Friday, 23 January 2026
  1.  Home
  2. Khalid Mahmood Faisal
  3. Darya Mein Dali Gayi Nekiyan

Darya Mein Dali Gayi Nekiyan

دریا میں ڈالی گئی نیکیاں

کام کی غرض سے میکپو آفس جانے کا اتفاق ہوا، درخواست گذارنے کے لئے ایک فارم کی ضرورت پڑی سرکاری فوٹو سٹیٹ مشین سے تیارتین صفحات پر مشتمل فارم صارفین کو سو روپئے میں فروخت کیا جارہا تھا، اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جب متعلقہ آفیسرکے دفتر کی طرف بڑھے توتالا منہ چڑھا رہا تھاقریب دفتر میں انتظار کے لئے براجمان ہوئے، اتنے میں ایک صاحب تشریف لائے، کہنے لگے کہ آپ نے مجھے نہیں پہنچانا مگر میں آپ کانام جانتا ہوں، یہ ملاقات قریباً بیس سال بعد اتفاقیہ ہورہی تھی، وہ ایک نجی کالج میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، ادارہ میرے پی ایچ ڈی کے کلاس فیلواور پیارے دوست محسن ارشد بختاوری کا تھا، ہمارا میٹنگ پوائنٹ بھی یہی مقام رہا، دفتر آنے کا مدعا جب بیان کیا، کمال شفقت کرتے ہوئے کہا اب آپ کا کام ختم اور میرا شروع، تمام دفتری اُمورنمٹانے اور کاروائی کے بعد کہا لیجئے آپ کا کام مکمل ہوا۔

دوران نشست جو گفتگو ہوئی وہ بڑی دلچسپ رہی، ان کا کہنا تھا کہ میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر صارف کے کام کو اس طرح انجام دوں کہ کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، ایسا سرکاری ڈیپارٹمنٹ جو نیک نام بھی نہ ہو، اس میں ایسے ایماندار افسران اور اہلکار ولی اللہ کی مانند دکھائی دیتے ہیں، بطور استاد بھی وہ طلباء کی مشکلات حل کرنے کے لئے متحرک رہتے، میں نے کہا بدنام زمانہ شعبہ میں جہاں افسر اور اہلکار کی نظر ہر صارف کی جیب پر ہوتی ہے وہاں آپ کی درویشی کس کام کی؟ کبھی آپ کو فائدہ بھی ہوا ہے یا آپ نیکیاں کرکے دریا میں پھینک رہے ہیں۔

گویا ہوئے، آپ کو اس درویشی کے فوائد بتاتا ہوں، کہنے لگے جب کرونا کا دور تھا، ہم فیملی والوں نے دیگر لوگوں کی طرح اسکی ویکسین لگوائی، صرف مجھے ہی مگر ری ایکشن کر گئی، اس کا براہ راست اثر میرے دل پر ہوا، دل کے سنگین عارضہ میں مبتلا ہوگیا، اس سے قبل دل کی تکلیف سرے سے مجھے نہیں تھی۔

مختلف ڈاکٹرز سے رجوع کیا، علاج معالجہ جاری رہا مگر زیادہ افاقہ نہ ہوا، کارڈیالوجی ہسپتال میں ایک سینئر پروفیسر سے وقت لے کر معائنہ کے لئے گیا تو انھوں نے کہا کہ بائی پاس کے علاوہ اس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے، مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، گھر والے یہ سن کر پریشان ہوئے، احباب نے مشورہ دیا کہ اس ہسپتال کے فلاں ڈاکٹر سے ہی سے بائی پاس کروانا، ہسپتال کی طرف سے دیئے گئے وقت کے مطابق چیک آپ کے لئے گیا تاکہ بائی پاس کروانے کاوقت اور تاریخ لے لی جائے، جب ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو میں نے گزارش کی محسوس نہ کرنا میری خواہش ہے کہ میں فلاں ڈاکٹر سے بائی پاس کر واؤں، ڈاکٹر نے سوالیہ انداز میں پوچھا وہ کیوں؟ میں نے کہا سنا ہے کہ وہ بہترین سرجن ہیں ان کے ہاتھ میں شفاء بھی ہے، اتفاق سے جن ڈاکٹر صاحب کا نام میں لے رہا تھا، وہی میرا معائنہ کر رہے تھے میں انہیں مگر نہیں جانتا تھا، بائی پاس بل آخر ہوگیا، تین دن کے محترم ڈاکٹر سرجن میرے کمرے میں تشریف لائے، میری طبیعت اور صحت کا دریافت کرنے کے بعد پوچھنے لگے، آپ کس شعبہ میں ملازمت کرتے ہیں، میں نے کہا کہ واپڈا میں جاب کرتا ہوں، ڈاکٹر صاحب بولے اس کی شہرت تو اچھی نہیں، مگر نجانے آپکی کونسی نیکی آپ کے کام آگئی کہ اللہ تعالی ٰ نے تمہیں نئی زندگی دی ہے، آپ کو جان کر خوش گوار حیرت ہوگی، کہ آپریشن کے دوران تم دودفعہ موت کے منہ سے بچ نکلے، نجانے کونسی غیر مرئی قوت تھی جو مجھے تمھاری زندگی بچانے پر آمادہ کرتی رہی، میں نے دوران آپریشن نفل پڑھ کر تمھارے لئے بطور خاص دوا بھی کی تھی، تمھارے کس عمل نے دوبارہ زندگی دی، اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں میرے لئے بھی دعا کرنا، ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سن کر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا، کہا میری یہ کوشش ہوتی ہے، دفتری معاملات میں کسی کے ساتھ مجھ سے کوئی زیادتی نہ ہو، نہ ہی اپنے کام میں کوتاہی ہو۔ مخلوق خدا کی خدمت کی ادنیٰ سی نیکی اگر میرے خالق کو پسند آگئی ہے تو میری خوش بختی ہے۔

