Nargasiat Ka Marz, Siasat Aur Riyasat
نرگسیت کا مرض، سیاست اور ریاست

ابنِ خلدون نے نرگسیت کو کلینیکل نفسیات کے بجائے سماجی اور تاریخی تناظر میں دیکھا۔ ان کے نزدیک یہ ایک فطری انسانی کمزوری ہے جو طاقت، نسب پر فخر اور اقتدار کے نشے کی صورت میں معاشروں میں ظاہر ہوتی ہے۔
نرگسیت کو باقاعدہ شخصیت کے بگاڑ (Narcissistic Personality Disorder) کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جس میں ضرورت سے زیادہ خود پسندی اور دوسروں کے احساسات کی کمی پائی جاتی ہے۔
کارلاگرائمز کا مشہور مقولہ ہے"کہ نرگسیت کا شکار لوگ خود کو مظلوم اور ہر لحاظ سے معصوم سمجھتے ہیں، دوسروں کے سچ بولنے پر ناراض ہوتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ جو اندھیرے میں ہوتا ہے وہ ایک دن روشنی میں آنا ہوتا ہے، ایک وقت آتا ہے جب چھپانے کے باوجود ان لوگوں کا اصلی رنگ اور مرض سامنے آ کر رہتا ہے"۔ بیسویں صدی کے نامور مفکر اور شاعر ٹی ایس ایلیٹ کہتے ہیں کہ "آج کی دنیا کو آدھا نقصان وہ پہنچاتے ہیں جو خود کو اہم ترین سمجھتے ہیں۔ مارٹی روبن کے مطابق انسانی زندگی میں آدھے دکھ خود کو آئینوں میں دیکھنے سے پیدا ہوتے ہے"۔
آج کی دنیا ٹرمپ، ایلن مسک، سٹیو جابز اور عمران خان کو بھی نرگسیت کا حامل قرار دیتے ہے۔ ٹرمپ کو اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور دعوے کرنے کی وجہ سے آج کا نرگس کہا جاتا ہے، اسی طرح ایلن مسک کا یہ خیال کہ وہ سب سے مختلف ہے اس سے بھی شبہ ہوتا ہے کہ وہ نرگسی ہے اور تو اور Apple فون بنانے والے سٹیوجابز کو بھی نرگسی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ نرگسی اپنا کام نکلوانے کے ہر حربے پر عمل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی بھی اپنے قائد کو ہر غلطی، کوہتاہی اور گناہ سے مبرا سمجھتی ہے۔
اس بارے مسلم مفکرین کی آرا بھی بطور نمونہ پیش تا کہ پاکستانی سیاست کے خدوخال کو سمجھا جا سکے۔۔
امام غزالی نے "کبر" اور "عجب" کے ابواب میں نفس کی خود پسندی کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، جب انسان اپنی خوبیوں کو خدا کی دین سمجھنے کے بجائے اپنی ذات کا کمال سمجھنے لگتا ہے، تو وہ نرگسیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی شخصیات دوسروں کو حقیر اور خود کو برتر سمجھتی ہیں، جو کہ روحانی زوال کی علامت ہے۔
اقبال نے خودی (Self-realization) اور "نرگسیت و انا پرستی" کے درمیان واضح فرق بیان کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک مثبت خودی انسان کو خدا اور معاشرے سے جوڑتی ہے، جبکہ منفی انا (نرگسیت) انسان کو اپنی ہی ذات کے حصار میں قید کر دیتی ہے۔ کلٹ لیڈرز اسی باطل انا کا شکار ہوتے ہیں جو دوسروں کی نفی کرتی ہے۔
شاہ ولی اللہ نے "تزکیہ" کے تصور کے تحت ایسی شخصیات کی اصلاح پر زور دیا جو اپنے گرد عقیدت کا ہالہ بناتی ہیں۔ شاہ ولی اللہ کے نزدیک کوئی بھی انسان تنہا محورِ حق نہیں ہو سکتا اور جو گروہ یا لیڈر اپنے سوا سب کو گمراہ سمادے، مطلب کہ وہ فکری توازن کھو چکا ہے۔
