Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Afifa Shahwar
  4. Chaucer Ki Canterbury Tales Mein Kirdaron Ki Afaqiat

Chaucer Ki Canterbury Tales Mein Kirdaron Ki Afaqiat

چوسر کی کینٹربری ٹیلز میں کرداروں کی آفاقیت

جیفری چوسر کی شہرۂ آفاق تصنیف کینٹربری ٹیلز محض قرونِ وسطیٰ کے انگلستان کی کہانیاں نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایسا آئینہ ہے جس میں ہر دور اور ہر معاشرے کے لوگ اپنی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ چوسر کے کردار اسی لیے آفاقی ہیں کہ وہ مخصوص زمانے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ آج کے قاری سے بھی براہِ راست تعلق قائم کرتے ہیں۔ اگر ان کرداروں کا موازنہ پاکستانی ڈراموں کے کرداروں سے کیا جائے تو یہ آفاقیت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔

مثال کے طور پر وائف آف باتھ کو لیجیے۔ وہ ایک خود اعتماد، بے باک اور تجربہ کار عورت ہے جو شادی، مردانہ بالادستی اور عورت کے اختیار پر کھل کر بات کرتی ہے۔ پاکستانی ڈراموں میں ہمیں ایسی عورتیں اکثر نظر آتی ہیں، جیسے وہ خواتین کردار جو روایتی سماج میں رہتے ہوئے بھی اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہیں، معاشرتی دباؤ کو چیلنج کرتی ہیں اور اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ یہی مماثلت وائف آف باتھ کو آج کی عورت سے جوڑ دیتی ہے۔

اسی طرح پارڈنر اور سومونر مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، نیکی کا لبادہ اوڑھ کر اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔ پاکستانی ڈراموں میں ایسے کردار بکثرت ملتے ہیں جو بظاہر نہایت نیک، مذہبی یا معزز دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے لالچی، مفاد پرست اور دوغلے ہوتے ہیں۔ یہ کردار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مذہبی منافقت صرف چوسر کے دور کا مسئلہ نہیں بلکہ آج بھی معاشرے میں موجود ہے۔

نائٹ ایک باوقار، ایماندار اور اصول پسند کردار ہے جو عزت، وفاداری اور اخلاقی قدروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستانی ڈراموں میں بھی ایسے کردار نظر آتے ہیں جو طاقت یا دولت کے بجائے کردار اور اصولوں پر یقین رکھتے ہیں، جیسے وہ بااصول باپ یا افسر جو ہر حال میں سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ نائٹ کی یہ خصوصیت اسے ہر دور میں قابلِ احترام بناتی ہے۔

اسی طرح ملر ایک چالاک، زبان دراز اور خود غرض انسان ہے جو موقع سے فائدہ اٹھانا جانتا ہے۔ یہ کردار ہمیں پاکستانی ڈراموں کے ان کرداروں کی یاد دلاتا ہے جو ہر محفل میں ہنسی مذاق اور ہوشیاری سے دوسروں کو بیوقوف بناتے ہیں، مگر اصل میں اپنے فائدے کے سوا کچھ نہیں سوچتے۔

چوسر کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کو فرشتے یا شیطان بنا کر پیش نہیں کرتا بلکہ انہیں انسان کی طرح کمزوریوں اور خوبیوں کے ساتھ دکھاتا ہے۔ یہی حقیقت پسندی پاکستانی ڈراموں میں بھی مقبول ہے، جہاں کردار مکمل طور پر اچھے یا برے نہیں بلکہ حالات کے ہاتھوں مجبور انسان دکھائے جاتے ہیں۔

الغرض، کینٹربری ٹیلز کے کردار اور پاکستانی ڈراموں کے کردار اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی فطرت صدیوں میں نہیں بدلتی۔ لالچ، محبت، طاقت، منافقت، خودداری اور جدوجہد ہر معاشرے میں یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوسر کے کردار آج بھی زندہ محسوس ہوتے ہیں اور پاکستانی قاری بھی ان میں اپنے اردگرد کے لوگوں کی پہچان کر لیتا ہے۔

Check Also

Field Marshal General Asim Munir Ke Naam

By Rauf Klasra