Saturday, 16 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Pakistan, Jang Aur Mehangai: Aik Aam Shehri Ka Khof

Pakistan, Jang Aur Mehangai: Aik Aam Shehri Ka Khof

پاکستان، جنگ اور مہنگائی: ایک عام شہری کا خوف

پاکستانیوں کے لیے ایران، اسرائیل، امریکہ اور مختلف عرب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی محض ایک دور دراز جنگ نہیں رہی، بلکہ ایک ایسا خطرناک بحران بن چکی ہے جس کے اثرات براہِ راست پاکستان پر پڑ سکتے اور درحقیقت پڑ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، معاشی اور سیاسی تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ وہاں کسی بڑی جنگ کا مطلب ہمارے لیے بھی شدید مشکلات ہو سکتا ہے۔

لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ ہماری معیشت بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل بن سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب لوگ پہلے ہی بجلی، پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں، ایک نئی علاقائی جنگ پاکستان کے لیے معاشی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

پاکستان میں بہت سے لوگ فطری طور پر اس تنازع کے مختلف فریقوں کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ کچھ ایران کے ساتھ ہمدردی محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمارا پڑوسی ہے اور مغربی دباؤ کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے، جبکہ کچھ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے قریب ہیں کیونکہ ان کے ساتھ مذہبی اور تاریخی تعلقات موجود ہیں۔ لیکن یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو انتہائی دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔ اگر ہم کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دیتے ہیں تو نہ صرف ہمارے اہم تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان ماضی میں بیرونی جنگوں کا حصہ بن کر بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔ افغان جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ہمیں دہشت گردی، بدامنی اور معاشی مشکلات دی ہیں جن کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ اس تجربے سے ہمیں یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ پاکستان کو دوبارہ کسی بڑی طاقت کے مفادات کی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست نہیں بننا چاہیے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک متوازن اور آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے۔ ہمیں ایران، سعودی عرب، ترکی، چین، امریکہ اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں، مگر کسی فوجی اتحاد یا جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان کا کردار ایک امن پسند ثالث کا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی جنگ میں شریک فریق کا۔

ساتھ ہی پاکستان کو اپنے اندرونی حالات پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ بیرونی تنازعات کو ملک کے اندر سنی-شیعہ تقسیم کو ہوا دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ قومی اتحاد کو فرقہ وارانہ یا بیرونی سیاسی وابستگیوں پر فوقیت دینا ہوگی۔ نفرت انگیز بیانیے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اشتعال انگیزی کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بحران ایک اور حقیقت بھی واضح کرتا ہے کہ معاشی طور پر کمزور ممالک آزاد خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتے۔ پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط بنانی ہوگی، توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور گورننس بہتر بنانی ہوگی تاکہ ہم بیرونی دباؤ اور علاقائی عدم استحکام سے کم متاثر ہوں۔

آخر میں، ایک عام پاکستانی کی خواہش صرف امن، استحکام اور معاشی تحفظ ہے، نہ کہ ایک اور جنگ۔ پاکستان کا اصل قومی مفاد اسی میں ہے کہ وہ جذبات کے بجائے دانشمندی سے فیصلے کرے، غیر جانبدار رہے اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے۔ ہمارا مستقبل کسی نئی جنگ میں شامل ہونے میں نہیں بلکہ اپنے عوام، معیشت اور قومی اتحاد کے تحفظ میں ہے۔

Check Also

Molana Ki Karahi Mein Ghan Garaj

By Mushtaq Ur Rahman Zahid