Wednesday, 14 January 2026
  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Karachi Airport Par Abbottabad Ka Nadeem

Karachi Airport Par Abbottabad Ka Nadeem

کراچی ائرپورٹ پر ایبٹ آباد کا ندیم

ہم انسان بڑی دلچسپ چیز یا نمونہ ہیں۔ ہر جگہ آپ کو دلچسپ کردار ملتے ہیں جو میرے علم میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے کہا جاتا ہے سفر کیا کریں کہ آپ rigid اور شدت پسند نہیں بنتے۔ میں انسانی رویوں سے سیکھتا رہتا ہوں اور خود کو بہتر کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔

آج کراچی ائرپورٹ کی مثال دیکھ لیں۔ ہمارے دیوان اقبال نے ائرپورٹ پر ڈراپ کیا۔ رضوان بھائی کے ڈرائیور نواب شاہ ساتھ تھے۔ میں ائرپورٹس بک اسٹورز کا ضرور وزٹ کرتا ہوں۔ کتاب یا کتابیں ضرور خریدتا ہوں تاکہ یہ دکانیں بند نہ ہوں۔ کراچی ائرپورٹ پر بک شلیف سے ہمیشہ جب بھی آنا ہوا بکس خریدی ہیں۔

آج بھی پی آئی اے کی اسلام آباد فلائٹ کے لیے بورڈنگ پاس لے کر سیدھا بک اسٹور پر گیا اور وہاں واقعی اچھی کتابیں تھیں۔

میرا ماننا ہے ائرپورٹس پر مسافر کے پاس کم وقت ہوتا ہے لہذا اچھے ٹائٹل رکھے جاتے ہیں تاکہ پہلی نظر میں کتاب پسند کرے۔ واقعی یہاں اچھی بکس ہیں۔ میں نے پہلے سوچا ایک خریدوں گا لیکن پھر کتابوں کی لسٹ لمبی ہوتی گئی۔ اتنی دیر میں وہاں کاونٹر پر موجود صاحبان سے گپ شپ لگتی رہی۔

میں نے پوچھا کچھ رعایت بھی کرتے ہیں۔

وہ بولا صاحب اجازت نہیں ہے۔

میں نے کہا یار گاہک کو ایک حجت ہوتی ہے۔ آپ کو بھی ہوتی ہوگی جب آپ کسی اسٹور پر جاتے ہوں گے۔

کہنے لگے جی بالکل ہوتی ہے کہ دکاندار کچھ کم کرے۔

میں نے حوصلہ پکڑا اور کہا پھر آپ کو مجھے بھی کرنی چاہئے۔

بولا نہیں صاحب۔ ہماری تنخواہ سے اس کا مالک دس فیصد کاٹ لے گا۔

خیر 13175 روپے بل بنا، میرا خیال تھا کہ وہ کم از 175 روپے چھوڑ کر کہے گا جائیں کیا یاد کریں گے۔

اسلام آباد سے یہی خریدتا تو مجھے بیس پچیس فیصد رعایت مل جاتی ہے (امید ہے میری بیگم نہیں پڑھے گی ورنہ کلاس ہوگی کہ کیا ضرورت تھی کراچی ائرپورٹ سے لینے کی۔ اسلام آباد سے لیتے تو دو تین ہزار روپے بچت ہو جاتی۔ اب اسے کیا سمجھائیں کہ جس شہر جائیں وہاں کے مقامی لوگوں کو بزنس دینا چاہیے)۔

میں نے پوری ادائیگی کی اور ان دونوں صاحبان کو کہا آپ دونوں کو ایک دعا دوں؟

وہ بولے جی جی بالکل۔

میں نے کہا خدا کرے آپ جہاں سے بھی روز مرہ کی خریداری کریں وہ آپ کو اس طرح مہنگی چیز بیچے اور آپ کے منت ترلے کے باوجود ایک روپے کی رعایت نہ کرے۔

وہ دونوں ہکا بکا مجھے دیکھنے لگے کہ کیسی دعا دی ہے۔ بولے صاحب کچھ رعایت کریں دعا میں۔ میں نے کہا آپ نے رعایت دی کہ مانگ رہے ہیں؟

وہ مجھے حیرانی سے کتابوں کا بنڈل اٹھا کر جاتے دیکھتے رہے۔

ائرپورٹ کے لاونج میں داخل ہوں تو وہاں کافی شاپس کے ساتھ ایک بک اسٹور اور بھی ہے۔ سوچا وہاں بھی نظر مار لیتے ہیں۔

اندر داخل ہوا تو وہاں بھی دو نوجوان بیٹھے کچھ منگوا کر لنچ کررہے تھے۔

میں نے داخل ہو کر سلام کیا۔ دونوں نے نظر انداز کیا اور سلام کا کوئی جواب نہ ملا۔

خیر میں نے کتابیں دیکھنا شروع کیں۔ وہ دونوں کھانا کھاتے رہے۔ ہمارے ہاں کچھ بھی ہو بندہ صلح کر لیتا ہے آئیں آپ بھی شریک ہوں، دونوں نے وہ روایتی صلح بھی نہیں کی۔ کچھ دیر کوئی اچھی کتاب کی کوشش کی نہ ملی تو نکل گیا۔ نہ انہیں میرے آنے سے فرق پڑا تھا نہ جانے سے۔ دونوں کی گاہک سے عدم دلچسپی عروج پر تھی۔

سوچا اب ائرپورٹ پر کافی پی جائے تو گلوریا جنیز نظر آئی۔ وہاں چلا گیا۔ وہاں ایک نوجوان لڑکا کھڑا تھا۔

اس سے گرین ٹی کی فرمائش کی۔ بل 575 روپے بنا۔ میں نے ایک ہزار روپیہ نکال کر دیا تو بولا پچھتر روپے چینج ہوں گے؟

میں نے کہا چندہ آپ کے پاس چینج ہونی چاہیے میرے پاس کہاں کھلے پچھتر ہوں گے؟

وہ نوجوان مسکرایا اور اس نے مجھے پانچ سو واپس کر دیا۔ پچھتر روپے چھوڑ دیے۔

اب جھٹکا کھانے کی باری میری تھی۔ میں نے کہا یار آپ نے پچھتر روپے چھوڑ دیے۔ یہاں تو لوگ ایک روپیہ نہیں چھوڑتے۔ وہ مسکرا پڑا۔

بات سو یا پچھتر روپے کی نہیں۔ یہ صرف gesture ہوتا ہے۔

ایسی باتیں یاد رہتی ہے۔ انسان سے انسان کی محبت اور کئیر کا اظہار ہوتا ہے۔

میں نے کہا آپ کا کیا نام ہے۔ آپ کہاں سے ہیں۔

بولا میرا نام ندیم ہے۔ میں ایبٹ آباد سے ہوں۔

ہم دیہاتی دورداز کے لوگ ابھی بھی شہروں میں جا کر شہر کی سخت اور بے رحم رویوں کے ابھی عادی نہیں ہوئے۔ دیکھتے ہیں ندیم کب تک اپنے اندر کے دیہاتی کو کراچی شہر میں زندہ رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

شکریہ ندیم

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Karachi Airport Par Abbottabad Ka Nadeem

By Rauf Klasra