Saturday, 23 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Urdu: Aik Zuban Nahi, Aik Tehzeeb Hai

Urdu: Aik Zuban Nahi, Aik Tehzeeb Hai

اردو: ایک زبان نہیں، ایک تہذیب ہے

کچھ زبانیں صرف بولنے کے لیے نہیں ہوتیں، وہ انسان کے احساسات، یادوں اور پہچان کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایک ایسی ہی زبان دل کے قریب رہتی ہے، جو بچپن کی آوازوں، ماں کی باتوں اور زندگی کے ابتدائی خوابوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے مگر اس زبان کی مٹھاس انسان کے لہجے اور سوچ میں باقی رہتی ہے۔

اردو زبان بھی اسکے بولنے اور سمجھنے والوں کے لیئے ایسی ہی ہے۔ اس میں ایک عجیب سی نرمی اور کشش ہے۔ اس کے لفظ صرف سنے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ جب یہ زبان بولی جائے تو یوں لگتا ہے جیسے دل کی بات آہستہ سے کانوں میں اتر رہی ہو۔ اس کے لفظوں میں محبت بھی ہے، تہذیب بھی اور ایک ایسا اپنائیت بھرا احساس بھی جو انسان کو اپنی جڑوں سے وابستہ رکھتا ہے۔

اردو زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ثقافت، ایک روایت اور ایک جذبے کی علامت ہے۔ اسے سیکھنا، بولنا اور زندہ رکھنا دراصل اپنی شناخت کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔ انسان جب اپنی زبان سے محبت کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی تاریخ، اپنے لوگوں اور اپنے احساسات سے محبت کرتا ہے۔

اردو برصغیر کی اُن چند زبانوں میں سے ہے جو محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک طرزِ احساس اور ایک اجتماعی شعور کی علامت بن گئیں۔ یہ زبان صدیوں کے تہذیبی میل جول، مختلف قوموں کے اختلاط اور انسانی تجربات کے امتزاج سے وجود میں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے بارے میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ ایک زبان ہے، درحقیقت اردو ایک زندہ تہذیب ہے۔

معروف دانشور ڈاکٹر عارفہ سیدہ زھرہ اکثر کہتی ہیں کہ "اردو صرف بولنا نہیں سکھاتی، اردو انسان ہونا سکھاتی ہے"۔ اس جملے میں اردو کی پوری روح پوشیدہ ہے۔ اردو کے الفاظ میں احترام، شائستگی اور محبت کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ کم ہی زبانوں کا خاصہ ہے۔ "تشریف رکھیے"، "مہربانی فرمائیے"، "اجازت دیجیے" جیسے جملے صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک اخلاقی تربیت ہیں۔ اردو انسان کو گفتگو کا سلیقہ عطا کرتی ہے اور اختلاف میں بھی احترام قائم رکھنا سکھاتی ہے۔

اردو کی تاریخ بھی اسی تہذیبی حسن کی آئینہ دار ہے۔ یہ زبان کسی ایک مذہب، نسل یا خطے کی پیداوار نہیں۔ اس کی بنیاد میں فارسی، عربی، ترکی، پنجابی، برج بھاشا، ہندی اور مقامی بولیوں کا اشتراک شامل ہے۔ یہی امتزاج اردو کو وسعتِ قلب اور رواداری عطا کرتا ہے۔ مشہور شاعر اور دانشور جناب جاوید اختر صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ "زبانوں کا تعلق مذہب سے نہیں، تہذیب اور جغرافیے سے ہوتا ہے"۔ ان کے مطابق اردو کسی خاص طبقے یا مذہب کی زبان نہیں بلکہ پورے ہندوستانی تہذیب کی مشترکہ میراث ہے۔ بدقسمتی سے وقت کے ساتھ زبانوں کو مذہبی اور سیاسی خانوں میں تقسیم کیا گیا، جس سے اردو کے حقیقی تشخص کو نقصان پہنچا۔

اردو کی سب سے بڑی طاقت اس کی شاعری اور ادبی روایت ہے۔ مرزا غالب، میر تقی میر، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض جیسے شاعروں نے اردو کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے انسانی جذبات اور فکری شعور کی زبان بنا دیا۔ اردو شاعری میں محبت بھی ہے، فلسفہ بھی، احتجاج بھی اور امید بھی۔ غالب کا یہ شعر دیکھیے:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

یہ اشعار صرف ادب نہیں بلکہ انسانی زندگی کے گہرے تجربات کی ترجمانی ہیں۔

اسی طرح گلزار صاحب نے اردو کو روزمرہ زندگی کی خوشبو سے جوڑا۔ گلزار کی تحریروں میں اردو نہایت نرم، سادہ اور دل کے قریب محسوس ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک زبان وہ ہوتی ہے جو انسان کے جذبات کو چھو سکے۔ ان کی شاعری میں اردو کبھی بارش کی بوند بن جاتی ہے، کبھی ماں کی لوری اور کبھی بچھڑنے والوں کی خاموشی۔ گلزار نے اردو کو جدید نسل کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا اور ثابت کیا کہ یہ زبان آج بھی زندہ، متحرک اور خوبصورت ہے۔

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جدید دور میں اردو کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انگریزی کو تعلیم، ترقی اور کامیابی کی علامت سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ اپنی زبانوں کو کمتر تصور کیا جانے لگا ہے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ اس رویے کو "غلامی کی ذہنیت" قرار دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو قوم اپنی زبان کھو دیتی ہے، وہ اپنی تاریخ، تہذیب اور شناخت بھی آہستہ آہستہ کھو دیتی ہے۔ زبان صرف رابطہ نہیں بلکہ قوموں کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو محض نصابی مضمون نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اپنی ثقافت، ادب اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ بچوں کو اردو پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کی ترغیب دی جائے۔ جدید میڈیا، فلم، موسیقی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اردو کو نئی نسل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی زبان سے تعلق مضبوط رکھا تو ہم اپنی تہذیبی جڑوں سے بھی جڑے رہیں گے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو واقعی ایک زبان سے بڑھ کر ایک تہذیب ہے۔ اس میں محبت کا سلیقہ ہے، گفتگو کا وقار ہے اور انسانیت کی خوشبو ہے۔ اردو ہمیں صرف الفاظ نہیں دیتی بلکہ ایک بہتر انسان بننے کا شعور عطا کرتی ہے۔ یہی اس زبان کا سب سے بڑا حسن اور اس کی اصل عظمت ہے۔

Check Also

Safarat Kari Se Paidar Aman

By Hameed Ullah Bhatti