Ikhlaq Ki Talash Mein Bhatakta Insan Aur Edmund Spenser
اخلاق کی تلاش میں بھٹکتا انسان اور اڈمنڈ سپنسر

اڈمنڈ سپنسر کی شہرۂ آفاق نظم The Faerie Queene انگریزی ادب کی اُن تخلیقات میں شمار ہوتی ہے جو وقت کی گرد سے محفوظ رہتی ہیں۔ اگرچہ یہ نظم سولہویں صدی میں لکھی گئی، مگر اس میں پیش کیے گئے اخلاقی سوالات آج بھی اتنے ہی زندہ اور توانا ہیں جتنے اس کے عہد میں تھے۔ بظاہر یہ نظم پریوں، جادو، شہسواروں اور مہمات کی داستان ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسانی کردار، اخلاقی کشمکش اور روحانی تربیت کا ایک گہرا استعارہ ہے۔
سپنسر نے خود واضح کیا تھا کہ اس نظم کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی تشکیل ہے جو اخلاق، شرافت اور ضبطِ نفس میں مثالی ہو۔ اسی لیے The Faerie Queene کو ایک مکمل اخلاقی تمثیل کہا جاتا ہے، جہاں ہر کردار، ہر واقعہ اور ہر مقام کسی نہ کسی انسانی صفت کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔
نظم کے مختلف حصوں میں پیش کیے گئے کردار دراصل انسانی زندگی کے مختلف اخلاقی مراحل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ریڈ کراس نائٹ تقدس اور ایمان کا استعارہ ہے، جو فریب، غرور اور مایوسی سے گزر کر سچائی تک پہنچتا ہے۔ سر گائیون اعتدال کی علامت ہے، جو خواہشات کے طوفان میں توازن قائم رکھنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ بریٹومارٹ پاکیزگی اور عفت کا تصور پیش کرتی ہے، جب کہ آرٹیگیل انصاف کی عملی تصویر ہے۔ ان تمام کرداروں کے تجربات انسانی زندگی کی داخلی جنگ کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں اصل دشمن باہر نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر ہوتا ہے۔
نظم کا مذہبی پہلو بھی نہایت مضبوط ہے۔ "اُونا" سچائی اور خالص ایمان کی نمائندہ ہے، جب کہ "ڈیوایسا" جھوٹ، فریب اور ظاہری خوبصورتی کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔ ریڈ کراس نائٹ کا بار بار دھوکے میں آ جانا اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسان اکثر سچ کو پہچاننے میں غلطی کر بیٹھتا ہے۔ مگر بالآخر توبہ، صبر اور استقامت کے ذریعے وہ اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ یہ روحانی سفر آج کے انسان کے لیے بھی اتنا ہی معنی خیز ہے جتنا ماضی میں تھا۔
سیاسی اعتبار سے بھی یہ نظم غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ فیری کوئین گلوریانا کو اس وقت کی ملکہ الزبتھ اوّل کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ پوری پریوں کی سلطنت ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کرتی ہے۔ سپنسر کے نزدیک ریاست کی بقا طاقت، جنگ یا دولت میں نہیں بلکہ اخلاقی قیادت میں مضمر ہے۔ وہ یہ پیغام دیتا ہے کہ جب حکمران انصاف، شائستگی اور دیانت سے محروم ہو جائیں تو سلطنتیں محض ظاہری ڈھانچے بن کر رہ جاتی ہیں۔
اگر ہم آج کی دنیا پر نگاہ ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود انسان اخلاقی اعتبار سے شدید انتشار کا شکار ہے۔ مادہ پرستی نے اقدار کی جگہ لے لی ہے، سچ اور جھوٹ میں فرق دھندلا چکا ہے اور طاقت کو حق سمجھ لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کی چکاچوند، جھوٹی خبروں اور مصنوعی تشخص نے ایک نئی "ڈیوایسا" کو جنم دیا ہے جو خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر حقیقت سے خالی ہے۔ ایسے ماحول میں سپنسر کی آواز ایک اخلاقی تنبیہ بن کر ابھرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اڈمنڈ سپنسر آج کے طالب علم کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ادب کو محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد اچھا انسان بنانا ہے، نہ کہ صرف معاشی کامیابی حاصل کرنا۔ موجودہ تعلیمی نظام، جہاں ڈگری کو اخلاق پر فوقیت حاصل ہے، سپنسر کے تصور سے ایک واضح تضاد رکھتا ہے۔
سپنسر کی تمثیلی تکنیک طالب علم کو گہرے فکری شعور سے آشنا کرتی ہے۔ وہ سکھاتا ہے کہ ہر تحریر ایک سطحی معنی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر کئی فکری پرتیں چھپی ہوتی ہیں۔ یہی صلاحیت تنقیدی سوچ کو جنم دیتی ہے جو نہ صرف ادب بلکہ معاشرتی معاملات کو سمجھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقابلے کے امتحانات، خصوصاً CSS میں، سپنسر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اگرچہ بعض ناقدین اس کی زبان کو مشکل اور نظم کو طویل قرار دیتے ہیں، مگر اس کی اخلاقی وسعت اور فکری گہرائی اسے لازوال بنا دیتی ہے۔ اس کا ادب ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ تہذیبیں صرف قوانین سے نہیں بلکہ کردار سے قائم ہوتی ہیں اور جب کردار کمزور پڑ جائے تو ترقی یافتہ معاشرے بھی زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یوں The Faerie Queene محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال کا آئینہ ہے۔ یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی طاقت میں نہیں بلکہ اخلاق میں ہے، اصل خوبصورتی ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے اور اصل ہیرو وہ ہے جو اپنی خواہشات اور فریب پر قابو پا لے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اڈمنڈ سپنسر صدیوں بعد بھی ہمارے عہد سے ہم کلام نظر آتا ہے، کیونکہ اخلاق کی ضرورت کبھی پرانی نہیں ہوتی۔

