فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے نام

اگرچہ یہ مناسب نہیں لگتا کہ ملک کے آرمی چیف کو اسلام آباد کے ماحول کی بربادی کے حوالے سے کچھ لکھ کر ان کی مدد مانگی جائے۔ لیکن کیا کریں جس ملک میں پوری 440 ممبران پارلیمنٹ، وزیراعظم، ساٹھ رکنی کابینہ سب حیران کن طور پر خاموش ہوں اور اکیلا میڈیا ہی اسلام آباد کے جنگل درخت بچانے کی کوشش میں لگا ہوا ہو وہاں آپ سے براہ راست بات کرنے میں ہرج نہیں ہے۔
آئی ایٹ سے زیرو پوائنٹ تک کا کئی کلو میٹر پر محیط پورا ہر بھرا جنگل درخت تباہ کرنے کے بعد سی ڈی اے کا کہنا ہے یہاں انہوں نے مئی میں بھارت کے خلاف جنگ میں فتح کی یادگار بنانی ہے۔
یقینی طور پر یہ پاکستانی قوم اور فوج کی بڑی کامیابی ہے جس پر ہم سب کو فخر ہے۔ لیکن اس کے لیے کئی کلومیٹر کا جنگل/ہزاروں درخت کاٹ وہاں ایک یادگار بنانا کئی حساب سے شہر کے لاکھوں لوگوں کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔ یہ یادگار شکڑپڑیاں پریدڈ گراونڈ میں بھی بن سکتی ہے۔ اس کے لیے اتنا بڑا جنگل کاٹنے کی کیا ضرورت ہے۔
ہماری فوج یقینی طور پر سرحدوں کا دفاع کررہی ہے لیکن اگر ملک میں ماحولیات کا دفاع نہ کیا گیااور سب درخت جنگل کاٹ ڈالے گئے تو سب فتوحات بے معنی ہو جائیں گی۔ سی ڈی اے افسران ہر جگہ فوج کا نام دے رہے ہیں کہ وہ یادگار بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام ناخوش ہے۔ میڈیا ناخوش ہے۔ اچھا تاثر نہیں جارہا۔
اسلام آباد کی خوبصورتی کی وجہ یہی درخت اور جنگل ہیں۔ ابھی سے شہر کا ماحول خراب ہونا شروع ہورہا ہے۔ آلودگی /سموگ بڑھ رہی ہے۔ شہر سے بارشیں روٹھ گئی ہیں۔ اس طرح پارک روڈ پر DHA کے نام پر درخت جنگل کٹ رہے ہیں۔
ہوسکتا ہے یہ معمولی باتیں لگتی ہوں لیکن یہ اہم ایشوز ہیں۔ اگر ملک کے کروڑں لوگوں کو اچھا ماحول ہی دستیاب نہیں تو ہمارا اندرونی ماحولیاتی دفاع سخت خطرے میں ہے۔
آپ سی ڈی اے کو کہیں وہ فوج کے نام پر اتنے بڑے رقبے پر جنگل درخت برباد نہ کرے۔ آئی ایٹ جنگل کو دوبارہ درخت لگا کر آباد کرے۔ مئی جنگ کی یادگار کو شکڑ پڑیاں پریڈ گراونڈ میں شفٹ کرے جہاں پہلے پڑیڈ کے لیے خالی جگہ موجود ہے۔
سی ڈی اے نے فوج کی یادگار کے نام پر کاٹے گئے ہمارے خوبصورت شہر کو ہمارے جنگل واپس کرے۔ ہمارے درخت واپس کرے۔ آپ سے توقع ہے کہ ان چند گزارشات پر غور کریں گے اور ہمارے آئی ایٹ کے جنگل درخت واپس کرائیں گے۔ انشاء اللہ
بہت شکریہ

