شاہ فیصل شہید یاد کیوں آتے ہیں

ستر ہزار سے زائد انسانوں کے خون سے رنگین غزہ کی وہ بدقسمت سرزمین ہے، جس پراز سر نو تعمیر کا منصوبہ ہے جسکی ذمہ داری غزہ امن بورڈ کے ناتواں کندھوں پر آن پڑی ہے اس ساحلی پٹی پر سیاحتی تفریحی ریزاٹس اور رہائشی جدید ٹاورزتعمیر کئے جانے ہیں، اس منصوبہ کے روح رواں امریکی صدر ہیں۔ اس تعمیر کو وہ مشرق وسطی میں امن اور اہل غزہ کی بحالی سے موسوم کر رہے ہیں، اہل عرب بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں، جنکی ہمدردیاں حماس سے زیادہ اسرائیل سے وابستہ ہیں۔
حماس اور اسرائیل کے مابین سیز فائرکے باوجود نہتے فلسطینیوں پر بمباری کا سلسلہ تاحال جاری ہے، عام شہریوں کے ساتھ ساتھ بچے، بزرگ، خواتین حتیٰ کہ صحافی اور عالمی اداروں کے ملازمین بھی محفوظ نہیں رہے ہیں، اب تلک پورا غزہ ملیا میٹ ہوگیا ہے، بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جواسرائیل جنگ کی نذر ہوئے ہیں، جس کے خلاف پورا عالم سراپا احتجاج رہا، مگر اسرائیلی انتظامیہ نے ظلم، جبر اور بربریت کی انتہا کردی جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی، ایک قابض ریاست نے عالمی ادارہ امن اقوام متحدہ کی موجودگی میں کارپٹ بمباری کرکے اہل غزہ کی دنیا ہی اندھیر کر دی، کوئی عالمی، اخلاقی قانون ظالم، جابر سرکار کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، امن کے نام پر نئی پٹاری کھولی جارہی ہے مگر تعمیر غزہ کے عنوان سے امن بورڈ منصوبہ کے خدوخال سے سازش کی بو آرہی ہے، عالمی طاقتوں کی اسرائیل کے حق میں ویٹو اور غزہ کی تعمیر نو پر عشق قاتل سے بھی اور مقتول سے بھی ہمدردی کا مصرعہ صادق آتا ہے۔
ہمیں کامل یقین ہے کہ مجوزہ جدید ٹاورز میں مظلوم بچوں کی آہیں مکینوں کو چین کی نیند نہیں سونے دیں گی، سیاحتی ریزاٹس کی بنیادوں میں اہل غزہ کا خون سیاحوں کے ضمیر پر بوجھ بن کر ان کا پیچھا کرتا رہے گا، گردونواح میں انہیں بچوں کی مائوں کی، آہیں اورسسکیاں سنائی دیں گی، جن کوبغیر کسی گناہ کے شہیدکر دیا گیا۔ باضمیر لوگوں کے لئے یہ جدید رہائشی ٹاور تفریحی مقامات نہیں قتل گاہیں تصورہوں گے جن میں رہنا کسی کرب اور دکھ کے سوا کچھ نہیں۔
تعمیر نو کے تین سالہ مجوزہ منصوبہ میں اہل غزہ کو اپنا گھر بھی نصیب ہوگا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، کیونکہ اس منصوبہ کی مدت کا تعین موجودہ امریکی صدر کی کرسی صدارت تک ہے، ناقدین کے خیال میں اس بورڈ کو بڑی عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، نیز کچھ کی رائے یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی موجودگی میں اس نوع کے کسی بورڈ کی قطعی ضرورت نہیں تھی، تعمیر نو کے لئے جس سرمایہ کی ضرورت ہے، اس کا حصول قریباً ناممکن ہے، غزہ کی تعمیر کی ذمہ داری اقوام متحدہ کو ادا کرنی چاہئے تھی۔
بورڈ میں جن مسلم ممالک نے شرکت کی ہے۔ انکل سام کے سامنے انکی حیثیت جیب کی گھڑی، ہاتھ کی چھڑی جیسی ہے، امت مسلمہ میں قیادت کافقدان بھی ہے، اس نازک موڑ پرسعودی فرماء رواء شاہ فیصل بہت یاد آتے ہیں، جب انہوں نے ستر کی دہائی میں تیل کی مار مغرب کو دی، اس عہدمیں عام امریکی باشندے دنیا کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے تھے، اس کے مقا بلہ میں یہودی بین الاقوامی نقطہ نظر اور مفادات رکھتے تھے، یہو دامریکہ کوبرابر استعمال کرتے، دنیا میں انکی طاقت امریکہ کی دولت اور اسلحہ کی وجہ سے تھی، سارے عرب ممالک مل کر بھی بے بس تھے۔
