Thursday, 09 April 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Jang Bandi Ke Baad Bhi Pakistan Ke Bad Khwahon Ke Waswasay

Jang Bandi Ke Baad Bhi Pakistan Ke Bad Khwahon Ke Waswasay

جنگ بندی کے بعد بھی پاکستان کے بدخواہوں کے وسوسے

چند روز قبل بھارت کے مفکر اعظم مشہور ہوئے وزیر خارجہ نے پاکستان کے بارے میں غیر سفارتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایک بازاری لفظ ادا کیا تھا۔ مجھ بے وقوف کو اسی وقت سمجھ لینا چاہیے تھا کہ جے شنکر کی ہذیانی کیفیت خفت کا بھرپور اظہار ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ مودی کی قیادت میں دنیا کا استاد اور دیگر ملکوں کو اپنے تئیں سفارتی اقدار سکھاتا بھارت خود کو "وشواگرو" ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران پر حالیہ جنگ مسلط ہونے کے فقط دو دن قبل نریندر مودی اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کررہا تھا۔ اس خطاب کے بعد وہ ایران اور عرب ممالک کا اعتماد کھوبیٹھا۔ امریکی صدر ٹرمپ بھارت کے جارحانہ مزاج کو مئی 2025ء کی پاک-بھارت جنگ کے دوران ہی دریافت کرچکا تھا۔

ایسے حالات میں تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو آزمائش میں ڈالتے ہوئے جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے کروڑوں لوگوں کو تباہی، بربادی اور قحط سالی سے بچانے کے لئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہوتے ہوئے بھی جنگ بندی کی کاوشیں شروع کردیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مجسم خودپسند ہوتے ہوئے بھی وزیر اعظم پاکستان کے قیام امن کے حوالے سے سوشل میڈیا کے ایکس (X)پلیٹ فارم پر لکھے ایک پیغام کو ری پوسٹ بھی کردیا۔ انتہائی تجربہ کار سفارت کار ہوتے ہوئے جے شنکر بھانپ گیا کہ پاکستان کی پرخلوص کوششیں بالآخر کامیاب ہوسکتی ہیں۔ دنیا کو اس کی ضرورت کی 20 فیصد گیس، تیل اور کھاد سے محروم کرنے کے امکانات سے بھرپور جنگ رکوانے میں پاکستان کی کامیابی بھارت کے لئے انتہائی خفت کا باعث ہوگی اور جے شنکر ہذیان بکنا شروع ہوگیا۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ فقط ہمارا ازلی دشمن ہی پاکستان کی خواہش امن سے ناخوش نہیں تھا۔ ہمارے چند "برادر" ممالک بھی اس کی وجہ سے خفا محسوس کررہے تھے۔ پاکستان مگر کروڑوں انسانوں کو کامل تباہی کی جانب دھکیلنے کی جنگ رکوانے میں مصروف رہا۔ دائمی امن کا خواہاں ہونے کے باوجود ذاتی طورپر منگل کی رات سونے سے قبل میں امید کھوچکا تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہ بدھ کی صبح آنکھ کھلے گی تو ٹرمپ دنیا کی ایک قدیم تہذیب (ایران) کو ختم کرنے کے لئے منگل کی شام لکھے ایک سوشل میڈیا پیغام کے مطابق عمل کرنا شروع ہوچکا ہوگا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مگر ہمت نہ ہاری۔ بھرپور ہوم ورک کے بعد سفارت کارانہ جرأت دکھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر منگل کی رات گئے ایک پیغام لکھ دیا۔ اس کے ذریعے فریقین سے درخواست ہوئی کہ وہ فوری جنگ بندی کے بعد سفارت کاری کو دیرپاامن کی راہ ڈھونڈنے میں معاونت فراہم کریں۔ امریکی صدر نے چند ہی لمحوں بعد سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی استدعا منظور کرنے کا اعلان کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی رضا مندی کا اظہار کردیا۔ یوں پاکستان اپنی کاوشوں میں سرخرو ہوگیا۔

