Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Bangal Par Qabiz Hone Ko Behain Modi Sarkar

Bangal Par Qabiz Hone Ko Behain Modi Sarkar

بنگال پر "قابض" ہونے کو بے چین مودی سرکار

بھارت کے دو اہم صوبوں ویسٹ بنگال اور تامل ناڈو کی اسمبلیوں کے انتخاب کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ جو انتخاب ہورہے ہیں ان کے نتائج بھارت کی سیاست میں بھونچال لاسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں مگر ان پر توجہ نہیں دی جارہی۔ جائز وجوہات کی بنا پر ہمارے دل ودماغ آبنائے ہرمز کی بندش کے بارے میں پریشان ہیں۔

ممکنہ طورپر بھارت میں سیاسی بھونچال کا باعث ہونے والے انتخابات کے بارے میں قارئین کو ابتدائی جانکاری فراہم کرنے کے لئے اتوار کی رات سونے سے قبل فیصلہ کیا تھا کہ صبح اٹھتے ہی ویسٹ بنگال کے بار ے میں لکھوں گا۔ ممتا بنیر جی پندرہ برس سے وہاں کی وزیر اعلیٰ منتخب ہورہی ہیں۔ تعلق ان کا ترشول کانگریس سے ہے جو شہری متوسط طبقے کی جاندار تنظیم ہے۔ ممتا بنیر جی نے دن رات کی محنت سے اسے نہایت متحرک رکھا ہے۔ مسلسل 15برس حکومت میں رہتے ہوئے سیاسی جماعتیں اپنے دیرینہ حامیوں کو بھی مایوس کرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ممتا بنیر جی اور ان کی جماعت بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں۔ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے مگر جس جنونی اندازمیں آر ایس ایس کی ہندوانتہا پسندی کو ترشول کانگریس کا متبادل دکھاکر انتخابی مہم چلائی اس نے بنگالیوں میں قوم پرستی کا رحجان بھڑکا دیا ہے۔ نریندر مودی اور بی جے پی کو بھارتی بنگال میں ہندی زبان بولنے والے شمالی بھارت کی نمائندہ جماعت کی حیثیت میں دیکھا جارہا ہے جو ہندوانتہاپسندی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔

ویسٹ بنگال کی انتخابی سیاست میں 40فی صد سے زیادہ حلقوں میں آباد مسلمان اگر یکجا ہوکر کسی ایک جماعت کے ساتھ ہوجائیں تو اس کی جیت یقینی ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل مودی سرکار نے نہایت مکاری سے رائے دہندگان کی فہرست کا جارحانہ انداز میں جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اکثر مسلمان محض اس بنیادپر ووٹروں کی فہرست سے نکال دئے گئے کہ ان کے پاس اپنی شناخت اور مستقل رہائش ثابت کرنے کے لئے چند ایسی دستاویزات موجود نہیں تھیں جن کا حصول پاکستان اور بھارت کے عوام کی اکثریت لازمی تصور نہیں کرتی۔

میرے بچپن میں مثال کے طورپر جنم پرچی نام کی ایک دستاویز ہوا کرتی تھی۔ اسے گلیوں میں جنم (پیدائش) کی پرچی کے بجائے جمن پرچی پکارا جاتاتھا۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد میونسپل کمیٹی کے دفتر میں اس کا نام اور تاریخ پیدائش وغیرہ رجسٹرکروائی جاتی تھی۔ ہمارے آبائی محلے کے مگر اَن پڑھ گھرانے کی تو دور کی بات ہے اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بھی بچوں کی پیدائش رجسٹرد کروانا لازمی شمار ہی نہیں کرتے تھے۔ میرے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا اور سکول داخلے کے وقت مجھے جنم پرچی نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

1970ءکی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے قومی شناختی کارڈ متعارف کروایا تھا۔ مجھ جیسے "انقلابی" نوجوان قومی شناختی کارڈ جیسی دستاویز کو "فسطائی حکومتوں" سے منسوب کرتے تھے جو شہریوں پر کڑی نگاہ رکھتی ہیں۔ کئی برس قومی شناختی کارڈ کے بغیر گزاردئے۔ 1981ءمیں لیکن بے روزگاری سے اکتا کر اعلیٰ تعلیم کی خاطر برطانیہ جانے کا ارادہ باندھا تو پاسپورٹ کے بغیر اس پر عملدرآمد ممکن نہیں تھا۔ اسلام آباد میں 1975ءسے مقیم ہونے کے باوجود اس شہر سے قومی شناختی کارڈ حاصل نہ کرپایا۔ لاہور جانا پڑا اوراپنے آبائی شہر سے بھی قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لئے میٹرک سے ایم اے تک تعلیم مکمل کرنے کی تصدیق کرنے والی دستاویزات کے ہوتے ہوئے بھی آبائی محلے کے دو افراد سے حلف نامے حاصل کرنا پڑے۔ حلف نامے پر دستخط کرنے والوں نے گواہی دی کہ میں اور میرا خاندان ان کے کئی دہائیوں سے محلے دار ہیں۔

