Thursday, 22 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aamir Mehmood
  4. Khud Ki Pehchan Rab Ki Pehchan

Khud Ki Pehchan Rab Ki Pehchan

خود کی پہچان رب کی پہچان

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔

کچھ بنیادی سوالات ہیں جو کہ ہر دور میں انسان کو درپیش رہے ہیں جیسے انسان کیا ہے، خدا کیا ہے، یہ کائنات کیا ہے، اِس کائنات کا ربط انسان کے ساتھ کیا ہے، اِس پہ بزرگوں نے درویشوں نے بہت غور و فکر کیا ہے اور ہماری کلاسیکل شاعری کے بنیادی عنوانات بھی یہی رہے ہیں۔

انسان آج بھی اپنے سامنے کھڑے ہوئے اِن سوالات کے جوابات کی کھوج میں ہے اور غور و فکر جاری ہے اور جاری رہے گا، انسان کی تخلیق کا کیا مقصد ہے، انسان خود کون ہے، یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔

خود کی پہچان رب کی پہچان ہے، اتنے اہم سوال کا جواب وقت کے درویش حضرت واصف علی واصفؒ نے بہت ہی آسان جملے میں عطا فرما دیا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ خود کی پہچان دراصل اپنی قبر کی پہچان ہے، اِس سے پہلے کہ آپ پر وقتِ نزع آئے اور آپ کے پیارے آپ کو قبر تک چھوڑ آئیں آپ اپنی قبر خود ہی پہچان لیں اور یہ بات دل میں اتر جائے کہ ہم سب کی زندگی بہت مختصر ہے، اِس مختصر سی زندگی میں بہت سے کام کرنے ہیں، زیادہ تر وقت تو رزق کمانے میں گزر جاتا ہے، کاروبار یا نوکری کرنے میں گزر جاتا ہے، زندگی کا تقریباً آدھا حصہ نیند کی نظر ہو جاتا ہے، تو باقی وقت ہی کتنا بچتا ہے کہ حقیقتوں کے بارے میں سوچا جائے یا اِن سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔

اگر سالوں میں گنیں تو یہ چار یا پانچ سال سے زیادہ عرصہ نہیں ہے کہ آپ سچائیوں کے ساتھ تعلق استوار کرنے کی کوشش کریں، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ عبادات سے ممکن ہے، جو فرائض ہمیں سونپے گئے ہیں، جو دینی احکامات ہیں وہ پورے کرنے ہیں، انہی صبح و شام میں ہماری آدھی ادھوری، ٹوٹی پھوٹی عبادتیں بھی شامل ہیں، تو کیا کریں کہ یہ عبادات یہ تعلقات جو کہ انسان اپنے خالق اور مالک کے ساتھ استوار کرنا چاہتا ہے وہ مستقل ہو جائیں، اُس بارگاہ میں قبول ہو جائیں تاکہ دنیا میں آنا کامیاب ہو جائے۔

کامیابی روپیہ پیسہ، اچھے گھر کاروبار نہیں ہیں، یہ رغبتین اِس مختصر زندگی جو کہ 50-60 سال کی ملی ہے اِس کے لیے ہی ہیں، یہ دنیاوی لذتیں اسی مختصر وقفے کے لیے ہیں، یہ ساتھ اگلے سفر تک نہیں جا سکیں گی، تو عرض یہ ہے کہ اپنی قبر کی پہچان بہت ضروری ہے، قبر کی پہچان کیا ہے یہ دراصل عرفان کی پہلی منزل ہے، خود کی پہچان ہے، عرفانیات کا سفر یہاں سے شروع ہوتا ہے، جب وجود یہ بات قبول کر لے کہ میری ایک قبر ہے جو کہ میرا انتظار کر رہی ہے تو پھر آپ اپنے معاملات اِس طرح کے رکھیں گے کہ اِس عہدِ کربلا سے حفاظت کے ساتھ، احتیاط کے ساتھ اپنا دامن بچاتے ہوئے، جانے کی فکر کی جائے۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں اِس مختصر زندگی میں اپنے سے زیادہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کا غم اور درد عطا ہوتا ہے اور اللہ تبارک و تعالی کی ذات اِن سے کچھ ایسے کام لیتی ہے جو کہ انسانیت کی فلاح کا سبب بن جائیں، یہ قبر کا عرفان آپ کو درد عطا کرتا ہے غم عطا کرتا ہے تڑپ عطا کرتا ہے، یہ درد و غم دنیاوی رغبتیں کم کرنے میں مددگار ہیں اور ایک ایسی زندگی کی طرف راغب کرتیں ہیں، جو کہ صرف اور صرف بنیادی ضرورتوں تک محدود رہے، ویسے بھی اگر دیکھیں تو جتنے بھی نبی، پیغمبر، درویش اور بزرگ آئے ہیں انہوں نے کوئی شاہانہ زندگی نہیں گزاری، بلکہ اُن کی زندگیاں دنیاوی طور پر صرف اتنی ہی تھیں کہ جسم کا رشتہ روح تک برقرار رہے، اُن کا اصل سفر حقیقتوں کے ساتھ محبتیں تھیں، نسبتیں تھیں، اپنے ارد گرد کے لوگوں کا درد تھا غم تھا، تڑپ تھی تاکہ اُن کو وہ ازلی منزل کی طرف راغب کیا جائے جو کہ اِس کائنات کے خالق اور مالک نے ہمارے لیے متعین کر دی ہے۔

