Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abdul Hannan Raja
  4. Sohail Afridi Ka Dora e Lahore, Pakistani Passport Aur Saal e Nao

Sohail Afridi Ka Dora e Lahore, Pakistani Passport Aur Saal e Nao

سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، پاکستانی پاسپورٹ اور سال نو

پنجاب محض پانچ دریاوں کی ہی سر زمین نہیں بلکہ یہ زندہ دلان کے طور پر معروف بالخصوص لاہور اور اس نے بشمول کشمیر و گلگت بلتستان چاروں صوبوں کی تہذیبوں کو اپنے اندر سمو رکھا ہے اور مینار پاکستان عظمت و وحدت کی علامت۔ پنجاب وہ شجر سایہ دار کہ جس کی ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھا پھل پاکستان کے ہر صوبے کے ہر باسی کے لیے دستیاب۔ اہل پنجاب اتنے وسیع القلب کہ باوجود لاشوں کے تحفوں کے اس نے کسی صوبے کے لیے عصبیت کا ماحول پیدا کیا اور نہ دل تنگ۔

چھوٹے صوبوں کی تند و تیز تنقید پر بھی کبھی اہل پنجاب کے ماتھے پر شکن نہ آئے اور بڑے بھائی کی حیثیت سے اس نے نہ صرف اپنا وقار برقرار رکھا بلکہ چھوٹوں کی تنقید و تشنین کا جواب ہمیشہ خندہ پیشانی سے ہی دیا۔ وجہ پنجاب کی ثقافت کو عظیم صوفیا بابا فرید گنج شکر، بابا بلھے شاہ، میاں محمد بخش، خواجہ غلام فرید اور وراث شاہ و شعرا نے سینچا اور اپنی شاعری سے محبت کے پھول بکھیرے۔ معلوم تاریخ کے مطابق پنجاب 7 ہزار سال سے علم، امن اور تہذیب و ثقافت کا مرکز رہا اور اس نے کئی قدیمی تہذیبوں کے اثرات اہنے اندر سمو رکھے ہیں۔ سادگی کشادہ دلی اور خندہ پیشانی یہاں کے لوگوں کا طرہ امتیاز اور مہمانوں کا اکرام و تکریم ان کی روایت۔

کے پی کے وزیر اعلی سہیل آفریدی پنجاب میں مہمان کے طور پر لاہور پہنچے تو سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر اور اپنے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں شایان شان تکریم دینا پنجاب حکومت پر لازم تھا کہ سہیل آفریدی اولا پاکستانی پھر منتخب وزیر اعلی بلکل ایسے ہی جیسے وزیر اعلی پنجاب، پھر وہ PTI کے راہنما۔ ماضی میں باوجود کشیدہ حالات کے، پنجاب نے اپنے دروازے کسی کے لیے بند نہ کئے تو سہیل آفریدی کے لیے سیکورٹی کے نام پر دھکم پیل کس طرح مستحسن ہو سکتی ہے؟ پنجاب کی صوبائی وزیر کے بیان نے بھی جلتی کا کام کرکے اہل مروت لوگوں کے دلوں پر بجلیاں گرائیں۔

پنجاب حکومت کے ترجمان اگر کے پی، کے مینا آفریدی، شفیع جان و دیگر کے اخلاق باختہ بیانات اور PTI کی جانب سے محترمہ مریم نواز بارے غلیظ مہم کو بطور توجیح پیش کریں تو بھی وضاحت ناقابل قبول کہ بدتہذیبی اور منفی مہم کا جواب کسی طور اسی انداز سے دینا پنجابی روایات کے برخلاف اور اگر آپ اقدار کے اعلی معیار پر متمکن ہونا چاہتے ہیں تو مخالفت بھی تہذیب و آداب کے دائرے میں اور گھر آئے مخالف مہمان کو زندہ دلان لاہور کی مروت کا احساس دلانا بھی لازم۔

یقین جانیے کہ اگر وزیر اعلی پنجاب کاسہ لیسوں اور مفاداتی ٹولے کی باتوں کے برعکس کشادہ دلی اور جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرتیں تو گزشتہ دو سال میں انکے صوبہ کے لیے اٹھائے اقدامات و اصلاحات نے ترقیاتی و سیاسی میدان میں انکا جو مقام بنا دیا تھا یقیناََ وہ اور بلند ہوتا۔

