Saturday, 24 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Hussain Rather
  4. Andheron Mein Eman Ki Roshni

Andheron Mein Eman Ki Roshni

اندھیروں میں ایمان کی روشنی

زندگی کے سفر میں ہم اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہماری زندگی کے حالات ہمیشہ ہمارے منصوبوں اور توقعات کے مطابق نہیں چلتے ہیں بلکہ کبھی کبھار زندگی ہمیں اس مقام پر لاکر کھڑا کردیتی ہے جہاں چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ بچپن سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر ہم محنت، سچائی اور دیانت داری سے کام لیں تو کامیابی خود بخود ہمارے قدم چومے گی۔ مگر عملی زندگی میں یہ تصور بارہا ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے۔ زندگی میں اچانک آنے والے صدمات، ناکامیاں، بیماریاں، اپنوں کی بے وفائی اور مسلسل مایوسیاں انسان کے اندر موجود حوصلے کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ ایسے لمحات میں انسان صرف ایک چیز ڈھونڈتا ہے اور وہ ہے سہارا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان ایک خاموش مگر طاقتور قوت بن کر انسان کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔

ہر انسان کے دل میں کچھ خواب ضرور پلتے ہیں۔ کچھ خواب چھوٹے ہوتے ہیں جیسے ایک پُرسکون زندگی گزارنےکا خواب اور کچھ خواب اتنے بڑے جو پوری زندگی کا رخ بدلنے کی قوت رکھتے ہیں۔ مگر جب یہ خواب پورے نہیں ہوتے تو دل میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟ میری دعائیں کیوں قبول نہ ہوتی؟ زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر یہ سوالات ہر انسان کے دل میں ابھرتے ہیں۔ مگر اصل امتحان یہی ہے کہ انسان ان سوالات کے بوجھ تلے دب کر ہار نہ مان لے بلکہ امید کا دامن تھامے رکھے۔ ہمارا ایمان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ دکھ اور درد زندگی کی نفی نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ ہیں۔ ایمان درد کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ درد کے ساتھ جینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔

اسلام کے مطابق زندگی محض سہولتوں کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل آزمائش ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ مشکلات اللہ کی ناراضی کی دلیل نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات یہی مشکلات انسان کی روح کو پاک کرتے ہیں اور اسے اندر سے مضبوط بناتے ہیں۔ قرآن کا یہ پیغام کہ "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے" صرف چند خاص لوگوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو روزمرہ زندگی کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ چاہے وہ کسان ہو جو فصل کی فکر میں مبتلا ہے، طالب علم ہو جو امتحان کے دباؤ سے گزر رہا ہے، یا والدین ہوں جو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں، یہ پیغام سب کے لیے ہے۔

صبر کو ہمارے معاشرے میں اکثر غلط معنٰی پہنائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ صبر کو خاموش رہنے یا ناانصافی برداشت کرنے کا دوسرا نام سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صبر ایک زندہ، متحرک اور باشعور کیفیت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان مشکلات کے باوجود درست راستہ اختیار کرے، اللہ پر بھروسہ رکھے اور عمل کا دامن نہ چھوڑے۔ صبر یہ نہیں کہ انسان مشکلات سے گھبرا کر ناامید ہوجائے اور دعا کرنا چھوڑ دے بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مشکل گھڑی میں بھی ہمت کا دامن نہ چھوڑے اور آنسوؤں سے تر آنکھوں کے ساتھ بھی اللہ کے سامنے سر بسجود ہوجائے اور اللہ مشکل کشا پر ایمانِ کامل اور پوری امید رکھے۔ جب انسان کامل ایمان کے ساتھ ان شاء اللہ کے الفاظ اپنی زبان سے دہراتا ہے تو وہ محض ایک جملہ ادا نہیں کرتا بلکہ اپنے دل میں امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔

اسلامی تاریخ صبر اور یقین کی ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جو آج بھی انسان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کی زندگی اس کی روشن ترین مثال ہے۔ آپ ﷺ کو طائف میں پتھر مارے گئے، گالیاں دی گئیں، مگر آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا فرمائی۔ یہ رویہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل طاقت انتقام میں نہیں بلکہ برداشت اور یقین میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح حضرت بلالؓ کی استقامت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جسمانی قید روح کو قید نہیں کر سکتی۔ احد، احد کی صدا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان انسان کو ہر خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔

قرآن میں بیان کیے گئے انبیاء کے واقعات بھی اسی حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ حضرت مریمؑ نے تنہائی، الزام اور خوف کے عالم میں اللہ پر بھروسہ رکھا اور عزت پائی۔ حضرت یوسفؑ کو بھائیوں کی بے وفائی اور قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، مگر آخرکار صبر نے انہیں سربلندی عطا کی۔ یہ واقعات ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ وقتی ناکامی ہمیشہ دائمی نہیں ہوتی۔

آج کا انسان بھی کم و بیش انہی آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ روزگار کا عدم تحفظ، ذہنی دباؤ، ٹوٹتے رشتے اور مقصدِ حیات کا فقدان جدید دور کی تلخ حقیقتیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی کامل، بے داغ اور بہترین زندگیاں انسان کو مزید احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ایسے میں ایمان انسان کو توازن عطا کرتا ہے۔ ہمارا ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقت کو قبول کیا جائے مگر کوشش ترک نہ کی جائے، درد کو سہا جائے مگر امید کا چراغ بجھنے نہ دیا جائے۔

ان شاء اللہ کا مفہوم یہی ہے کہ انسان اپنی پوری کوشش کرے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ یہ سوچ انسان کے دل کو سکون دیتی ہے کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ ہر چیز اس کے اختیار میں نہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے تو اس کا دل ہلکا ہو جاتا ہے اور خوف کی جگہ اطمینان لے لیتا ہے۔

اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ہر دعا اسی شکل میں قبول نہیں ہوتی جس کی ہم توقع کرتے ہیں مگر ایمان ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ کوئی بھی کوشش رائیگاں نہیں جاتی۔ بعض دعائیں تاخیر سے قبول ہوتی ہیں اور بعض ہمیں ایسے نقصان سے بچا لیتی ہیں جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہوتا۔ اگر ہم اس حقیقت سے آشنا ہوجائے تو صبر ہمارے لیے ایک خاموش ورثہ بن جاتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔

زندگی میں بہت سی چیزیں چِھن سکتی ہے مگر ایمان انسان کے اندر وہ طاقت پیدا کر دیتا ہے جو ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑ دیتی ہے اور مایوسی کو امید میں بدل دیتی ہے۔ اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو سحر ضرور ہوتی ہے۔ زندگی میں مشکلیں کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو مگر ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے۔ لہذا ہمارے لیے پیغام بہت سادہ ہے۔ زندگی میں چلتے رہو، دعا کرتے رہو اور اللہ پر بھروسہ قائم رکھو۔ راستہ ضرور مشکل ہو سکتا ہے مگر اللہ کی روشنی کبھی بجھتی نہیں اور نا ہمیں بھٹکنے دیتی ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی ذات اور اس کی رحمت پر کامل یقین ہو اور کبھی کبھی صرف ان شاء اللہ کہنا بھی نئے سفر کی شروعات کے لیے کافی ہوتا ہے۔

Check Also

Andheron Mein Eman Ki Roshni

By Abid Hussain Rather