Saturday, 10 January 2026
  1.  Home
  2. Khalid Mahmood Faisal
  3. Article Ka Sundar Jawab

Article Ka Sundar Jawab

آرٹیکل کا سندر جواب

ہفتہ رفتہ میں اُس آرٹیکل کا بڑاچرچا رہا، جو انگریزی اخبار میں شائع ہوا ہے، ہر چند کہ تحریر کنندہ کے والدین نے وضاحت کی ہے کہ یہ آرٹیکل نہ تو کسی ادارہ کے خلاف ہے نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کی حمایت میں لکھا گیا ہے، حسب روایت ایک خاص ماینڈ سیٹ نے اس کو سوشل میڈیا پر وائرل اُس وقت کردیا، جب اخبار کی سائٹ سے ڈیلیٹ کرا دیا گیا، نوجوان لکھاری نے جو قلم آزمائی کی ہے، اس پر مختلف آرا دی جارہی ہیں، لیکن ایک خاص زوایہ سے آرٹیکل کی ٹرلولنگ کرنا اُس منفی ذہنیت کو عیاں کرتا ہے، جن کا مقصد ہر وقت سوشل میڈیا پر افراتفری پیدا کرنا ہے، عام فرد کو تو شائد زیادہ متاثر نہ ہو، مگر در پردہ جسکی حمایت کی جارہی ہے وہ سازش لگتی ہے، سب سے زیادہ سیاسی نقصان اُسی شخصیت کو ہورہا ہے، نجانے وہ کس مصلحت کے تحت آنکھیں بند کئے ہوئے ہے، اس طرح کی منفی سرگرمی سے اظہار لاتعلقی کرنے کو وہ یا اُنکی پارٹی ضروری نہیں سمجھتے۔ کالم نگار کو جنریشن زی کا فرد مانا جارہا ہے، ایسی نسل صرف سوشل میڈیا کی "مجاہد" مانی جاتی ہے۔

سیاسی تاریخ میں اگر کوئی قابل قدر مثالی، صاحب کردار، بااصول، دور اندیش ہستی ہمیں ملتی ہے تو وہ بانی پاکستان تھے، جن کی مخالفت میں عالمی اسٹیبلشمنٹ، ہندو اور سکھ اور کچھ علماءکرام بھی پیش پیش تھے مگر انکی متحدہ قوت قائد اعظمؒ کے سامنے بے بس ہوگئی، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے، اسکی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے مخالفین کی الزام تراشیوں کوکبھی در خود اعتنا نہ سمجھا، نہ ہی ان کا جواب دینے میں اپنا سنہری وقت ضائع کیا بلکہ اپنے مقصد حیات کو سامنے رکھا۔

تحریک پاکستان کی کامیابی میں بڑا ہاتھ مسلم نوجوانان تھا، رائے عامہ ہموار کرنے میں انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا، مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن نے سیاسی انداز میں تحریک چلائی، بانی پاکستان نے کبھی کوئی غیر اخلاقی حکم دیا نہ ہی انھیں دیا نہ کسی کی پگڑی اچھالنے کی اجازت دی، انھیں بھی دلیل اور شائستگی کے ساتھ مخالفین کو جواب دینے کی تلقین کی، اس فیڈریشن سے بہت نوجوانان نے قیام پاکستان کے بعد قومی سیاست، صحافت میں مثبت کردار ادا کیا۔ ہر سیاسی قائد کے لئے اس کردار میں ایک مثبت پیغام ہے کہ ذاتی مفاد کے لئے کسی بھی طبقہ کو ریاست کے خلاف استعما ل کرتے ہوئے وہ سیاسی فائدہ حاصل نہ کرے۔

