Lalach, Andha Etemad Aur Mazhabi Huliye Ka Khel
لالچ، اندھا اعتماد اور مذہبی حلیے کا کھیل

سوشل میڈیا کے اس ہنگامہ خیز دور میں ہر چند ماہ بعد ایک نئی کہانی سامنے آتی ہے۔ کسی کے چار ملین ڈوب جاتے ہیں، کسی کے بیس ملین اور کہیں کروڑوں روپے لمحوں میں ہوا ہو جاتے ہیں۔ محمد نعمان بخاری لکھتے ہیں کہ ایک مولانا صاحب کئی سال سے ان کے چار ملین روپے دبائے بیٹھے ہیں اور اب بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں، یوں واپسی کی امید بھی دم توڑ چکی ہے۔ ایک اور صاحب شکوہ کرتے ہیں کہ ایک مذہبی شخصیت ان کے بیس ملین روپے ہڑپ کر گئی۔ ان پوسٹس کے نیچے کمنٹس میں ایسے لوگوں کی طویل فہرست سامنے آتی ہے جو اپنے اپنے دکھ بیان کر رہے ہیں۔ کسی کے ساتھ لاکھوں کا، کسی کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ ہو چکا ہے۔ ان میں بیشتر متاثرین اور ملزمان مذہبی شناخت رکھنے والے ہیں۔
یہ واقعات اب اتنے عام ہو چکے ہیں کہ حیرت کم اور افسوس زیادہ ہوتا ہے۔ اندھا اعتماد اکثر سب کچھ برباد کر دیتا ہے اور اس کے پیچھے عموماً دونوں طرف کا لالچ کارفرما ہوتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب بار بار کیوں ہو رہا ہے؟ کیا فراڈی حد سے زیادہ ذہین ہو گئے ہیں یا لوگ غیر معمولی حد تک سادہ لوح ہیں؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی نفسیاتی کمزوری "مذہبی تاثر" ہے، جسے بڑی مہارت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
داڑھی، پگڑی، جبہ اور قبہ بلاشبہ دین کی علامات ہو سکتی ہیں، مگر انہیں دیانت داری کی ضمانت سمجھ لینا ایک خطرناک مغالطہ ہے۔ مذہب کسی بھی غلط چیز کی اجازت نہیں دیتا، لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ اپنے غلط مقاصد کے لیے مذہبی حلیہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ علامات بعض اوقات بطور "ٹول" استعمال ہوتی ہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ مذہبی حلیہ اختیار کرکے اعتماد حاصل کرنا آسان ہے اور پھر اسی اعتماد کو سرمایہ میں بدلنا اس سے بھی آسان تر ہو جاتا ہے۔
نیکی کا تعلق صرف عبادات سے نہیں، بلکہ معاملات سے بھی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بڑے بڑے عبادت گزار بھی مالی معاملات میں لغزش کا شکار ہوئے۔
دنیا بھر میں پارٹنرشپ، مضاربہ اور دیگر ماڈلز کے ذریعے کاروبار کیے جاتے ہیں، مگر جہاں سرمایہ کاری علم اور تحقیق کی بجائے محض لالچ اور اندھے اعتماد پر ہو، وہاں نقصان یقینی ہو جاتا ہے۔ ہم سوال ہی غلط پوچھتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں: "کتنا منافع ملے گا؟" جبکہ اصل سوال یہ ہونے چاہئیں: یہ کاروبار ہے کیا؟ سرمایہ کہاں استعمال ہوگا؟ رسک کیا ہے؟ نقصان کی صورت میں ذمہ داری کس کی ہوگی؟ کیا کوئی باقاعدہ قانونی معاہدہ موجود ہے؟ اور سب سے اہم یہ کہ کیا یہ کاروبار جائز بھی ہے یا نہیں؟ اگر یہ سوالات ابتدا میں ہی پوچھ لیے جائیں اور شرعی و قانونی اصولوں کے مطابق تحریری شکل میں طے کر لیے جائیں تو آدھے دھوکے وہیں دم توڑ دیتے ہیں۔ مگر لالچ کے ہاتھوں ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔
آج کا فراڈی صرف جھوٹ نہیں بولتا، بلکہ ایک مکمل "کردار" تخلیق کرتا ہے۔ مہنگی گاڑیاں، عالی شان دفاتر، بیرونِ ملک دوروں کی تصاویر، معروف شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس کھیل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ ایک پرتعیش زندگی کی نمائش کے ذریعے لوگوں کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ "ہم کامیاب ہیں، ہمیں آپ کے پیسے کی ضرورت نہیں، بلکہ آپ ہمارے ساتھ شامل ہو کر کامیاب ہو سکتے ہیں"۔
یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں عقل پسِ پشت چلی جاتی ہے اور خواہشات فیصلہ کرنے لگتی ہیں۔ پھر کہانی کا اگلا حصہ شروع ہوتا ہے۔ ابتدا میں منافع دیا جاتا ہے تاکہ اعتماد قائم ہو جائے۔ لوگ خود بھی مزید سرمایہ لگاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں، مگر جیسے ہی سرمایہ ایک حد سے بڑھتا ہے، ادائیگیاں رک جاتی ہیں، بہانے شروع ہو جاتے ہیں اور ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ "صاحب" بھاری رقوم لے کر منظر سے غائب ہو چکے ہیں۔ ہر نقصان فراڈ نہیں ہوتا۔ کاروبار میں نقصان ایک حقیقت ہے، مگر جب کوئی شخص دانستہ طور پر سرمایہ لے کر غائب ہو جائے یا اسے ذاتی عیش و عشرت پر خرچ کرے تو یہ کھلا فراڈ ہے۔ "گھر بیٹھے منافع" اور "کم وقت میں دگنی کمائی" جیسے خواب حقیقت سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ڈبل شاہ اور مضاربہ اسکینڈلز اسی لالچ کا نتیجہ تھے۔ دنیا میں کوئی بھی پائیدار کاروبار بغیر محنت، وقت اور رسک کے نہیں چل سکتا۔ جو خود مستحکم نہیں، وہ آپ کو استحکام کیسے دے سکتا ہے؟
ان حالات میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس دوڑ میں بعض مذہبی شخصیات کا ملوث ہونا بھی سامنے آ رہا ہے، حالانکہ مذہب تو حرص و ہوس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات اور قرونِ اولیٰ کی شخصیات کا مطالعہ کریں تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے، جہاں دولت تھی مگر دیانت کے ساتھ، وسائل تھے مگر حدود کے اندر اور مال تھا مگر اللہ کی راہ میں خرچ ہونے والا۔ مگر آج صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ کچھ مذہبی شخصیات پیسے کی ہوس میں اس قدر آگے بڑھ چکی ہیں کہ جائز و ناجائز کی تمیز دھندلا رہی ہے۔
مالی بے ضابطگیوں اور فراڈ کی کہانیاں عام ہو چکی ہیں اور سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف مذہب کی روح کے خلاف ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید مجروح کر رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار بدل چکا ہے۔ اب عزت علم، کردار اور تقویٰ سے نہیں، بلکہ دولت، گاڑیوں اور ظاہری حیثیت سے جڑی نظر آتی ہے۔ کئی مذہبی شخصیات، علماء، پیر اور خانقاہوں کے گدی نشین بھی انہی لوگوں کے گرد جمع دکھائی دیتے ہیں جن کے پاس دولت زیادہ ہو، چاہے وہ کسی بھی ذریعے سے حاصل کی گئی ہو۔ یوں ایک مصنوعی تقدس اور دکھاوے کا ماحول جنم لے چکا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ جذبات کے بجائے شعور کو اپنائیں۔ سرمایہ کاری سے پہلے تحقیق کو لازم کریں، قانونی تقاضے پورے کریں اور سب سے بڑھ کر اپنی خواہشات کو قابو میں رکھیں۔ اندھا اعتماد چاہے کسی پر بھی ہو، انجام ہمیشہ اندھیری گلی میں لے جاتا ہے۔ ظاہری مذہب کو معیار نہ بنائیں، کردار اور معاملات کو دیکھیں۔ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کریں۔ قانونی اور شرعی معاہدے کے بغیر ایک روپیہ بھی نہ دیں۔ غیر معمولی منافع کے وعدوں سے محتاط رہیں۔ اپنی استطاعت سے زیادہ سرمایہ ہرگز نہ لگائیں اور کاروبار کو سمجھیں، صرف منافع کو نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت عطا فرمائے، دھوکے سے محفوظ رکھے اور جن لوگوں کا سرمایہ ڈوب چکا ہے انہیں بہتر نعم البدل عطا فرمائے۔