پاکستانی سیاست نرگسیت کے کتنے چنگل میں ہے؟ اسے مفکرین کی آرا کی روشنی میں صاحبان فکر و دانش خوب جانچ سکتے ہیں کہ حکومتیں اور ریاستیں کلٹ کے زیر اثر مزاج پر چلتی ہیں اور نہ کوئی راہنما گناہ، غلطی اور خطا سے مبرا۔ کلٹ کے متاثرین و اسیران اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں یہ ان پر منحصر مگر پاکستانی سیاست میں نرگسیت پسند قیادت کا دخل موجود اور معاشرے کو اعتدال اور ذہنوں کو انتشار سے بچانے کے لیے مافوق الفطرت خیالات و جھوٹے اعتقادات سے نکلنا پڑے گا۔ نرگسیت پسندوں کی نظر صرف دیگر کی غلطیوں اور اپنی خوبیوں پر ہی نہیں ہوتی بلکہ اس سے بھی آگے وہ دوسروں کو خوبی کے وصف کو قبول ہی نہیں کرتے اور خود کو غلطی سے ماورا سمجھتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ اور سیاست جس ہیجان انگیزی کا شکار ہے اس میں نرگسیت کا دخل بھی موجود۔
درست کہ بھول جانا انسانی وصف مگر کلٹ ایسی تبدیلی رونما کرتا ہے کہ اس کا شکار گروہ یا فرد اپنی کوہتاہیاں سرے سے بھول مگر دیگر کی ازبر رکھتا ہے۔ اس بیماری کے شکار اپنے لیے امام حسینؓ کے اس قول کو بطور حوالہ دیتے بھی نہیں چوکتے جس میں امام عالی مقام حق کی پہچان کے ابہام کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "اگر حق کو پہچان نہیں سکتے تو باطل کے تیروں پر نظر رکھو جہاں وہ لگ رہے ہیں وہی حق" اس سے ان کی فکری و ذہنی استعداد اور کم علمی و کم فہمی کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ اس رو سے آج دنیا بھر سے نفرتوں کے تیر اسرائیل اور نیتن یاہو کی طرف حتی کہ امریکہ و مغربی ممالک کے بھی تو کیا معاذ اللہ امام کے قول کو اس پر منطبق کیا جائے گا؟
یہ کہنا غلط تو نہیں کہ 2011 میں سیاسی ملمع کاروں نے پاکستانی سیاست میں اچھوتا کارنامہ سرانجام دیا ایسی شخصیت کو تراشا گیا اور اس کے کارناموں کو حیرت انگیزی کے طور پر پیش کہ جیسے یہ کسی فرد نے تاریخ انسانی میں پہلی بار سرانجام دیا ہو حالانکہ یہ صاحب گزشتہ 15 سال سے ٹی وی چینلز، ٹاک شوز اور گلی گلی قریہ قریہ اپنا منشور، مقصد، مدعا اور درد عوام پاکستان کے سامنے رکھ رہے تھے مگر مجال کہ کسی نے کان دھرے ہوں یا پذیرائی بخشی ہو ہاں البتہ سماجی میدان میں انکو تاریخی اور بھرپور پذیرائی ملتی رہی مگر سیاسی طور پر وہ یتیم ہی رہے تا وقتیکہ کہ دست شفقت و قبولیت نہ رکھا گیا۔
اس دور میں مقبولیت و نرگسیت کے لگائے گئے انجکشنز آج ریاست کے لیے درد سر۔ بہرحال مقصود مفکرین و مدبرین کے اقوال و آرا کی روشنی میں مرض کی تشخیص اور پاکستانی سیاست و رہاست پر اس کے منفی اثرات واضح کرنا! سیاست مکالمے، بات چیت پیچھے ہٹنے اور ہٹانے کا نام، مگر دلیل سے۔ مامور من اللہ کوئی نہیں اور نہ یہ معرکہ حق و باطل، ہر شخص خطا کار سلاطین ہوں یا قائدین۔ انفرادی و اجتماعی توبہ اور اس سرزمین سے عہد وفا ہی پاکستانیوں کو مشکلات اور ذلت کے گرداب سے نکال سکتی ہے۔
پاکستان پائندہ باد!