خدائی خدمت کا محرک امر واقعہ ہے، میں اپنی بیٹی کے داخلہ کے لئے کسی پرائیویٹ ادارہ میں گیا، اس دوران ایک خاتون مجھ سے مخاطب ہوئی، سر! آپ یہاں کیسے؟ میں نے مدعا بیان کیا، اس نے کہا اس کی فیس میں ادا کرتی ہوں، یہاں کی سٹاف ممبر ہوں، یہ میرا اختیار بھی ہے، مزید کہا کہ میں آپ کی سٹوڈنٹ ہی نہیں بلکہ اصل بات یہ کہ جب آپ کی کمپیوٹر کی دوکان تھی تو میرے مالی حالات اچھے نہیں تھے، میں نے پرنسپل کی وساطت سے کمپیوٹر لینے کی درخواست یہ کہہ کر کی اس کی قیمت بعد میں اداکروں گی، آپنے زیر استعمال کمپیوٹر مجھے دیا میری تعلیم کی فراغت سے پہلے آپ نے ادارہ چھوڑ کر اور ملازمت اختیار کی، یوں رابطہ نہ رہا، آپ کی یہ نیکی ابھی تک مجھے یاد ہے۔ وہ بولے اس کے بعد میں نے مخلوق خدا کوراضی کرنا کا اپنا مشن بنا لیا، جسکا صلہ نئی زندگی کی صورت میں مجھے ملا۔

حلقہ احباب میں سے ایک نے بتایا کہ انھوں نے سرکاری پوسٹ پر جاب کے لئے اپلائی کیا میرٹ میں پہلا نمبر میرا تھا، مگر اتھارٹی نے اس میں تبدیلی کرکے دوسرے نمبر پرآنے والی ایک خاتون امیدوار کو جاب پر رکھ لیا، نجانے افسران کی کونسی مجبوری تھی، اس ناانصافی کے خلاف مجھے رٹ کرنا پڑی فیصلہ میرے حق میں آیا، دفتر حاضر ہوا افسر مجاز نے کہا کہ ہرچند حق آپ کا تھا، مگر کسی وجہ سے آپ کو پوسٹ نہ مل سکتی، درخواست ہے آپ مجھ پر نیکی کرتے ہوئے دستبردار ہو جائیں اور کسی سے شکایت بھی نہ کریں، بطور امیدوار محکمہ کے مجاز افسر کی استدعا مانتے ہوئے میں نے آپنے حق سے دستبردار ہونا مناسب سمجھا مگر ان کے اصرار کے باوجود دستبرداری کو تحریرمیں لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا یہ مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کرتا ہوں، رخصت لے کر اپنے گھر کی راہ لی۔

وہ بتاتے ہیں اس واقعہ کو گزرے چندماہ ہی ہوئے تھے کہ ایک روز مجاز افسر کا فون آیا مجھے معاف کر دیں، مجھ سے غلطی ہوگئی، انھوں نے پوچھا، آپ کوکسی انکوائری کا سامنا ہے، بولے! نہیں چند روزقبل دل کا سنگین دورہ مجھے پڑا ہے، میرے علاوہ گھر میں کمانے والا کوئی اور نہیں، بس دعا کریں، سیانے کہتے کہ دریا میں پھینکی نیکی کبھی نہ کبھی کنارے لگتی اور اپنے اثرات ضرور مرتب کرتی ہے۔

Check Also

Teesri Aalmi Jang Ki Taraf Barhta Trump

By Nusrat Javed