ایسے وقت میں تیل کو جب ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا توشاہ فیصل شہید عرب کی پشت پر تھے، عملاً امریکہ کے لئے تیل بند کر دیا گیا، پٹرول کے بے تحاشا مہنگا ہونے سے گھروں کو گرم کرنے کا انتظام معطل ہوا، امریکیوں کو سردی لگنا شروع ہوئی، تب ایک ایک امریکی کو چوٹ لگی اور انہوں نے اس وجہ معلوم کی تو پتہ چلا اس کی وجہ یہودی ہیں، امریکیوں نے سوچا کہ ہم انکی خاطر یہ دکھ کیوں اٹھائیں، یہ پہلا موقع تھا کہ عوام نے اپنی گاڑیوں پے لکھوانا شروع کیا کہ یہودیوں کو ختم کرو، یہ صورت حال دیکھ کر یہودی لیڈروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ امریکہ بھی ہمارا وہ حشر نہ کرے جو جرمنی میں ہوچکا ہے۔
عرب ممالک جن خرافات میں مبتلا تھے، ان میں سے ایک کو یہود و نصاریٰ نے مشترکہ کاوش سے پھیلایا، وہ "عرب قومیت" کازہر تھا، اس لئے بعض عرب حضرات فلسطین کو بے تکلف عرب قومیت کا مسئلہ قرار دیتے، مگر شاہ فیصل نے اپنے اوپر عرب قومیت کی چھینٹ نہ پڑنے دی، وہ کہتے کہ عرب قومیت سے زیادہ اہم اسلام ہے، وہ فرماتے فلسطین کا مسئلہ بھی اسلامی ہے، اپنے دور حکومت میں انہوں نے تمام وسائل اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لئے وقف کر دیئے۔
ان کا طرز زندگی آج کے عرب حکمرانوں کی طرح شاہانہ نہیں تھا، باشادہ مقررہونے کے بعد عالی شان محل کی بجائے وہ سادہ سی کھوٹی میں مقیم ہوئے، انہوں نے یورپی ممالک کے بہت دورے کئے مگر وہاں کی خفیہ ایجنسیاں انہیں اپنے دام میں پھانس نہ سکی، اپنے آپ کو ان خرافات سے بچائے رکھا، جو ان ممالک میں وافر مقدار میں موجود تھیں، وہ پاکیزہ سیرت و کردار کے انسان تھے، امت مسلمہ کے لئے درد دل رکھنے والا یہ مومن دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا، کہا جاتا ہے کہ اسی سال سی آئی اے کی فہرست میں دو افراد کے قتل کا عندیہ دیا گیا تھا جس سال شاہ فیصل شہید کر دیئے گئے۔
غزہ میں یہودیوں کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کی شہادت انکی بے بسی دیکھ کر نجانے شاہ فیصل شہید کیوں یاد آرہے ہیں، گمان غالب ہے، کہ انکی حیاتی میں اہل غزہ اتنے بے بس کبھی بھی دکھائی نہ دیتے، عرب دنیا میں انکی ہم پلہ قد آور شخصیت نظر نہیں آتی، اپنے دور اقتدار میں اپنی ریاست میں ان برائیوں کو انہوں نے پھیلنے نہیں دیا، جو دوسری مملکتوں میں پائی جاتی، عرب فرمانرائوں میں جو شاہانہ انداز پایا جاتا ہے، شاہ فیصل اس سے الگ تھلگ رہے، انہوں نے اپنے سرمایہ کو اسلام کی سربلندی کے لئے صرف کیا، ایک طرف اہل غزہ بے بسی اور لاچارگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں تو دوسری طرف عرب دنیا میں سونے سے شاہراہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، انکل سام کی خوشنودی میں غلطاں اور امن بورڈ میں شامل ہونے والے امت کے راہنمائوں کو عراقی صدر اور لیبیا کے کرنل قذافی کا انجام ضرور سامنے رکھنا چاہیے شاہ فیصل اور ان میں فرق اتنا تھا کہ وہ حق کی آواز بلند کرتے ہوئے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے، جبکہ دیگر کا انجام عبرت ناک ہوا ہے۔

