"درمیانی راہ" ڈھونڈنے میں میری قطعی ناکامی

اردو کے نامور ادیبوں میں سے سب سے زیادہ میں نے قرۃ العین حیدر اور سعادت حسن منٹو کو پڑھا ہے۔ ان کی کئی تحریروں کے علاوہ ان کے فن کا جائزہ لینے سے زیادہ ان کی نجی زندگی کے بارے میں لکھے کئی مضامین بھی ایک سے زیادہ مرتبہ کچھ نئی شے دریافت کرنے کو پڑھے۔ قرۃ العین حیدر کی زندگی کئی حوالوں سے ایک خوش حال گھرانے سے اٹھی ضرورت سے زیادہ اصول پسند خاتون کی عملی مثال تھی۔ سعادت حسن منٹو مگر نفسیاتی اعتبار سے بے پناہ الجھنوں سے نبردآزما رہے۔ خلل دماغ کی وجہ سے انہیں پاگل خانے میں بھی رہنا پڑا تھا۔
اپنی آسانی کے لئے فرض کرلیا جاتا ہے کہ کثرتِ شراب نوشی ان کے پاگل پن کا سبب تھی۔ نفسیات کی الف ب جانے بغیر مگر میں شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ ان کی حساس طبیعت معاشرے میں پھیلی منافقت اور آپا دھاپی سے سمجھوتے کو آمادہ نہیں تھی۔ قیام پاکستان کے دوران ہوئے فسادات، لوٹ مار اور قتل وغارت گری نے انہیں انسانوں کے اندر موجود درندگی کا شدت سے احساس دلایا۔ جو درندگی انہوں نے دریافت کی سراہنے کے بجائے فحش نگاری ٹھہرادی گئی۔ سرکارمائی باپ نے بھی قوم کا "اخلاق" بچانے کے نام پر ان کے خلاف مقدمات قائم کرنا شروع کردئے۔
رپورٹر سے زبردستی "کالم نگار" ہوا میں بے ہنرایک سطر بھی ایسی نہیں لکھ سکتا جو پڑھنے والوں کو منٹو کی یاد دلائے۔ "حق گوئی" کی خواہش بھی عرصہ ہوا دل سے نکال چکا ہوں۔ ملکی سیاست کے بجائے عالمی امور پر لکھتے ہوئے دانشوری جھاڑتا اور نوکری برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ خود پر قابو برقرار رکھنا مگر اب دشوار سے دشوار ترہورہا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط ہوئی جنگ کو 5 ہفتے گزرچکے ہیں۔ اس جنگ کے دوران سرِراہ ملے دیہاڑی داروں کے علاوہ نہایت پڑھے لکھے افراد کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ گھر میں ہوں تو بی بی سی یا سی این این میرے سوتے ہوئے بھی ٹی وی سکرین پر آن رہتے ہیں۔ دس یا پندرہ منٹ گزرنے کے بعد کم ازکم 30سے 35منٹ سوشل میڈیا کے ایکس پلیٹ فارم پر "تازہ ترین" بھی ڈھونڈتا ہوں۔ گھر آئے اخبارات کے پلندے میں چھپے مضامین غور سے پڑھتے ہوئے جنگ کی سمت طے کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تمام تر ذہنی مشقت کے باوجود منگل کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھتے ہوئے میں ہرگز اعتماد کے ساتھ بیان نہیں کرسکتا کہ بدھ کی صبح اٹھوں گا تو امریکی صدر اپنی افواج کو ایران کو "پتھر کے زمانے" میں واپس بھیج دینے کا حکم دے چکا ہوگا کہ نہیں۔
میرے ذہن میں جو سوال ہے اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے میں نے بے تحاشہ پاکستانیوں کے مختلف ٹی وی شوز میں بیان کئے خیالات کو غور سے سنا ہے۔ ہمارے تبصرہ نگاروں کی بھاری بھر کم اکثریت طے کرچکی ہے کہ ایران نے امریکہ اور اس کے عرب ممالک میں موجود اتحادیوں کو حیران کن مزاحمت سے پچھاڑدیا ہے۔ امریکہ اگر واقعتا اپنی رہی سہی ساکھ بچانا چاہتا ہے تو اسے ایران کی شرائط تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی کو آمادہ ہونا پڑے گا۔
ٹرمپ کی ممکنہ پسپائی پرشاداں محسوس کرتے ذہین وفطین تبصرہ نگار پانچ ہفتوں سے ہمارے ہمسائے میں جاری جنگ کی وجہ سے پاکستان پر نازل ہوئی مشکلات پر توجہ دینے کو مگر چند لمحے بھی وقف کرتے سنائی نہیں دیتے۔ میرا ذہن جبکہ اس جنگ کے وطن عزیز پر ممکنہ اثرات پر غور کرتے ہوئے ماؤف ومفلوج ہونا شروع ہوگیا ہے۔ اتوار کے روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام لکھا۔ اس میں ایرانیوں کے لئے جو تضحیک آمیز الفاظ لکھے وہ اتنے غیر اخلاقی کہ ان کا ذکر کرنے سے پہلے سی این این کے اینکرنے ناظرین سے درخواست کی کہ وہ بچوں کو سکرین سے دور کردیں کیونکہ ٹرمپ کا جو پیغام وہ پڑھنے جارہا ہے اس کے کئی الفاظ غیر مہذب ہیں۔ اس کے دئے پیغام کا کلیدی نکتہ تھا کہ اگر ایران نے آئندہ 48گھنٹوں تک آبنائے ہرمز کو بے خطر بحری تجارت کے قابل نہ بنایا تو وہ اس کے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں اور شہروں کو ملانے والے پلوں کو تباہ کرتے ہوئے ایرا ن کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنا شروع ہوجائے گا۔