جنگ رک جانے کے بعد مگر سفارت کاری کا اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے۔ اسلام آباد کو امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست مذاکرات کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا کے لئے "دہشت گردی" کا مسلسل نشانہ بناکردکھائے ملک کے دارلحکومت میں فروری 1979ء سے ایک دوسرے کے دشمن ہوئے ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کا ملنا ہمارے کئی دشمنوں کو برداشت نہیں ہوگا۔ ریاستی اداروں ہی کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی لہٰذا اپنی ساکھ و وقار برقرار رکھنے اور بڑھانے کی خاطر چوکنا رہنا ہوگا۔ اسرائیل بھی جنگ بندی ہضم نہیں کرپائے گا۔

اس کے زیر اثر "عالمی میڈیا" میں بدھ کی صبح ہی سے سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کردہ جنگ سے کیا حاصل کیا ہے۔ علاوہ ازیں نہایت سنجیدگی سے سوال یہ بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہوگا یا نہیں۔ اس ملک کے جنوب میں اسرائیل مسلسل فقط فضائی بمباری کے ذریعے ہی نہیں بلکہ زمینی افواج کو ملوث کرتے ہوئے بھی ایک مسلک کے حامی تمام لبنانی شہریوں کو "حزب اللہ" کے متحرک حامی ٹھہرارہا ہے۔ جنوبی لبنان کے تقریباََ دس لاکھ افراد گھر بار تباہ کروانے کے بعد سمندر کے ساحلوں پر خیمے لگائے بھکاریوں کی طرح آسمان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ ان کی بے بسی اور بدحالی جاری رہی تو ایران کے لئے امن مذاکرات جاری رکھنا دشوار تر ہونا شروع ہوجائے گا۔

خلیج کے چند ممالک میں بھی اسرائیل اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے سوالات اٹھواسکتا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے ان کا تیل جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے ممالک لے جانے والے ملکوں پر ایران کی "نگرانی" تسلیم کیوں کرے۔ فروری 2026ء میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ آور ہونے سے قبل آبنائے ہرمز "بین الاقوامی راہداری" تصور ہوتی تھی۔ اسے ایران یا عمان یا ان دونوں کے مشترکہ کنٹرول کے تحت تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ 6 ہفتوں کی جنگ کے دوران شدید ترین فضائی بمباری کا سامنا کرتے ہوئے بھی ایران نے مگر آبنائے ہرمز پر اپنا کامل اختیار ثابت کردیا ہے۔

وہاں سے محض وہ بحری جہاز ہی گزرسکے جنہیں پاسداران انقلاب راہداری کی قیمت وصول کرنے کے بعد گزرنے کی اجازت دیتے تھے۔ اسرائیل کی بھرپور کوشش ہوگی کہ چند عرب ممالک اس امر کو ڈٹ جائیں کہ ماضی کی طرح آبنائے ہرمز اب بھی "بین الاقوامی راہداری"ہی رہے۔ وہاں سے گزرتے بحری جہازوں کو ایران کی اجازت درکارنہ ہو۔ نہ ہی انہیں راہداری کی صورت کوئی رقم ادا کرنا پڑے۔ دیرپا امن یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے حوالے سے ایک نیا قضیہ کھڑا کرنے کی کوشش ہوگی۔ سعودی عرب، مصر اور ترکی کے ساتھ مل کر پاکستان کو اس حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔

اندیشہ ہائے دور دراز میں بدھ کی صبح اٹھنے کے بعد مبتلا ہوجانے کے بجائے میں فی الوقت منگل کی رات تک کامل خوف سے گھبرائے اور مفلوج ذہن کے اطمینان کا لطف اٹھانا چاہتا ہوں۔ جنگ بند نہ ہوتی تو فقط ایک تہذیب (ایرانی) ہی تباہ نہ ہوتی۔ ہمارے ملک میں تیل اور گیس کی عدم دستیابی کا ناقابل تصور بحران بھی اٹھ کھڑا ہوتا۔ شیر کی طرح منہ کھولے کسادبازاری، بھوک اور بے روزگاری کا سیلاب ہمیں نگلنے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی سیاست سے ہزاروں اختلافات کے باوجود کھلے دل سے انہیں ہمارے خطے کو کامل تباہی سے دو چار کرنے والی جنگ رکوانے میں کامیابی پر مبارک باد دینا ہوگی۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Social Media Par Fake News Ke Muasharti Asraat

By Mohsin Khalid Mohsin