جہاں تک اظہار رائے کا تعلق ہے تو اسکی آزادی تو ہمیں آئین پاکستان بھی دیتا ہے، اس کو بنیادی حقوق میں شامل کیا گیا، لیکن اسکی آڑ میں کسی کی ذاتی زندگی یا ادارہ پر اس نقطہ نظر سے حملہ کیا جائے کہ اسکی سبکی ہو اس طرح کی اجازت کوئی بھی ریاست نہیں دیتی، جہاں تک تنقید کا تعلق یا اختلاف رائے ہے، اگر یہ احسن انداز میں ہو کہ معاملہ شائد اتر جائے دل میں مری بات بن جائے، تو پھر کسی کو کیوں برا لگے گا، کوئی دو رائے نہیں کہ نسل نو پر مشتمل آبادی کا غالب حصہ بہت سے مسائل کا شکار ہے، سب سے اہم تو بے روزگاری کا اہم مسئلہ ہے، نئے ادارے قائم کرنے کی بجائے بڑے صوبہ میں تعلیم، صحت کے ادارے آؤٹ سورس کئے جارہے ہیں، نئی آسامیاں بھی پیدا نہیں کی جارہی ہیں، ڈاکٹرز کے کنٹریکٹ ختم کیے جارہے ہیں، بھاری بھر فیسوں کی ادائیگی کے بعد ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے نسل نو نوکری کی تلاش میں در در کی خاک چھان رہی ہے، المیہ یہ ہے کہ پنجاب میں مستقل بنیاد پر ملازمتوں کی فراہمی کا سلسلہ بند کیا جارہا ہے، ملازمت کا اس طرح حصول مایوسی پیدا کر رہا ہے، غیر یقینی مستقبل کے خوف میں مبتلا نوجوانان دیار غیر جارہے ہیں، قومی جامعات میں داخلوں کا بحران پیدا ہوا ہے، یونیسکو کہتا ہے کہ قریباً پانچ فیصد بجٹ تعلیم پر خرچ کرنا چاہئے، ہماری ریاست صرف1.87فیصد خرچ کر رہی ہے، جنوبی پنجاب میں اوسطاً65فیصد شرح ناخواندگی ہے، کروڑوں بچے سکول سے باہر ہیں، انسانی وسائل کی بہبود میں ہمارا شمار150ویں نمبر پر ہے، صحت کی سہولتوں کے اعتبار سے بھی نظام قابل رشک نہیں ہے۔

پنجاب میں پنشن مراعات واپس لینے کی بنا پرسرکاری ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے، کسان بھی بدحال ہے، سب سے زیادہ معدنی دولت رکھنے والا صوبے اورسندھ کے بعض اضلاع میں بھی غربت70فیصد ہے، جبکہ جنوبی پنجاب میں 49فیصد ہے یہی معاملہ خیبر پختون خوا کا ہے، رواں سال میں بھی سو میں سے45افراد غربت کی لکیر کے نیچے ہوں گے، سوچئے ان حالات میں نسل نو کس طرح اپنے روشن مستقبل کی اُمید رکھ سکتی ہے۔

کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ چار دہائیوں سے اقتدار پر براجمان سیاسی خاندانوں نے قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی کوئی سنجیدہ کاوش نہیں کی ہے، طرز سیاست کو عوامی نہیں بنایا ہے، غیر ترقیاتی اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی ہے، پروٹوکول کلچر سے بھی اجتناب نہیں کیا، وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کئے، سیاسی کلچر میں عام آدمی کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے متناسب نمائندگی کا طریقہ انتخاب نہیں اپنایا لہٰذا ارباب اختیار کو نوجوانان قوم سے شکوہ کرنے کی بجائے اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہئے۔

شہر لاہور کی جامعہ میں ایک طالب علم اور طالبہ کا اقدام خود کشی مقتدر حلقوں کو دعوت نہیں دیتا کہ اُس راوی کی بھی خبر لیں جو ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے، عوام الناس کو غربت سے نکالنے کے لئے کون سے اقدامات کئے جارہے ہیں؟ ، اس خطہ میں چین کا ماڈل آزمودہ ہے جس سے دوستی سمندر سے گہری، شہد سے میٹھی، ہمالیہ سے اونچی ہے اس سے استفادہ کرنے کی راہ میں کیا چیز حائل ہے؟

نسل نو دیکھتی ہے کہ والدین کو عمر بھر کی ملازمت کے بعد چند ہزار پنشن ملتی ہے، جب کہ ایلیٹ کلاس کے ملازمین جج اور جنرل کو کروڑوں روپے بمع بھاری بھر مراعات بھی مل رہی ہیں، تو وہ محسوس کرتے ہیں، اس امتیازی کلچر اور سماجی ناانصافی میں ریاست کی خدمت کرنے کی بجائے دوسری ریاست کا شہری بننا زیادہ بہتر ہے جہاں کم ازکم انسان کی بالحاظ پیشہ عزت تو ہے۔

ریاست کی ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان بڑی شخصیت کو زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے، نسل نو کے مسائل کے حل کے لئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے، سب سے مقدم فراہمی روزگار اور انکی عزت نفس ہے نیز کو انکے خوابوں کی عملی تعبیر دینا ہوگی جو انھوں نے اس ریاست کے باسی ہونے کے ناتے دیکھے ہیں، اشرافیہ کے بچوں کی طرح ریاست کے وسائل پر وہ بھی یکساں حق رکھتے ہیں، ایسے آرٹیکل کا مثبت جواب دینے کا یہی سندر طریقہ ہے۔

Check Also

Khamosh Hath

By Javed Ayaz Khan