لیہ میں ایک سائبر مقدمے کی روداد

میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے علاقے لیہ کے لوگوں سے ہمیشہ محبت پیار اور احترام سے پیش آئوں۔ لیہ کا حوالہ ہی کافی ہوتا ہے میرے لیے۔ میرے بارے لیہ میں پولیس یا ڈی سی آفس نہیں کہے گا اس نے کبھی وہاں وزٹ کیا یا ٹرانسفر پوسٹنگ یا کسی معاملے میں مداخلت کی۔ لوگوں کی مدد ضرور کی لیکن اپنے تئیں کسی کے لیے مشکلات پیدا نہیں کیں۔ آسانیاں بانٹنے کی کوشش کی۔
پبلک فیس ہونے کے ناطے ویسے بھی بہت احتیاط کرتا ہوں۔ ابھی تازہ واقعہ سن لیں۔ لیہ کے ایک سید زادے نے میرے خلاف ایک خوفناک پوسٹ لگائی۔ بہت سارے لوگ لگاتے رہتے ہیں۔ کچھ تنقید تو کچھ گالی گلوچ۔ تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اب تو شاید گالیوں سے بھی نہیں ہوتا۔ بس افسوس ہوتا ہے کہ پبلک فیس ہونے کے ناطے جواباََ گالی نہیں نکال پاتے۔ اس سید زادے نے میرے بارے لکھا کہ اس نے ایرانی قیادت کی گستاخی کی ہے، ایرانی قیادت بارے نازیبا لکھا ہے اور خوب مجھے دو تین ملکوں کا ایجنٹ ثابت کر دیا۔
میں ہر بات برداشت کرسکتا ہوں لیکن یہ نہیں کوئی میرے جیسے زمین زاد کو غدار یا ایجنٹ کہے۔ کبھی نہیں۔ یہ دھرتی ہماری ہے اور اس میں ہی دفن ہوں گے۔ اس سید زادے کی وال پر دیگر سب سید زادوں نے خوب جی بھر کر مجھے گالیاں دیں۔ ایک آدھ نے روکنے کی کوشش کی تو انہیں بھی گالیاں دی گئیں۔
میں عموماََ اب extreme steps سے گریز کرتا ہوں۔ لیکن جب ایک سیدزادہ ایران کی اس وقت نازک صورت حال میں میرے خلاف فتوی جاری کردے تو اسے اگنور کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اس معاشرے میں ہر قسمی شدت پسند ہر مسلک میں موجود ہیں۔ میں نے لیہ آنا جانا ہوتا ہے۔ میرے درجنوں سید زادے دوست ہیں، ہزاروں شاید پڑھنے یا سننے والے ہیں وہ کیا سمجھیں گے کہ رئوف اس طرح ایرانی قیادت کی گستاخی کررہا ہے۔
میں نے کبھی نہ ایرانی قیادت یا ان کے لیڈرز بارے نہ کالم لکھا نہ ٹوئیٹ کیا اور نہ ہی اس پر وی لاگ نہ فیس بک اسٹیس۔ مجھے حساسیت کا علم ہے کہ ہمارے ہاں لاکھوں لوگ ایرانی قیادت کا روحانی طور پر احترام کا درجہ دیتے ہیں۔ میں نے کہیں کچھ نہیں لکھا لیکن اس سید زادے نے میرے نام سے سب کچھ لکھا۔
دراصل ایک خبر نیویارک ٹائمز نے دی تھی جو دنیا بھر میں چھپی کہ ایران میں بڑھتے ہوئے ان ریسٹ کی وجہ سے اگر حالات خراب ہوئے تو ایرانی قیادت روس جا سکتی تھی۔ یہ خبر نیویارک ٹائمز کی تھی جو پورے پاکستانی میڈیا نے بھی رپورٹ کی۔ اس سید زادے نے وہ خبر اٹھا کر میرے نام سے اٹیچ کرکے اپنے فیس بک پر میرے خلاف فتوی دیا۔
میں نے ایف ائی اے کو درخواست دی کہ اگر میں چپ رہا تو ہزاروں لوگ گمراہ ہوں گے۔ کسی نے اس سید زادے سے نہیں پوچھا رئوف نے کب اور کہاں یہ باتیں کی ہیں۔ کوئی ثبوت کچھ بھی نہیں مانگا گیا۔ سب کمنٹس میں گالیاں لکھتے رہے۔
اب وہ سیدزادہ گرفتار ہے اور قانون کے مطابق کاروائی ہورہی ہے۔ اب سارے اس سید زادے کے سفارشی ہیں۔ کہتے ہیں وہ سید زادہ "معصوم انسان" ہے اور بس ایرانی قیادت کی محبت اس پر غالب آگئی تو اس نے آپ کو ایجنٹ قرار دے دیا۔ آپ اسے سیریس نہ لیں۔
میرا ان کو یہی جواب رہا ہے کہ پہلے وہ مواد فراہم کریں جو میرے نام کے ساتھ اس نے منسوب کیا ہے۔ میں نے کب اور کہاں ایسی کوئی بات کی ہے۔
مان لیا وہ سید زادہ "معصوم" ہوگا لیکن ذہن میں رکھیں اس سیدزادے نے میرا امیج تباہ کیا، میرے خلاف فتوی جاری کیا، مجھے ایجنٹ اور غدار ڈیکلر کیا۔
کسی نے کہا آپ کا امیج اس قانونی کاروائی سے لیہ میں برا ہورہا ہے۔ مطلب جب میرے بارے لکھا گیا کہ یہ ایران اور ایرانی قیادت کا غدار اور ایجنٹ ہے اس وقت امیج بہتر ہورہا تھا اب میری قانونی کاروائی کے بعد برا ہورہا ہے؟
بہرحال یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں ہوتا لیکن بعض مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور میں نے بھی بھاری دل کے ساتھ فیصلہ کیا کہ مجھے اس پر قانونی کاروائی کرنی چاہیے جو میں نے کی ہے۔ قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ امید ہے وہ سیدزادہ اور اس کے ہمدرد یقیناََ میرے سب بیانات، میری تحریریں اور میرے وی لاگ عدالت میں پیش کریں گے جن کی بنیاد پر مجھے اس "معصوم" سید زادے نے ایجنٹ ثابت کیا ہے۔
اب پورے لیہ کو اس "معصوم سیدزادے" سے ہمدردی ہے مجھ سے نہیں جس کی زندگی اور عزت اور ساکھ اس نے خطرے میں ڈال دی۔ افسوس ہوتا ہے کہ ساری عمر اپنے علاقے اور لوگوں کی محبت میں گرفتار رہے اور جب بھی مجھے کوئی نوکیلا اور تکلیف دہ پتھر آن لگا تو وہ لیہ کی فضائوں سے ہی آیا۔۔
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

