اپنی سمجھ داری کے ساتھ ڈاکٹر سجاد مبین صاحب کی یونیورسٹی میں انتظامی صلاحیت کو بھی داد دینا پڑی۔ نظامت کے اختیار ڈاکٹر گورش صاحب کے پاس تھے۔ اُنھوں نے اِسے ایسی خوبی سے نبھاہا کہ آگے چل کر اُن کو طارق عزیز شو دیا جا سکتا ہے۔
مَیں یقین سے کہہ سکتا ہوں جیسی انرجی اور صلاحیتیں گورش نیاد کے پاس ہیں اور جس طریقے سے وہ اُنھیں استعمال کر رہا ہے وہ اِسے ترقی کے بلند زینے تیزی سے طے کرائے گی۔ شعرو ادب کی تفہیم میں سر توڑ کوششیں اور اُن کی فلسفیانہ تعبیریں کرنے کی جستجوئیں ڈاکٹر گورش نیاد کے مستقبل کو شہباز کے پر لگا دیں گی۔ شرط یہ ہے کہ اُسے ڈاکٹر سجاد مبین جیسےمعاملہ فہم اور زیرک وائس چانسلر کی سرپرستی ملتی رہے۔ خیر اِس کے بعد مشاعرہ ہوا اور تمام شعرا نے نہایت مختصر مگر عمدہ کلام پڑھا۔ ہم نے بھی اپنی بھیرویں الاپی۔ مشاعرہ کے بعد جیسا کہ قانون ہے وائس چانسلر صاحب نے جامع گفتگو کی۔ اُنھوں نے ادب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شعرا کا شکریہ ادا کیا۔ پھر شیلڈیں پیش کیں۔ اِس عرصہ میں ہم ڈرے ڈرے رہے کہیں ہماری تفہیم ہی نہ اُلٹ دیں مگر اُنھوں نے ہمیں معاف کر دیا۔
قصہ مختصر اگر یونیورسٹی میں اِسی طرح سلسلے ادب کے چلتے رہے تو یقین مانیں اوکاڑہ یونیورسٹی پاکستان کی تمام یونیورسٹیز کے سر کا تاج بنے گی۔ جیسے اوکاڑہ کے شاعراور ناولسٹ دنیا کے آگے خم ٹھونک کر کھڑے ہیں۔ یہ بھی خم ٹھونکے گی۔
مَیں ایک بار پھر ڈاکٹر سجاد مبین صاحب اور ڈاکٹر گورش صاحب کو تحسین پیش کروں گا۔ وہ ایسے سلسلے جاری رکھیں اور شعرا کے لیے مشاہرہ کا بھی انتظام کیا کریں۔ اِس سے اُن کی عزتِ نفس میں اضافہ ہوتا ہے۔ ویسے ضیافت میں کھیر کا التزام عمدہ تھا۔

