Cricket, Siasat Aur Khudari Ka Imtihan
کرکٹ، سیاست اور خودداری کا امتحان

کرکٹ برصغیر میں کبھی محض کھیل نہیں رہی۔ یہ جذبات ہے، شناخت ہے، انا ہے اور اکثر اوقات سیاست کا ایسا میدان بھی جہاں بیٹ اور بال سے زیادہ بیانات اور مفادات ٹکراتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ تو ویسے ہی کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اسٹیج سمجھا جاتا ہے، مگر جب یہی میچ اصول، خودداری اور ادارہ جاتی وقار کے سوال سے جُڑ جائے تو معاملہ صرف ایک کھیل کا نہیں رہتا، ایک بیانیے کا بن جاتا ہے۔ حالیہ صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے جہاں ایک میچ کے بائیکاٹ نے ایشیائی کرکٹ کی سیاست، آئی سی سی کے کردار، بی سی سی آئی کی اجارہ داری اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی ماضی و حال کی پالیسیوں کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے بھارتی میڈیا میں جو شور برپا ہے، وہ محض کھیل کا ردِعمل نہیں لگتا بلکہ ایک مالی، سیاسی اور نفسیاتی دباؤ کی مہم محسوس ہوتا ہے۔ ٹی وی اسٹوڈیوز میں بیٹھے سابق کرکٹر، اینکرز، بورڈ کے نمائندے اور تجزیہ کار ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ اگر پاکستان نے میچ نہیں کھیلا تو اربوں روپے کا نقصان ہو جائے گا، براڈکاسٹرز ناراض ہو جائیں گے، اسپانسرز پیچھے ہٹ جائیں گے، ایونٹ کی ویلیو گر جائے گی۔ گویا ساری کرکٹ کی معیشت ایک میچ پر کھڑی ہے اور اس میچ کی چابی پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جسے اکثر بھارتی بیانیے میں غیر محفوظ، غیر ذمہ دار اور ناقابلِ اعتبار ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر جب مالی مفاد کا سوال آئے تو وہی پاکستان اچانک اتنا اہم ہو جاتا ہے کہ اس کے بغیر "ایونٹ ادھورا" قرار پاتا ہے۔
یہ تضاد ہی دراصل اصل کہانی ہے۔ ایک طرف برسوں سے دوطرفہ سیریز سے انکار، ایم او یو پر دستخط کے باوجود پیچھے ہٹ جانا، سکیورٹی کو بہانہ بنا کر کھیل کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دینا اور دوسری طرف جب کسی عالمی ایونٹ میں پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر ایک میچ کا بائیکاٹ کرے تو شور مچ جانا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھو۔ سوال یہ ہے کہ کھیل کو سیاست سے کس نے دور رکھا؟ اگر سیاست کو کرکٹ میں گھسیٹنے کا آغاز ہوا تو اس کی بنیاد کہاں سے پڑی؟ تاریخ کا ریکارڈ گواہ ہے کہ باقاعدہ حکومتی اجازت، کلیئرنس اور سیاسی فیصلوں کے بغیر بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ کرکٹ تعلقات کو محض بورڈ کی سطح پر نہیں چلنے دیا۔ ہر فیصلہ دہلی کی فائلوں سے ہو کر گزرا۔ ایسے میں پاکستان پر یہ الزام کہ وہ کرکٹ کو سیاسی بنا رہا ہے، کم از کم غیر منصفانہ ضرور ہے۔
آئی سی سی کا کردار اس سارے منظرنامے میں خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ اصولی طور پر آئی سی سی ایک عالمی ادارہ ہے جس کا کام رکن ممالک کے درمیان مساوات، ضابطوں کی پاسداری اور کھیل کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ مگر عملی طور پر طاقت کا توازن سب کے سامنے ہے۔ ریونیو کا بڑا حصہ بھارتی مارکیٹ سے آتا ہے، براڈکاسٹنگ ڈیلز کی مالیت کا بڑا انحصار پاک بھارت میچز پر ہوتا ہے اور یہی معاشی حقیقت اکثر فیصلوں پر سایہ ڈال دیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ضابطے وہی رہتے ہیں، مگر ان کی تشریح مختلف ہو جاتی ہے۔ ایک ملک کسی سکیورٹی یا سیاسی وجہ سے پیچھے ہٹے تو "خودمختار فیصلہ"، دوسرا وہی کرے تو "اسپورٹس مین شپ کے خلاف قدم"۔