بنگال کی انتخابی فہرستوں میں بطور ووٹر اپنا نام برقرار رکھنے کے لئے مشکوک افراد سے بے شمار ایسی ہی دستاویزات کا تقاضہ ہوا جن کی ہم جیسے اَن پڑھ اور غیر منظم معاشروں میں ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ مودی سرکار نے مگر نہایت سوچ بچار کے بعد ان کا تقاضہ لازمی قرار دیا۔ ہندوانتہاءپسندوں کو منظم پراپیگنڈہ کے ذریعے قائل کردیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش سے بے شمار شہری منظم سازش کے تحت بھارت میں در آنے کے بعد ویسٹ بنگال اور آسام میں آباد ہورہے ہیں۔ ان پر نگاہ نہ رکھی گئی تو بنگال اور آسام آنے والے برسوں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں بدل سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش سے آئے مبینہ "گھس بیٹھیوں" سے رائے دہندگان کی فہرست کو "پاک" کرتے ہوئے بے تحاشہ حماقتیں سرزد ہوئی ہیں۔ میر جعفر ہمارے ہاں بدی کی علامت ہے۔ یہ بات مگرحقیقت ہے کہ نواب سراج الدولہ سے غداری کے بعد وہ برطانوی سامراج کی سرپرستی میں بنگال کا حکمران تھا۔ اس کا ایک پوتا سکندر مرزا پاکستان کا صدر بھی منتخب ہوا تھا۔ میر جعفر کے تقریباََ 50کے قریب ترین ورثا اگرچہ کئی دہائیوں سے کلکتہ کے ایک محلے میں آباد ہیں جو کسی زمانے میں شاہی قلعے کا حصہ تھا۔ ان سب ورثا کو بھی ویسٹ بنگال میں ہونے والے انتخاب میں چند دستاویزات میسر نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ میر جعفر کو غداری کی علامت تصور کرنے کے باوجود بھارتی بنگال میں آباد مسلمانوں نے ان کے ساتھ ہوئے سلوک کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھانپ لیا کہ انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کا واحد مقصد انہیں ووٹ کے حق سے محروم رکھنا ہے۔ اسی باعث صوبائی اسمبلی کے ان حلقوں میں ریکارڈ بناتی حدوں تک ووٹنگ ہوئی جہاں مسلمان نمایاں تعداد میں آباد ہیں۔ ایسے ہی ایک حلقے میں 98فی صد ووٹروں نے پولنگ بوتھوں تک پہنچ کر ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔

بھارتی بنگال کے پہلے مرحلے میں ریکارڈ بناتے ٹرن آوٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کئی تبصرہ نگار یہ نتیجہ اخذ کررہے ہیں کہ مودی سرکار فقط ممتا بنیرجی ہی کو شکست دینا نہیں چاہ رہی۔ نام نہاد "ہندی بیلٹ" کی نما ئندہ ہوتے ہوئے بنگال پر "قابض" ہونے کو بے چین ہے۔ قبضے کی ہوس میں فقط مسلمانوں ہی کو نہیں بلکہ بنگال کی منفرد شناخت اور ثقافت کو بھی آر ایس ایس کی پھیلائی ہندوانتہا پسندی کا "غلام" بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ بھاری بھر کم ٹرن آوٹ کے ذریعے بھارتی بنگال کے باسی اپنی جداگانہ شناخت کو شدت سے اجاگر کررہے ہیں۔ بنگالی قوم پرستی کا یہ اظہار بالآخر بھارت کی یک جہتی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کی جنگ بھلاکر میں دو یا تین کالم بھارتی بنگال اور تامل ناڈو میں نمایاں ہورہے سیاسی رحجانات کو تفصیل سے بیان کرنے کے لئے لکھنا چاہ رہا تھا۔ پیر کی صبح اٹھتے ہی موبائل اٹھایا تو ایکس پلیٹ فارم پر خبر یہ دیکھنے کو ملی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں تیزی سے 110ڈالر فی بیرل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس کے اثرات پر غور کیا تو ناقابل برداشت مہنگائی کے خوف سے ذہن ماوف ہوگیا۔ تیل کے ممکنہ بحران سے گھبرایا ذہن کسی ایک موضوع پرتوجہ مرکوز نہیں کرپارہا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Bangal Par Qabiz Hone Ko Behain Modi Sarkar

By Nusrat Javed