Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Rao Manzar Hayat

Sarshari

کرختگی اور سختی سے ہزاروں نوری سال دور۔ دو دن قبل محترم یعفور صاحب نے کمال مہربانی کی۔ ہر وقت ان لوگوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جو دنیا ہی کو حاصل زندگی گردانتے ہیں۔ چلیئے کچھ متضاد خیالات کے افراد سے بھی ملتا ہوں۔

آصف صاحب سے ذکر کیا تو بتایا کہ وہ "دعوت اسلامی" سے منسلک ہیں۔ دبے لفظوں میں اپنی جماعت کے چند کارناموں کا ذکر بھی کیا۔ جیسے حالیہ سیلاب میں پورے ملک میں حد درجہ بہترین کام۔ میرے ذہن میں خدشہ تھا کہ کہیں یہ مبالغہ نہ ہو۔ اگر واقعی کام کیا ہے تو لوگوں کو کیوں معلوم نہیں۔ کسی قسم کی تشہیر کیوں نہیں۔ مگر اپنا یہ سوال کسی طرح بھی زبان پر نہ لا چاہیے۔

طے ہوا کہ دعوت اسلامی کے لاہور ریجن کے نگران محترم یعفور رضا عطاری تشریف لائیں گے اور پھر مکالمہ ہو گا۔ ہوا کچھ یوں کہ ہفتہ کی شب مقررہ وقت پر قبلہ تشریف لے آئے۔ ساتھ چار پانچ ساتھی بھی تھے۔ دراز قد انسان، سادہ کپڑے اور صاف ستھری شخصیت۔ باتیں شروع ہو گئیں۔ بتانے لگے کہ دنیا کے ان گنت ملکوں میں جا چکا ہوں۔ مقصد صرف ایک کہ وہاں مقامی طور پر لوگوں کی کیسے خدمت کی جا سکتی ہے۔

کسی معاوضہ اور جزاء کی طلب کے بغیر۔ بات دل کو لگی۔ ان افراد کا مقصد ہی اسلامی طرز سے عام انسان کی خدمت ہے۔ گفتگو جاری تھی کہ بڑی عجیب سی بات بتائی۔ برطانیہ کے ایک شہر برمنگھم میں ڈے کیئر سینٹر کی بابت بتانے لگے۔

مسلمان بچے ذہنی طور پر دوسرے بچوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ یہ فقرہ میرے لیے حد درجہ منفرد بلکہ عام ڈگر سے ہٹ کر تھا۔ ذہن میں آیا کہ عطاری صاحب نے بھی روایتی مولویوں والی بات کی۔ پر جب وجہ بتائی تو ذہن کا زاویہ درست ہونے گا۔ اسلام میں بچوں کی بھرپور تربیت ماں کی گود ہوتی ہے۔

جہاں سے محبت، شفقت اور اپنائیت کے سوتے نکلتے ہیں۔ مغرب میں بچے اور بچیاں ڈے کیئر سینٹر میں پلتے ہیں جہاں دنیا کی ہر آسائش تو موجود ہوتی ہے مگر ماں کی وہ محبت میسر نہیں ہوتی جو ایک مسلمان گھر کا خاصہ ہے۔ عطاری صاحب کا جواب اور وضاحت حد درجہ معقول تھی۔ والدہ کی گود اور ڈے کیئر سینٹر کا کوئی موازنہ یا مقابلہ بنتا ہی نہیں۔ کمال بات۔

دو ڈھائی گھنٹے کی نشست میں عطاری صاحب حد درجہ صاف گوئی سے گفتگو کرتے رہے۔ اسلام میں علم کی بنیاد یعنی قرآن مجید اور حدیث کی روشنی میں مدلل بیان جاری رہا۔ خود ہی کہنے لگے کہ دنیا کا ایک کونہ بھی نہیں جہاں اسلام عملی طور پر نافذ ہو۔ اتنے عمدہ سچ کی توقع نہیں تھی۔ مگر اس میں اسلامی اصولوں کی کمزوری نہیں کہ مسلمان کسی ایک زمینی ٹکڑے پر انھیں علمی اور عملی طور پر قابل عمل نہ بنا پائے۔

