Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Agar Jang Par Kharch Hone Wala Paisa Zindagion Par Lagaya Jaye To?

Agar Jang Par Kharch Hone Wala Paisa Zindagion Par Lagaya Jaye To?

اگر جنگ پر خرچ ہونے والا پیسہ زندگیوں پر لگایا جائے تو؟

Stockholm International Peace Research Institute کیمطابق صرف گذشتہ سال دنیا نے اپنی فوجوں پر تقریباً 2.8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔ یہ ایک ایسا عدد ہے جسے ہم پڑھ تو لیتے ہیں، مگر محسوس نہیں کر پاتے۔ کیونکہ اتنی بڑی رقم کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف حساب نہیں، بلکہ دل کی آنکھ بھی چاہیے۔

ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں۔

اسی دنیا میں، اس لمحہ، کوئی ماں اپنے بچے کو بھوکا سلا رہی ہے۔ کوئی باپ اپنے بیمار بیٹے کے لیے دوا نہیں خرید سکتا۔ کہیں ایک بچی اسکول جانے کے بجائے پانی بھرنے کے لیے میلوں پیدل چل رہی ہے۔

اور پھر ہم سنتے ہیں: دنیا کے پاس وسائل کم ہیں۔ کیا واقعی؟

اقوام متحدہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ پوری دنیا سے شدید بھوک ختم کرنے کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر سے بھی کم رقم کافی ہو سکتی ہے۔ انتہائی غربت کے خاتمے کے لیے تقریباً 300 ارب ڈالر درکار ہیں۔ یعنی وہ سب کچھ جس سے کروڑوں زندگیاں بدل سکتی ہیں، وہ اس رقم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو ہم ہر سال جنگ کی تیاری پر خرچ کر دیتے ہیں۔

یہ صرف اعداد نہیں ہیں۔ یہ فیصلے ہیں۔

یہ کہنا آسان ہے کہ دنیا پیچیدہ ہے، کہ ممالک کو اپنی حفاظت کرنی ہوتی ہے، کہ خطرات حقیقی ہیں۔ یہ سب درست ہے۔ مگر کیا یہ بھی درست نہیں کہ بھوک بھی ایک خطرہ ہے؟ غربت بھی ایک جنگ ہے؟ بیماری بھی ایک دشمن ہے، جو خاموشی سے، روزانہ، لاکھوں جانیں لے لیتا ہے؟

اگر ہم صرف فوجی اخراجات کا ایک حصہ، مثلاََ صرف 20 فیصد، انسانی بہبود پر لگا دیں، تو ہر سال 500 ارب ڈالر سے زیادہ رقم دستیاب ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف بھوک اور شدید غربت کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ بنیادی صحت، تعلیم اور موسمیاتی تحفظ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

سوچیں، کتنی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ سوچیں، کتنے خواب جنم لے سکتے ہیں۔ تو پھر ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ شاید اس لیے کہ ہم ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہم نے سلامتی کو صرف ہتھیاروں سے جوڑ دیا ہے۔ شاید اس لیے کہ کچھ نظام، کچھ مفادات، اسی توازن کو برقرار رکھنے میں فائدہ دیکھتے ہیں۔

مگر سچ یہ ہے کہ ایک بھوکا بچہ کسی سرحد کو نہیں جانتا۔ ایک بیمار انسان کسی جھنڈے کا محتاج نہیں ہوتا۔ انسانی تکلیف کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔

ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ہم نے خود کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ہم سب کو بچا نہیں سکتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں، اگر ہم چاہیں!

یہ سوال صرف معاشیات کا نہیں ہے۔ یہ سوال انسانیت کا ہے۔ ہم کس قسم کی دنیا بنانا چاہتے ہیں؟ وہ جہاں ہم خود کو محفوظ سمجھنے کے لیے ہتھیار جمع کرتے رہیں؟

یا وہ جہاں ہم ایک دوسرے کو محفوظ بنانے کے لیے ہاتھ بڑھائیں؟ کیونکہ آخرکار، اصل سلامتی ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں وہ اس یقین سے آئے گی کہ جب کوئی بھی بچہ بھوکا نہیں سوئے گا، کہ کوئی بھی انسان صرف غربت کی وجہ سے نہیں مرے گا اور کہ ہماری ترجیحات میں زندگی، جنگ پر بھاری ہے اور شاید، بس شاید، یہی وہ جنگ ہے جسے جیتنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔

Check Also

Zara Nam Ho To

By Dr. Ijaz Ahmad