Tazkiya e Nafs Aur Ilm e Ladunni
تزکیہ نفس اور علم لدّنی

لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکار ﷺ کی ذات آقدس پر۔
تعلیم یافتہ اور ہوتا ہے اور علم یافتہ اور، دنیاوی تعلیم آپ کالجوں یونیورسٹیوں سے حاصل کرتے ہیں جس کو کہ عام طور پر ذریعہ روزگار بنایا جاتا ہے، علم اور چیز ہے، علم مدرسوں کالجوں یا یونیورسٹیوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
وہ خوش نصیب انسان ہوتے ہیں جن کو کہ یہ علم عطا کیا جاتا ہے، اس کو علم لدّنی کہتے ہیں، علم لدّنی دنیا کا علم نہیں یہ باطن کا علم ہے باطن کی کائنات کا علم ہے، جب محبوب آپ کو پسند فرمائے تو پھر یہ علم عطا ہوتا ہے، یہ جاری علم ہے جو کہ اللہ کے نور سے مومن کے سینے میں چلتا ہے، یہ وہی علم ہے جو کہ حضرت امام غزالیؒ پر اُترا جب آپ نے اپنے باطن میں وہ حقیقت پیدا کی جو کہ اِس علم کو حاصل کرنے کے لیے مطلوب تھی۔
حضرت اِقبالؒ بھی گرچہ دنیاوی طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے لیکن اس علم کا فیض تھا کہ اُن کی تعلیمات اور ارشادات عام ہوئے اور آج تک لوگوں کے لیے منبع فیض اور مشعلِ راہ ہیں۔
مولانا رومؒ کی حقیقت بھی ایک عالم کی تھی جب تک آپ شاہ شمس تبریز سے بعیت نہیں ہوئے، شاہ شمس تبریز نے بھی اُن کو عالم سے فقر تک کا راستہ دکھایا اور علم لدنّی سے مالا مال کر دیا۔
روحانیت کے مسافر ہی اس علم سے مزین کیے جا سکتے ہیں، اِس علم کے لیے تزکیہ نفس ایک بنیادی عمل ہے، تزکیہ نفس اور کسی بزرگ سے نسبت دو ایسے عوامل ہیں جو کہ اِس علم کو عطا کرنے میں معاون اور مددگار ہو سکتے ہیں، تزکیہ نفس کو ترک نفس نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی یہ ہے، تزکیہ نفس سے مراد وہ تمام دنیاوی خواہشات ہیں جس سے کہ بے رغبتی بہت ضروری ہے، اِس میں سب سے پہلے دولت سے محبت کو ختم کرنا پڑتا ہے، اگر آپ دولت سے محبت کو نہیں چھوڑ سکتے تو یہ علم عطا نہیں ہوگا، اللہ کے فضل کی نشانی ہی یہ ہے کہ آپ گنتی بھول جاتے ہیں، اگر ایک جملے میں تزکیہ نفس کی تعریف کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ تسلیم و رضا کا پیکر ہونا یعنی جو بھی ہو رہا ہے اس پہ قانع رہنا اور سرکشی نہ کرنا۔
اللہ تعالی کے ہر امر ہر کام کو تسلیم کرنا اور اس میں خوشی محسوس کرنا، یہ ہے تزکیہ نفس، تزکیہ نفس کافروں میں بھی ہو سکتا ہے، کچھ محنتوں کے ساتھ وہ اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں لیکن مسلمانوں میں تزکیہ نفس حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تزکیہ کرنا ہے، نفس ہمیشہ شرارتیں کرتا ہے آپ کو راغب کرتا ہے، آپ کو بے چین کرتا ہے، دنیا کی رنگینیوں میں کھو جانے کی ترغیب دیتا ہے، اسی لیے اِس کا تزکیہ ضروری ہے، یہ روح کی بنیاد ہے روح نہیں ہے روح اور چیز ہے، روح اللہ کا امر ہے جب تزکیہ نفس ہو جاتا ہے تو وہ روح کو اشارہ کر سکتا ہے کہ اب پرواز کی جائے، نفس روح کی پرواز میں خلل ڈال سکتا ہے، اُس کی پرواز کو روک سکتا ہے، اِس لیے تزکیہ نفس ضروری ہے۔
کچھ خوش نصیب لوگ بغیر ریاضت اور مجاہدے کے تزکیہ نفس کا مقام پا لیتے ہیں، اِس کے علاوہ بزرگوں نے کچھ باتیں تجاویز فرمائی ہیں اِس میں قیام اللیل اور صوم النہار، شب بیداری اور دوسری ریاضتیں، ورد، وظیفے شامل ہیں، یہ آپ کے نفس کو پاک کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، بس ایک ضروری بات یاد رکھنی چاہیے کہ تزکیہ نفس ترک نفس نہیں ہے بلکہ نفس کو قابو کرنا اور اس کو سرکشی سے بچانا ہے۔
تاکہ دنیا کی رغبت دل سے نکل جائے پھر ہی آپ پہ وہ علم اُتر سکتے ہیں جو کہ آپ کے اسلاف پر اُترے تھے، دوسری اہم چیز جو میں نے اُوپر بیان کی ہے وہ ہے کسی بزرگ کے ساتھ تعلق اور نسبت اور نسبت بھی اِس طرح کہ جو بھی بزرگ کہیں وہ آپ نے سچ ماننا ہے، اُن کی اطاعت کرنی ہے، اسی لیے اِس سفر میں یہ کہا جاتا ہے کہ کسی موجودہ فقیر کی بیعت ہو جائیں تاکہ آپ کو تزکیہ نفس کی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو۔
اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

