Ye Mayari Sahafat Nahi
یہ معیاری صحافت نہیں

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت تھے۔ اس موقع پر پاکستانی صحافت سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس کی نزاکت، اہمیت اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی، مگر افسوس کہ ہمارے میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اس موقع پر جس غیر سنجیدگی، سطحیت اور غیر پیشہ ورانہ رویے کا اظہار کیا، وہ نہایت مایوس کن ہے۔ جہاں توجہ مذاکرات کے ایجنڈے، ممکنہ نتائج، علاقائی اثرات، عالمی سیاست کی نئی صف بندی اور دونوں ممالک کے مؤقف پر مرکوز ہونی چاہیے تھی، وہاں پاکستان کے کئی صحافیوں کی گفتگو جناح کنونشن سینٹر کی چائے، کھانے، وائی فائی اور دیگر سہولیات تک محدود رہی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف مضحکہ خیز تھا بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت دیتا ہے کہ ہم ابھی تک صحافت کی بنیادی روح سے پوری طرح آشنا نہیں ہو سکے۔ بعض افراد نے محض توجہ حاصل کرنے کے لیے غیر سنجیدہ انداز اور غیر مناسب طرزِ پیشکش اختیار کیا، جو کسی بھی طور پیشہ ورانہ صحافت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ یہ واقعہ کوئی اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں، بلکہ اس پورے نظام کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہماری صحافت کئی برسوں سے الجھی ہوئی ہے۔
آج پاکستان میں صحافت ایک سنجیدہ فکری و تحقیقی عمل کے بجائے بڑی حد تک ایک کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بیشتر میڈیا ہاؤسز کا بنیادی مقصد عوام کو باخبر رکھنا نہیں، بلکہ اپنے معاشی مفادات کا تحفظ بن چکا ہے۔ جب میڈیا ادارے خود کاروباری گروپس، سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات یا مفاداتی حلقوں کی ملکیت ہوں اور کئی لوگوں بڑی سفارشوں سے معروف صحافی شمار ہونے لگیں تو ان سے غیر جانبدار، معیاری اور اصولی صحافت کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس بگاڑ کی ایک بڑی وجہ بھرتیوں کا غیر معیاری نظام بھی ہے۔ آج کسی فرد کے لیے صحافی بننے کا معیار اس کی علمی قابلیت، تحقیق کی مہارت یا خبر کی سوجھ بوجھ نہیں رہا، بلکہ اس کی "وائرل ہونے" کی صلاحیت بن چکی ہے۔ جو شخص سوشل میڈیا پر شور برپا کر سکتا ہے، سنسنی پھیلا سکتا ہے یا متنازع اور جھوٹے مواد کے ذریعے توجہ حاصل کر سکتا ہے، وہی کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سنجیدہ، محنتی اور اصول پسند افراد خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگتے ہیں۔
یوٹیوب اور سوشل میڈیا نے بلاشبہ اظہار کے مواقع فراہم کیے ہیں، مگر اس کے ساتھ جھوٹ، مبالغہ اور غیر مصدقہ معلومات کا سیلاب بھی آیا ہے۔ ہر شخص نے کیمرہ اٹھایا، یوٹیوب چینل بنایا اور خود کو صحافی یا تجزیہ کار قرار دے دیا۔ نہ کوئی ادارتی نگرانی، نہ کوئی اخلاقی ضابطہ اور نہ ہی جوابدہی کا کوئی مؤثر نظام ہے۔ نتیجتاً افواہوں اور سنسنی خیزی نے اصل صحافت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ چند روز قبل ایک بڑے چینل کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی غیر مصدقہ خبر نشر کرنا اسی بحران کی ایک واضح مثال ہے۔ بغیر تصدیق کے ایسی خبر چلانا نہ صرف غیر ذمہ داری ہے بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ کھلواڑ بھی ہے۔ جب نظام کی بنیادیں کمزور ہوں تو ایسے واقعات معمول بن جاتے ہیں۔
نچلی سطح پر صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے افراد "صحافی" بنے بیٹھے ہیں جن کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی نے اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل پر "پریس" لکھوا لیا، کسی نے ایک کارڈ بنوا لیا اور خود کو میڈیا نمائندہ ظاہر کرنے لگا۔ ان میں سے بعض افراد اس حیثیت کو بلیک میلنگ، ذاتی مفادات کے حصول اور اپنے کاروبار کے تحفظ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ رجحان اس پیشے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ اس تمام صورتحال میں اصل صحافی سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ وہ صحافی جو خبر کی تلاش میں نکلتا ہے، تصدیق کے مراحل سے گزرتا ہے، ذرائع بناتا ہے اور اپنی پیشہ ورانہ ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہی اس نظام میں سب سے زیادہ مظلوم ہے۔ کم تنخواہیں، غیر یقینی مستقبل اور ادارہ جاتی دباؤ اسے کئی بار سمجھوتوں پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پچاس یا ساٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے صحافی سے عالمی معیار کی تحقیقاتی صحافت کی توقع رکھنا بھی حقیقت پسندانہ نہیں۔
عالمی صحافت کا معیار اس لیے بلند ہے کہ وہاں خبر کو ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، نہ کہ محض کاروبار۔ رپورٹرز کو وسائل، ادارتی معاونت اور ایک ایسا نظام میسر ہوتا ہے جو انہیں سچ کی تلاش میں سہارا دیتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی بڑی عالمی پیش رفت ہوتی ہے تو دنیا سی این این، بی بی سی یا الجزیرہ جیسے اداروں کی طرف رجوع کرتی ہے، خود اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران ہمارے ملک کے صحافی ان عالمی اداروں سے خبریں لے کر شیئر کرتے رہے۔ میڈیا اداروں کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی، بھرتیوں میں معیار کو مقدم رکھنا ہوگا اور صحافیوں کو بہتر مالی و پیشہ ورانہ سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر ضابطہ اخلاق اور اس پر سختی سے عملدرآمد بھی ناگزیر ہے تاکہ جھوٹ، سنسنی خیزی اور غیر ذمہ داری کا سدباب کیا جا سکے۔ صحافت محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو قوموں کی فکری سمت کا تعین کرتی ہے، عوامی شعور کو بیدار کرتی ہے اور حکمرانوں کو جوابدہ بناتی ہے۔ اگر یہ امانت نااہل ہاتھوں میں چلی جائے تو اس کے اثرات صرف میڈیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت چکاتا ہے۔