میں کون ہوں، میرا وجود کیا ہے، میرے وجود کا تعلق کائنات سے کیا ہے اور پھر اِن کا ربط اُس خالق و مالک کے ساتھ کیا ہے یہ بہت گہرے معاملات ہیں اور وقت کے فلسفیوں نے اِن پر بہت کچھ لکھا اور کہا ہے، میرے وجود کا تعلق اِس کائنات کے ساتھ بہت گہرا ہے اگر انسان کو کوئی غم عطا کیا جاتا ہے تو یہ غم قدرت کی طرف سے عطا ہے اور قدرت یہ غم عطا کرنے کے بعد خود بھی غمگین ہو جاتی ہے، اگر غم دینے والا خود غمگین نہ ہو تو اُس کو ظالم کہا جاتا ہے، تو آپ کو غم ملنے کے بعد یہ کائنات بھی آپ کے ساتھ غم میں شامل ہوتی ہے، ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ روح کی اصل کیفیت غم ہی ہے، لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے بہت سے پردے اپنی روح پر ڈال دیے ہیں اُس کو محسوس کرنے، سمجھنے یا کھوجنے کی طاقت ہم میں نہیں رہ گئی۔

اگر خوش قسمتی سے کوئی انسان روح کے حجابات کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے تو اُس کو معلوم ہوگا کہ یہ تڑپ یہ درد اور یہ غم جو روح کو ودیعت کر دیے گئے ہیں، اِس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حقیقتوں کے ساتھ گہرا تعلق ایک گہرا ربط اور ایک گہری نسبت پیدا کی جائے، کیونکہ یہ روح جو کہ اللہ کا امر ہے، یہ آپ کے وجود کو سونپ کر اِس دنیا میں بھیجا گیا ہے اور اِس کی آخری منزل دوسری دنیا ہے تو کیوں نہ اِس دنیا کی رغبت کو کم کرتے ہوئے حقیقتوں کے بارے میں سوچا جائے اُن کے ساتھ ایک تعلق ایک نسبت پیدا کی جائے۔

اِس کام کے لیے کسی دوسرے انسان کے ساتھ محبت نسبت اور تعلق بہت ہی ضروری ہے، اِس کے بغیر منزل حاصل نہیں ہوگی، یوں سمجھ لیجئے کہ وجود کے اندر ایک دوسرا وجود ہے جو کہ سویا پڑا ہے یا مردہ پڑا ہے اُس کو جگانے کے لیے ایک کرنٹ دینے کے لیے یہ نسبت اور محبت بہت ضروری ہے۔ یہ واقعہ ہو سکتا ہے آج بھی ہوتا ہے کہ آپ کے وجود میں محبت پھوٹ پڑے، بیٹھے بیٹھے آپ کے دل کی حالت بدل جائے، بیٹھے بیٹھے ہی آپ کا اندر چیخ و پکار کرنا شروع کر دے، آنسو رواں ہو جائیں، بغیر کسی وجہ کے، یہ بہت خوش نصیبی کی بات ہے، بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر آنسو عطا ہو گئے ہیں تو آدھا کام تو ہوگیا، اس کو عرفانیات کہتے ہیں، اپنا تعلق حقیقتوں کے ساتھ دیکھنا ہو تو آپ دیکھیں کہ آپ میں عرفان کتنا ہے۔

ویسے تو یہ عطا ہے اِس کا کوئی فارمولا نہیں بنایا جا سکتا، لیکن کچھ بنیادی باتیں کچھ بنیادی اقدامات ضروری ہیں جیسے والدین کا ادب والدین کا بے ادب انسان عرفانیات میں داخل نہیں ہو سکتا، وہ ہمیشہ روح کے ویرانے میں رہتا ہے، یہ بہت بڑا موضوع ہے، معاف کرنے کی صلاحیت یہ اپنے اندر پیدا کرنا ضروری ہے یہ بنیادی باتیں ہیں، معاف کر دیں معافی مانگ لیں، پھر ہی یہ درد و غم کے سفر عطا ہوتے ہیں اُن لوگوں کے پاس بیٹھا کریں اُن لوگوں کی باتیں سنا کریں جو کہ اِس سفر پر ہیں، جنہیں آنسو عطا ہو چکے ہیں، محبتیں عطا ہو چکی ہیں نسبتیں عطا ہو چکی ہیں، انہیں ہی انعام یافتہ لوگ کہا گیا ہے، آپ کے پاس یہ واحد ذریعہ ہے یہ واحد سیڑھی ہیں جس پر چڑھ کر آپ محبتوں کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

Check Also

Tehran Mein Kya Dekha (2)

By Javed Chaudhry