1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Musaddaq Niazi

Musaddaq Niazi

مصدق نیازی

ہمارے میانوالی کا مصدق نیازی ان چند پڑھے لکھے نوجوانوں میں سے ایک ہے جو سمجھدار اور سلجھے ہوئے انسان ہوتے ہیں۔ پہلی ملاقات آٹھ سال قبل سپر مارکیٹ میں کافی ری پبلک کیفے پر ہوئی تھی۔ آج دوسری ملاقات ہوئی ہے۔ لیکن ان برسوں میں ان سے واٹس ایپ اور ٹوئٹر پر رابطہ رہا۔ اس دوران مصدق پی ایچ ڈی کرکے ڈاکٹر بن چکا ہے۔ دو سال ملائشیا پڑھتا رہا۔ وہیں سے پی ایچ ڈی کی۔

آٹھ سال قبل جب مجھے مصدق ملا تو میں اس کی گفتگو سے متاثر ہوا تھا اور آفر کی تھی آپ میرے ٹی وی شو کی ٹیم میں آجائیں۔ وہ اس وقت ایم فل کررہے تھے۔

کم نوجوان ہوتے ہیں جو اپنی سلجھی ہوئی گفتگو، طبیعت اور مزاج سے آپ کو اچھے لگتے ہیں۔ مصدق ہمارے نوجوان کے لیے ایک رول ماڈل ہے جو عمران خان کا حامی ہے لیکن کبھی ان برسوں میں اس نے سوشل میڈیا پر کسی کو برا بھلا نہ کہا۔ بدتمیزی نہ کی۔ کسی کو سرعام ذلیل نہیں کیا۔ لاجک اور ریزن پر بات کی۔ ایک ٹھہرائو ہے جو آج کے نوجوانواں میں کم پایا جاتا ہے خصوصا وہ بھی اگر عمران خان کا فین ہو۔ مصدق وہ نوجوان ہے جس کے ساتھ گھنٹوں گفتگو کرسکتے ہیں۔

امجد خان نیازی کی بات ہوئی تو بتانے لگے کیسا انکساری بھرا عاجز انسان ہے اور اس کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ کافی دیر امجد خان کی باتیں ہوتی رہیں امجد خان ایک محبت بھرا انسان ہے۔ امجد خان نے پاور ہونے کے باوجود میانوالی میں کسی ساتھ زیادتی یا تھانہ کچہری نہ کی۔ کبھی اس کا شمار ظالموں میں نہ رہا۔ سادگی اور ایمانداری ساتھ کام کیا۔ میرے دوست ڈاکٹر شیر افگن نے بھی سادگی اور ایمانداری سے زندگی گزاری۔ کوئی مال نہیں بنایا۔ کوئی بڑے ٹھیکے یا زمینیں الاٹمنٹ نہیں کرائی۔

مصدق نے ایک بڑی پیاری بات کی کہ صوفیا کہتے ہیں بندہ وہ اچھا جو آخری لحمے تک اچھا رہے۔ ورنہ کئی لوگ آخری وقت میں بھی بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ ساری عمر اچھا امیج قائم رکھتے ہیں لیکن آخری عمر کے حصے میں خود کو ایکسپوز کر بیٹھتے ہیں۔ ڈاکٹر شیر افگن سے لاکھ سیاسی اختلاف کریں لیکن دونوں باپ بیٹا ایمانداری اور عوامی امیج پر پورے اترے۔

شیر افگن بھی عام آدمی تھا۔ عام آدمی کا بندہ تھا تو امجد خان بھی باپ کی طرح عوامی اور انسان دوست ہے۔ مصدق اور میں بڑی دیر تک ڈاکٹر شیر افگن اور امجد خان کی اچھائیاں یاد کرتے رہے اور اسلام آباد کی خنک رات اداس بھی ہوتے رہے۔

خیر مصدق ساتھ کافی موضوعات پر گپ لگی۔ کتابوں کا ذکر رہا۔ یہ نوجوان بھی کتابوں کا شوقین ہے۔ مجھے تو مصدق نیازی کی ٹھہری ہوئی طبیعت پسند ہے حالانکہ اس کا اسٹار بھی سکارپین ہے۔۔ سکارپین بارے میری رائے ہے یہ آپ کے دوست ہونے چاہیں دشمن نہیں۔ میری سمجھداری دیکھیں سکارپین کو ہمیشہ سے دوست ہی بنایا ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Akbar Badshah, Birbal Aur Modern Business

By Muhammad Saqib