یہ دوہرا معیار نیا نہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان کو اکثر ایسے حالات کا سامنا رہا ہے جہاں اسے یا تو خاموش رہ کر نقصان برداشت کرنا پڑا یا آواز اٹھانے پر "مشکل شراکت دار" قرار دیا گیا۔ کئی عالمی ایونٹس کی میزبانی سکیورٹی خدشات کے نام پر واپس لے لی گئی، مگر اسی عرصے میں دیگر ممالک میں ہونے والے واقعات کو اتنی شدت سے نہیں اچھالا گیا۔ پاکستان کی کرکٹ نے ایک طویل جلاوطنی دیکھی، ہوم گراؤنڈ سے محرومی جھیلی، مالی اور نفسیاتی نقصان اٹھایا، مگر عالمی سطح پر اس دکھ کا مکمل اعتراف کم ہی ہوا۔
اس پس منظر میں اگر پاکستان کسی معاملے پر اصولی مؤقف اپناتا ہے تو اسے محض ضد یا ہٹ دھرمی قرار دینا درست نہیں۔ ہر ریاست اور ہر بورڈ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پالیسی، علاقائی تعلقات اور سفارتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔ خاص طور پر جب معاملہ کسی تیسرے ملک یا خطے کے حوالے سے یکجہتی، اصول یا انسانی و سیاسی مؤقف سے جڑا ہو تو وہ فیصلہ صرف اسکور بورڈ کا نہیں رہتا، قومی پالیسی کا حصہ بن جاتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی ماضی کی غلطیوں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کئی ادوار ایسے گزرے جب بورڈ کمزور قیادت، اندرونی سیاست، عارضی فیصلوں اور حکومتی مداخلت کے باعث اپنی ساکھ کھوتا رہا۔ کبھی چیئرمین کی تبدیلی، کبھی سلیکشن کے تنازعات، کبھی ڈومیسٹک اسٹرکچر کی اکھاڑ پچھاڑ، ان سب نے عالمی سطح پر یہ تاثر دیا کہ پی سی بی ایک غیر مستحکم ادارہ ہے جس پر دباؤ ڈالنا نسبتاً آسان ہے۔ بعض مواقع پر بورڈ نے وقتی فائدے یا تعلقات کی خاطر ایسے فیصلے بھی کیے جو طویل المدت مفاد میں نہیں تھے۔ یہی کمزوریاں بعد میں بڑے فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرتی رہیں۔
لیکن حالیہ برسوں میں ایک تدریجی تبدیلی بھی نظر آ رہی ہے۔ سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری، غیر ملکی ٹیموں کی واپسی، بڑے ایونٹس کی میزبانی اور انتظامی سطح پر کچھ مضبوط فیصلوں نے پی سی بی کو دوبارہ ایک سنجیدہ اسٹیک ہولڈر کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ قیادت کا انداز ماضی سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ جب کوئی بورڈ یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر صرف مالی مفاد کے تحت نہیں جھکے گا بلکہ کچھ معاملات میں اصولی لائن بھی کھینچے گا، تو اس کا اثر محض ایک سیریز یا میچ تک محدود نہیں رہتا، ادارہ جاتی وقار سے جُڑ جاتا ہے۔
محسن نقوی کی حالیہ فیصلہ سازی اسی زاویے سے دیکھی جا رہی ہے۔ ناقدین یہ کہہ سکتے ہیں کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب دوسرا فریق خود برسوں سے کھیل کو سیاسی فیصلوں کا تابع رکھے تو یکطرفہ اخلاقیات کی توقع حقیقت پسندی نہیں۔ اگر پاکستان ہر بار صرف اس خوف سے پیچھے ہٹتا رہے کہ کہیں پابندی نہ لگ جائے، کہیں مالی نقصان نہ ہو جائے، تو پھر وہ ہمیشہ دباؤ کی سیاست کا شکار رہے گا۔ کسی بھی مرحلے پر یہ پیغام دینا ضروری ہوتا ہے کہ کچھ معاملات میں اصول بھی اہم ہوتے ہیں اور ہر دھمکی مؤثر نہیں ہوتی۔