اتنا سادہ اعتراف آج تک کم از کم مجھے سننے میں نہیں آیا۔ یہاں تو کسی کم علم مذہبی عالم سے بات کریں کہ جناب آپ جو فرما رہے ہیں اس کی عملی مثال کیا ہے۔ تو نوے فیصد امکان ہے کہ جھگڑا اور ذاتی حملے شروع ہو جائیں گے۔ وجہ کیا ہے۔ میرے اس سوال پر عطاری صاحب نے کمال جواب دیا۔

اسلام کے متعلق ہماری ترتیب الٹی ہے۔ سب سے پہلے اسلام کو اپنی ذات پر نافذ کرنا چاہیے۔ اگر اس کام میں کامیابی ہو جائے تو دین بڑے آرام سے پورے معاشرے میں خود بخود نافذ ہو جائے گا۔ حد درجہ سادہ سا اصول مگر بہت اہم۔ یہ نکتہ کوئی اور مذہبی جماعت خال خال ہی پیش کرتی ہے۔ دراصل مسئلہ اسلام نہیں بلکہ ہم ہیں۔ ہم بحیثیت ملت، جدید ترین طریقوں سے ابلاغ نہیں کر پائے۔ اپنا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچاپائے۔

لہٰذا سقم رہ گیا۔ ہاں! ایک اور بات جسے درج کرنا حد درجہ اہم ہے۔ عطاری صاحب نے کسی دینی یا کسی بھی مذہبی جماعت کے متعلق ایک منفی فقرہ نہیں کہا۔ کسی کی برائی نہیں کی۔ صرف دعوت اسلامی کے پیغام پر زور دیتے رہے۔ ہم ڈیڑھ سو سے زیادہ ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ مغربی ممالک سے لے کر افریقہ تک ہر جگہ ہماری جماعت موجود ہے۔ مگر آپ کام کیا کرتے ہیں۔

جواب حد درجہ پروگریسو تھا۔ تعلیم دیتے ہیں۔ ہمارا بنیادی نکتہ ہی تعلیم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا اسلامی ماحول برپا کرتے ہیں کہ تربیت بھی ساتھ ساتھ جاری رہے۔ جوہر ٹاؤن میں واقع ہمارے مرکز فیضان مدینہ میں کوئی بھی استاد پی ایچ ڈی سے کم نہیں۔ اپنے اپنے شعبوں کے بہترین دماغ اکٹھے کر رکھے ہیں۔ پچاس کے لگ بھگ مضامین اور شعبہ جات ہیں۔ فرمانے لگے کہ یہ اسپیشلائزیشن کا دور ہے۔

کوئی شعبہ ایسا نہیں جسے کم تعلیم والے اساتذہ کے حوالے کیا جا سکے۔ لہٰذا کوشش کر کے اپنے اپنے شعبوں میں پی ایچ ڈی کی سطح کے لوگوں کا گلدستہ اکٹھا کیا ہے۔ یہ بات کم از کم طالب علم کے لیے حد درجہ حیران کن تھی۔

حد درجہ سادہ لباس میں نظر آنے والی پر تاثیر شخصیت کتنی عملیت پسند ہے۔ ہم تعلیم کو ہر دوسرے کام پر فوقیت دیتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ خدا کا اپنے نبی ﷺ کو پہلا حکم تھا۔ "اقراء" کی مناسبت سے کسی بھی ادارے یا جماعت کے لیے یہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

"دعوت اسلامی" اس اقراء والے حکم کی من و عن پیروی کرتی ہے۔ عطاری صاحب کی باتوں میں کسی قسم کی کوئی شدت پسندی یا جذباتیت نہیں تھی۔ یہ کیفیت اس وقت طاری ہوتی ہے جب انسان، اپنے خیالات کو اپنی شخصیت کا محور بنا لیتا ہے۔ اس میں جعلی پن ہو ہی نہیں سکتا۔ ہمیں یونیورسٹی کھولنے کا چارٹر بھی حکومت دے چکی ہے۔

تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ قلیل عرصے میں دعوت اسلامی اپنی طرز کی دنیا میں سب سے ممتاز یونیورسٹی شروع کرے گی۔ تعلیم پر اتنا اصرار مجھے کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کے عمائدین میں نظر نہیں آیا۔

بات صفائی پر مرکوز ہو گئی۔ عطاری صاحب نے قرآن اور احادیث سے ان گنت مثالیں دیں کہ اسلام میں صفائی کی کس قدر اہمیت ہے۔ مگر دکھ سے بتانے لگے کہ دیگر اہم احکامات کی طرح مسلمان اس طرف بھی حد درجہ کم توجہ دیتے ہیں۔

آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مضمون کی طرف اشارہ کیا کہ کپڑے وہ پہن کر باہر جاؤ جس سے لوگوں میں آپ کی عزت ہو۔ یعنی دین اور دنیا کو توازن کے ساتھ یکساں لے کر چلو۔ اس حدیث سے کم از کم ایک بات تو عطاری صاحب نے صاف بتا دی۔ کہ اسلام میں صفائی، ستھرائی اور ذاتی شخصیت کو معاشرے میں اچھے طریقے سے پیش کرنے کا حکم ہے۔

مجذوبیت، رہبانیت، غلاظت اور عدم توازن ہمارے عظیم مذہب کا حصہ نہیں ہے۔ بلکہ آقا ﷺ اور اللہ کے احکامات کی نفی ہیں۔ گفتگو کے دوسرے حصوں پر جانے سے پہلے ایک مشاہدہ عرض کرتا چلوں۔ دو ڈھائی گھنٹے کی نشست میں عطاری صاحب کے ہمراہ چھ ساتھی تھے۔ کسی ایک نے بھی ان کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کی ہمت نہیں کی۔ ادب سے باتیں سنتے رہے بلکہ کوشش کرتے رہے کہ باتوں کا تسلسل برقرار رہے۔

باتوں کی لڑی نہ ٹوٹ پائے۔ یکسوئی اور ادب کا یہ مظاہرہ بہت کم دیکھا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر ہر پائے کے اکابرین سے پوری زندگی واسطہ رہا مگرکسی دنیاوی طاقتور ترین دربار میں عاجزی اور ادب کا یہ نمونہ قطعاً نہیں دیکھا۔ یہ ایک نایاب دینی اور دنیاوی تجربہ تھا۔

عطاری صاحب نے اسلام میں خواتین کی خانگی ذمے داریوں اور ان کی حد درجہ اہم ذمے داریوں پر تفصیل طلب گفتگو کی۔ اس میں ایک بھی لفظ بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کے خلاف نہیں تھا۔ بلکہ حد درجہ قابل احترام رویہ تھا۔ مذہبی پختگی، جدت اور روایت کا اتنا بھرپور ملاپ کبھی دیکھنے میں نہیں ملا۔ کووڈ کے دوران ایک واقعہ بتانے لگے۔

پورا کاروبار زندگی بند تھا۔ لہٰذا Thallesimia میں مبتلا بچوں کو تازہ خون ملنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔ شوریٰ میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا تو باہم فیصلہ ہوا کہ بچوں کو ہر قیمت پر خون مہیا کیا جائے۔ دعوت اسلامی کے ایک اشارے پر پچاس ہزار خون کی تھیلیاں اکٹھی ہو گئیں۔ عطیہ لینے والوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے کہ ہمارے پاس اتنی کثیر تعداد میں خون محفوظ رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

اس طرح کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی کہ کسی ایک غیر سیاسی جماعت نے، جس کا حکومت یا دربار سے قطعاً کوئی تعلق نہ ہو۔ اتنی بڑی مقدار میں معصوم بچوں کو اتنا وافر خون مہیا کر دے۔ عطاری صاحب یہ بھی بتانے لگے کہ خون جمع کرنے والے اداروں اور این جی اوز کے پاس پلاسٹک کی تھیلیاں ختم ہو گئیں۔ مگر "دعوت اسلامی" کے حکم پر عطیہ دینے والوں کی تعداد جوں کی توں رہی۔ بہر حال یہ بذات خود ایک حد درجہ سنجیدہ کارنامہ ہے۔

ہمارا مقتدر اور لبرل طبقہ، مذہبی طبقہ کا مذاق اڑاتا ہے۔ ان کے پاکیزہ حلیہ کو کمتری کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان کی مخصوص پگڑیوں کا ٹھٹھہ لگتاہے۔ پر جناب! آپ ان حد درجہ متاثر کن لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر تو دیکھیں۔ ان کی باتیں تو سنیں۔ ان کے کردار کی قوت کو تو آزمائیں۔ آپ ان کی صلاحیت، افکار اور کام دیکھ کر ششدر رہ جائیں گے۔ کم از کم میرے اوپر تو یہی سرشاری کی کیفیت طاری ہے!

Check Also

Charcoal Drawing

By Sana Shabir