Qurbani Sirf Janwar Ki Nahi
قربانی صرف جانور کی نہیں
عید الاضحیٰ اسلامی تقویم کی عظیم ترین عبادات اور تہواروں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف جانور ذبح کرنے یا خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ ایثار، قربانی، اطاعتِ الٰہی، اخوت اور انسانیت کے اعلیٰ ترین اصولوں کی یاد تازہ کرنے کا موقع ہے۔ اس دن پوری دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے جذبے کو یاد کرتے ہیں۔ عید الاضحیٰ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات، مفادات اور انا کو قربان کرنا ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو"۔ (سورۃ الکوثر: 2)
اسی طرح قربانی کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے"۔ (سورۃ الحج: 37)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور اخلاص کا حصول ہے۔ اگر قربانی صرف رسم بن جائے اور اس کے پیچھے موجود روح اور مقصد کو فراموش کر دیا جائے تو اس عبادت کا اصل پیغام متاثر ہو جاتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی اطاعت اور قربانی کی روشن مثال ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے بلا تردد اس حکم کو قبول کیا۔ حضرت اسماعیلؑ نے بھی کامل رضا مندی کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ انسان کو یہ درس دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ انسان کو اپنی خواہشات، لالچ، غرور اور دنیاوی مفادات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنا چاہیے۔
آج کے دور میں عید الاضحیٰ کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ دنیا مختلف معاشی، سماجی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، نفرت، عدم برداشت اور خود غرضی نے معاشروں کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں قربانی کا فلسفہ ہمیں دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور اجتماعی بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
بدقسمتی سے بعض اوقات عید الاضحیٰ کا اصل مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے اور اس کی جگہ نمود و نمائش، مقابلہ بازی اور فضول اخراجات لے لیتے ہیں۔ قربانی کے جانور کی قیمت، جسامت یا نسل کو عزت اور برتری کا معیار بنا لیا جاتا ہے، جبکہ اسلام نے اخلاص، تقویٰ اور نیت کو اصل اہمیت دی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس عبادت کی روح کو سمجھیں اور اسے محض ایک سماجی رسم تک محدود نہ کریں۔
موجودہ حالات میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں لوگ جنگوں، بھوک، غربت اور بے گھری کا شکار ہیں، عید الاضحیٰ ہمیں انسانیت کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتی ہے۔ قربانی کا گوشت ضرورت مندوں تک پہنچانا، یتیموں، بیواؤں اور کمزور طبقات کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا اس تہوار کے حقیقی مقاصد میں شامل ہے۔ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد اس جذبے کو فروغ دیں تو غربت اور محرومی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
عید الاضحیٰ ہمیں صرف جانور قربان کرنے کا نہیں بلکہ اپنی منفی عادات کو بھی قربان کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ حسد، بغض، نفرت، جھوٹ، دھوکہ دہی، کرپشن اور خود غرضی جیسی برائیوں سے نجات حاصل کرنا بھی ایک طرح کی قربانی ہے۔ آج ہماری قوم اور امت کو سب سے زیادہ اسی اخلاقی قربانی کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے کردار، رویوں اور سوچ میں مثبت تبدیلی نہیں لائیں گے، صرف ظاہری عبادات مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قربانی کے دن انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب نہیں"۔ (سنن الترمذی)
جس شخص کو قربانی کرنے کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے"۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 3123)
یہ حدیث قربانی کی عظمت کو بیان کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی اسلام کی مجموعی تعلیمات ہمیں اخلاص، حسنِ اخلاق اور حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی درس دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قربانی کے ساتھ ساتھ ہم اپنے رویوں میں بھی بہتری پیدا کریں۔
حج اور عید الاضحیٰ کا باہمی تعلق بھی امتِ مسلمہ کے اتحاد کا عظیم مظہر ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں، رنگوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی مقصد کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام رنگ، نسل، زبان اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانوں کو بھائی چارے اور مساوات کا درس دیتا ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا تعصبات اور تقسیم کا شکار ہے، حج اور عید الاضحیٰ کا پیغام عالمی بھائی چارے اور اتحاد کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
عید الاضحیٰ دراصل ایک ایسا موقع ہے جو ہمیں اپن زندگیوں کا جائزہ لینے اور یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اگر ہم اس عید کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ بھی امن، محبت، ہمدردی اور انصاف کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عید الاضحیٰ کی حقیقی روح کو سمجھنے، اخلاص کے ساتھ قربانی کرنے اور حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ کے جذبۂ اطاعت و قربانی کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