پنجاب کے بڑے شہروں میں ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں پختونوں کی بڑی اکثریت اپنے پسینے سے پنجاب کی مٹی کو سینچ رہی ہے اور اپنی محنت سے پنجاب کی دھرتی کو معاشی استحکام دے رہی ہے۔ بلکہ ہزاروں اب پنجابی خاندانوں کا حصہ۔ پنجاب حکومت اگر سہیل آفریدی کا بطور مہمان شایان شان استقبال کرتی تو نہ صرف پنجاب کی شان بڑھتی بلکہ محترمہ مریم نواز کے قد میں اضافہ بھی ہوتا اور ایسا اقدام موجودہ سیاسی صورتحال میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا تھا۔ یہ تو تھی ہماری خواہش مگر پنجاب حکومت اس پہ کس طرح سوچتی ہے اور وزیر اعلی کس دباو کا شکار۔ اس بارے وہی بہتر بتا سکتی ہیں کہ ترجمان تو شاید مروت اور معاملہ فہمی کے وصف سے۔۔!

***

اہل پاکستان کے لیے اچھی خبر کہ پاکستانی پاسپورٹ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران اپنی عالمی رینکنگ میں بڑی چھلانگ لگائی اور اب وہ 91 ویں نمبر پر کہ 2020 سے لیکر 2024 تک یہ کمزور ترین پاسپورٹ میں شمار ہوتا رہا کہ جس کی ویزا فری یا آن آرائیول رسائی بہت محدود۔ مئی میں تاریخی کامیابی اور فیلڈ مارشل کی موثر سفارت کاری نے یقیناََ اس میں اہم کردار ادا کیا Arton Capital Passport Index کی جاری کردہ نئی رینکنگ کے مطابق اب یہ 91ویں پوزیشن پہ آن کھڑا ہوا ہے اور اس کے لیے ویزا فری و ان آرائیول ممالک کی تعداد بڑھ کر اب 44 ہوگئی ہے۔ یہ بہتری نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو مضبوط بنا رہی ہے بلکہ علاقائی تعلقات اور معاشی استحکام کی جانب ایک قدم بھی اور پاکستانی قوم کی عزت و وقار کی بحالی بھی۔

***

پنجاب کے تیسرے بڑے شہر راولپنڈی میں بلا رکاوٹ سفر کا خواب حقیقت بننے لگا ہے۔ پنجاب حکومت 33 ارب روپے کے طویل المدتی پیکج سے شہر کو سگنل فری کوریڈور میں تبدیل کر رہی ہے۔ کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر کھٹک کے مطابق ان پراجیکٹس میں کچہری چوک، جناح پارک، افتخار جنجوعہ روڈ، اینیکس روڈ پر فلائی اوورز اور انڈرپاسز شامل ہیں، نیز عمار چوک کی نئی شکل بھی بنائی جا رہی ہے۔ تین اہم انڈر پاسز پشاور روڈ پر ریس کورس گراؤنڈ، آرمی گراؤنڈ روڈ اور چیئرنگ کراس پر بنائے جائیں گے۔ جناح پارک کے غیر استعمال شدہ رقبے پر 1.6 ارب روپے لاگت سے پارکنگ پلازہ جبکہ صدر اور کینٹ علاقوں میں پانچ اضافی پارکنگ مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ پشاور روڈ کو سگنل فری راستے میں تبدیل کرنے کے لیے تین بڑے انڈر پاسز 2025-26 کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ریس کورس گراؤنڈ انڈرپاس اور چئیرنگ کراس انڈر پاس بھی تعمیراتی منصوبہ کا حصہ ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب نے راولپنڈی رِنگ روڈ کے منصوبے پر بھی کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے تحت گزشتہ ہفتے ڈی جی آر ڈی اے نے مختلف مقامات کا دورہ بھی کیا۔ رنگ روڈ کے پانچ انٹرچینجز، متعدد پل تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ اگر تعمیراتی کام میں روکاوٹ نہ ڈالی گئی تو رنگ روڈ کا افتتاح مارچ میں متوقع ہے۔

***

2025 کا سورج غروب ہو چکا اور نئے سال کا طلوع۔ قوم نے کٹھن ماحول میں اگر صبر کا سلیقہ سیکھا اور ناموافق ترین حالات کے تھپیڑوں سے خود کو کندن بنایا ہے تو اب رنجشوں کے ماحول سے نکل کر محبت کی شمع جلانی ہوگی۔ ناکامیوں، نفرتوں اور انتہا پسندانہ رویوں کو ہمالہ کی برف پوش کھائیوں میں دفن کرنا ہوگا کہ بہترین مستقبل آپ کا منتظر۔ بحثیت قوم 2026 میں نئے عزم، ولولہ اور یقین کے ساتھ داخل ہوں کہ نئی صبح روشن ہماری منتظر۔

Check Also

Highlight

By Ayesha Batool