بھارتی میڈیا میں جو "مالی نقصان" کا بیانیہ چل رہا ہے، وہ دراصل ایک اعتراف بھی ہے۔ یہ اعتراف کہ پاک بھارت میچ محض جذباتی نہیں، معاشی طور پر بھی انتہائی اہم ہیں۔ ٹی آر پیز، اشتہارات، اسپانسرشپ، ڈیجیٹل ویوز، سب اس مقابلے سے جڑے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان ایک میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے اثرات کا چرچا ہونا فطری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی منطق بھارت پر بھی لاگو نہیں ہونی چاہیے تھی جب اس نے برسوں دوطرفہ سیریز سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی؟ کیا تب پاکستان کے مالی نقصان، اس کی کرکٹ کی تنہائی اور اس کے کھلاڑیوں کے مواقع کے ضیاع پر اتنا شور مچا تھا؟
کرکٹ میں پابندی کی دھمکی دینا بھی ایک دلچسپ پہلو ہے۔ اگر واقعی کسی بورڈ کو اتنی ہی جرات ہے تو وہ باضابطہ ضابطوں کے تحت معاملہ اٹھائے، شفاف کارروائی کرے اور سب کے لیے یکساں اصول اپنائے۔ مگر عموماً یہ دھمکیاں میڈیا ٹاک شوز اور بیانات کی حد تک رہتی ہیں، کیونکہ حقیقت میں کسی بڑے رکن کو الگ کرنا یا سخت کارروائی کرنا آئی سی سی کے لیے بھی آسان نہیں۔ طاقت کے توازن، ووٹنگ بلاکس اور باہمی مفادات کا جال اتنا سادہ نہیں کہ ایک جذباتی بیان پر سب کچھ طے ہو جائے۔
اس ساری صورتحال کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ برصغیر کی کرکٹ میں برتری صرف میدان میں نہیں، بیانیے میں بھی تلاش کی جاتی ہے۔ کون جھکا، کون ڈٹا، کس نے اصول کی بات کی، کس نے مفاد کو ترجیح دی، یہ سب عوامی رائے میں جگہ بناتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے کہ وہ خود کو ایک ایسے بورڈ کے طور پر پیش کرے جو نہ تو غیر ضروری تصادم چاہتا ہے اور نہ ہی ہر دباؤ کے آگے سر جھکاتا ہے۔ توازن یہی ہے کہ جہاں کھیل ممکن ہو، وہاں دروازے کھلے رہیں اور جہاں اصولی مؤقف درکار ہو، وہاں واضح لائن موجود ہو۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کھلاڑی اکثر ان فیصلوں کا سب سے بڑا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ وہ میدان میں کھیلنے، رنز بنانے، وکٹیں لینے اور کیریئر سنوارنے آئے ہوتے ہیں، مگر بورڈز اور ریاستوں کے فیصلوں کا اثر ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر پڑتا ہے۔ اس لیے ہر ایسے فیصلے میں یہ ذمہ داری بھی شامل ہے کہ کھلاڑیوں کے مفادات، ان کی ذہنی کیفیت اور ان کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ مضبوط مؤقف اور ذمہ دار حکمتِ عملی میں یہی فرق ہے کہ جذباتی نعروں کے بجائے منظم سفارت کاری اور متبادل راستے بھی ساتھ چلیں۔
آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے کہ کرکٹ صرف کھیل نہیں، مگر کھیل کو مکمل طور پر سیاست کا غلام بھی نہیں ہونا چاہیے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اصولوں کی بات صرف ایک فریق سے کی جائے اور دوسرے کو کھلی چھوٹ مل جائے۔ اگر عالمی کرکٹ کو واقعی متوازن بنانا ہے تو آئی سی سی کو بھی اپنی ساکھ مضبوط کرنی ہوگی، ضابطوں کو یکساں نافذ کرنا ہوگا اور یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ کچھ بورڈز "زیادہ برابر" ہیں۔ پاکستان کا حالیہ مؤقف چاہے سب کو پسند آئے یا نہ آئے، اس نے کم از کم یہ بحث ضرور زندہ کر دی ہے کہ عالمی کرکٹ کی حکمرانی کن بنیادوں پر ہونی چاہیے۔
اداروں کی عزت بھی وقت کے ساتھ بنتی ہے۔ کبھی غلط فیصلوں سے کمزور ہوتی ہے، کبھی کسی ایک مضبوط قدم سے بحال ہونے لگتی ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ واقعی ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تو اسے اسی تسلسل، شفافیت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو برقرار رکھنا ہوگا۔ دنیا میں وہی سنا جاتا ہے جو خود بھی اپنی بات پر کھڑا رہنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کرکٹ کے میدان میں بھی اور سفارتی میدان میں بھی۔