ٹرمپ کا دھمکی آمیز پیغام پڑھتے ہی مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اپنے پلوں اور بجلی کے نظام پر حملوں سے قبل ہی ایران اپنے خلیجی ہمسایوں میں موجود تیل کے ذخیروں اور بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملوں میں پہل کرسکتا ہے۔ اس خدشے کا اظہار سوشل میڈیا کے ایکس پلیٹ فارم پر کیا تو تبصرہ کرنے والوں کی اکثریت نے میری کم عقلی کی ملامت شروع کردی۔ غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے یاد دلانے لگے کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور وہ پتھر کے ز مانے میں لوٹانے والے حربے استعمال کرنے میں بھی پہل نہیں دکھائے گا۔ منگل کی صبح اٹھتے ہی مگر مجھ بدنصیب کو یہ خبر دیکھنا پڑی کہ ایران سے اچھالے ڈرونز نے سعودی عرب کے مشرقی شہر میں واقع دنیا کے دس بڑے پیٹرو کیمیکل پلانٹس میں سے ایک پر حملہ کردیا ہے۔ اس سے بھی کہیں زیادہ خوف ناک خبر کویت کے ایک ایسے پلانٹ پر حملے کے بارے میں تھی جو سمندری پانی کو انسانی استعمال کے قابل بناتا ہے۔ کویت میں انسانی استعمال کا 90فی صد پانی ایسے پلانٹس سے حاصل ہوتا ہے۔
خلیجی ممالک کی اکثریت بھی انسانی استعمال کے لئے سمندر کے پانی کو صنعتی ذرائع سے مصفا بناتی ہے۔ انسانی استعمال کے لئے صحرائوں کے قلب میں آباد لاکھوں افراد کے لئے پانی کی نایابی جو قیامت برپاکرسکتی ہے اس کا اندازہ لگانے کی کوئی شخص ضرورت محسوس نہیں کررہا۔ پٹرول کو صاف کرتے ہوئے جو کیمیاوی اجزاء نکالے جاتے ہیں وہ زمین سے زیادہ سے زیادہ اناج اگانے کیلئے بطور کھاد استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ صنعتی استعمال کیلئے بے شمار نوعیت کے کیمیائی عناصر بھی کشید کئے جاتے ہیں۔ ٹرمپ ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کے خیال پر ڈٹا رہا تو ہم تو ڈوبے ہیں صنم، کی منطق استعمال کرتے ہوئے ایران خلیجی ممالک کو پتھر کے زمانے میں اپنے ہمراہ لے جانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔
دورِ حاضر کے انسان کی سب سے بڑی بدقسمی ہے کہ فی الوقت ایسا کوئی عالمی ادارہ موجود نہیں جو ایران اور اس کے مخالفین کو معقولیت کی راہ دکھاسکے۔ پاکستان مسلم اُمہ کی واحد ایٹمی قوت ہے۔ اس کی فوجی طاقت بھی مسلمہ ہے۔ 25کروڑ کی آبادی کا حامل ملک ہونے کے باوجود ہم مگر معاشی اعتبار سے فریقین پر دبائو ڈال کر اپنی بات منوانہیں سکتے۔ ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر فریقین کے منت ترلوں میں مصروف ہیں۔ فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے بلاخطر بحری تجارت کی بحالی جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے کروڑوں انسانوں کی بقاء کے لئے فی الفور درکار ہے۔ امریکہ نے مگر مذاکرات کے دوران ہی ایران پر اچانک حملہ کرتے ہوئے اسے یہ سوچنے کو مجبور کردیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ جنگ بندی کے وقفے کو دائمی امن کی تلاش کے لئے نہیں بلکہ ایک اور حملے کی تیاری کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ "عارضی جنگ بندی" کو لہٰذا وہ آمادہ نہیں۔ اپنی شرائط پر آبنائے ہرمز کھولنے کو بضد ہے۔ ٹرمپ اگر اس کی شرائط تسلیم کرلے تو امریکہ کے دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا بھرم خاک میں مل جاتا ہے۔
"درمیانی راہ" گھنٹوں سوچ بچار کے باوجود میں کند ذہن ڈھونڈنے میں قطعاََ ناکام رہا ہوں۔ ربّ کریم سے فریاد ہی کرسکتا ہوں کہ رحم کرے۔ اس کے علاوہ گفتار کے غازیوں سے فریاد یہ بھی ہے کہ محض اس حقیقت کا ادراک اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کی بھی کوشش کریں کہ فرض کیا کہ ہمارے ہمسایے میں جنگ اگر آج ہی بند ہوگئی تب بھی تیل کی قیمت کو 28فروری کی سطح پر لوٹنے کے لئے کم از کم 5ماہ درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ ڈیزل، کھاد اور صنعتی ضروریات کے لئے لازمی تصور ہوتے کیمیاوی عناصر کا حصول بھی آئندہ کئی مہینوں تک دشوار تر رہے گا۔ کامل تباہی، بھوک اور بے روزگاری کا سیلاب شیر کی طرح دھاڑتا ہمارے عوام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہم مگر ہمسایے میں ہوئی جنگ کو یوں زیر بحث لارہے ہیں جیسے ٹی-20میچوں پر تبصرہ آرائی ہوتی ہے۔

