گولڈ اسمتھ کالج لندن سے سکینڈ کپ ملتان تک

آج مجھے ایمرجنسی میں ملتان آنا پڑا۔ میرے ایک بہت قریبی عزیز ہسپتال میں داخل ہیں۔ ان کی خیریت پوچھنے آیا تھا۔
انہیں پرسوں لیہ سے ملتان لایا گیا اور ہمارے منے بھائی شکیل انجم نے ان کا بہت خیال رکھا اور کسی قسم کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
میری ملتان میں پہلی بریک ہمیشہ جمشید رضوانی کے دفتر بوسن روڈ پر سکینڈ کپ کیفے پر ہوتی ہے جہاں صفدر بھائی، ریاض گمب، ندیم سعید، جمشید کے ساتھ یادیں محفوظ رکھی ہیں۔ پہلے وہاں بیٹھ کر سکون سے کافی پی کر باقی روٹین کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
خیر وہاں پہنچا تو جمشید رضوانی پہلے پہنچ چکا تھا۔ کافی لینے اندر گئے تو میں نے جمشید کے لیے کیفے کا دروازہ کھولا تو وہ گزرا پیچھے سے تین چار لڑکیاں بھی آرہی تھیں۔ میں دروازے کو کھول کر کھڑا رہا تاکہ وہ بھی گزر جائیں۔ انہیں یہ بڑا عجیب لگا کہ کسی نے ان کے لیے دروازہ کیوں پکڑ رکھا تھا۔
ان چاروں میں سے کسی نے بھی شکریہ ادا نہیں کیا بلکہ حیران سے زیادہ پریشان تھیں۔
مجھے یاد آیا جب میں پہلی دفعہ 2006 میں لندن کے گولڈ اسمتھ کالج پڑھنے گیا تو میں بھی اس طرح حیران ہوتا تھا کہ اتنی خوبصورت لڑکی جو مجھ سے پہلے گیٹ کھول کر اندر جارہی تھی اس نے مڑ کر میرے لیے کیوں مسکرا کر دروازہ پکڑ رکھا ہے کہ میں گزر جائوں؟
میں بھی کچھ دن تک ایسے بغیر شکریہ ادا کیے گزر جاتا تھاجیسے وہ چاروں لڑکیاں گزر گئی تھیں۔
پھر ایک دن ایک لڑکی نے مجھے کہا Welcome
۔ میں حیران ہوا تو وہ رک کر بولی
you are supposed to say thank you. I am supposed to say welcome.
میں کئی دن تک شرمندہ رہا۔ وہاں میں نے پھر دوسروں کو مسکرا کر دیکھنا اور ہیلو کہنا انہی سب سے سیکھا، دروازہ پکڑ کر رکھنا اور شکریے کے جواب میں ویلکم کہنا سیکھا۔
جمشید میرے ساتھ تھا۔ میں نے کہا یار یہ لڑکیاں وہاں کھڑی ہیں جہاں میں گولڈ اسمتھ کالج میں آج سے بیس سال پہلے 2006 میں کھڑا تھا۔ میں خوش قسمت تھا کہ مجھے chevening scholarship مل گیا تھا جس میں ہمارے پیارے ناصر کاظمی کا بڑا رول تھا۔
اب کاظمی صاحب اسلام آباد چھوڑ کر لندن رہتے ہیں اور اس سکالرشپ کو نہیں دیکھتے ورنہ ان سے ریکوسٹ کرتا ہمارے ملتان کی ان چار لڑکیوں کو بھی سکالرشپ دیں۔ میری طرح وہ لندن کالج سے اور کچھ نہ بھی سیکھیں، کم از کم دوسروں کے لیے دروازہ ہولڈ کرنا یا ہولڈ کیے بندے کو بغیر حیران پریشان ہوئے شکریہ کہنا سیکھ آئیں گے۔

