Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zaida Sadia
  4. Khud Shanasi

Khud Shanasi

خود شناسی

آئیں خود شناسی کریں کیونکہ خود شناسی ہی اصل آزادی ہے، جو دنیا تمہارے آس پاس ہے، وہ روز تمہارے اندر کچھ ڈالتی ہے۔ جو تم دیکھتے ہو، سنتے ہو، پڑھتے ہو۔ وہی تمہاری اندرونی فضا بن جاتا ہے۔ اگر تمہارا دن تشدد سے بھرے ڈراموں، منفی خبروں اور زہریلے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے پیغامات میں گزرتا ہے، تو تمہارے اندر کی "خوشی" آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی اور تم اپنے اصل سے دور ہو جاتے ہو جو آنکھ دیکھتی ہے، دل وہی بن جاتا ہے۔ لہٰذا اپنے ماحول کی صفائی کرو۔ جیسے بدن کو غسل دیتے ہو، ویسے ہی دل اور دماغ کو بھی دھوؤ۔ پھر وہ لوگ جن کے ساتھ تم وقت گزارتے ہو، وہ بھی تمہیں زاویہ دیتے ہیں۔ تمہارے دوست، استاد، ساتھی، تعلقات۔ یہ سب تمہاری اندرونی تصویر کو بدلتے ہیں۔ اگر تم اُن لوگوں میں رہتے ہو جو ہر وقت شکوہ کرتے ہیں، تو تم بھی شکایت کرنے لگو گے۔ اگر تم اُن لوگوں میں رہتے ہو جو خواب دیکھتے ہیں، تو تم بھی خواب دیکھنے لگو گے۔ سیانے کہتے ہیں "جس محفل میں بیٹھو، وہ تمہارے رنگ بدل دیتی ہے"۔

اگر آپ عقابوں کے ساتھ اڑنا چاہتے ہیں، تو مرغیوں کے ساتھ دانا چگنا چھوڑنا ہوگا۔ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھیں جن کی گفتگو سے علم کی خوشبو آئے اور جن کا ساتھ آپ کو خدا کے قریب کرے۔ اکیلے رہنا اس محفل سے ہزار گنا بہتر ہے جو آپ کو اپنے ہی مخلص وجود پر شک کرنے پر مجبور کر دے۔۔ لہٰذا دیکھو، کیا تم ایسی صحبت میں ہو جو تمہیں بلند کرتی ہےیا وہ جو تمہیں نیچے کھینچتی ہے؟

خود کو سمجھو خود کو چنو جب خود کو چن لیا تو باقی سب چھوٹ جائے گا یہی اصل آزادی ہے۔ ہمارے زوال کے اسباب میں سے ایک بڑا اور اہم سبب بھی خود احتسابی و خود شناسی سے دوری ہے۔ ہم لاکھ کوشش کریں گناہوں سے دور رہنے کی لیکن جب تک ہم اپنے اندر کے شیطان کو نہیں پہچانتے اور اس کا صد باب نہیں کرتے تب تک ہم اس دلدل سے نہیں نکل سکتے، کیوں کہ گناہوں کی اصل جڑ اور بنیاد ہمارے اپنے اندر کا شیطان ہے۔

بس بات اتنی سی ہے وہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا نہ کہ۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو میرا نہیں بنتا تو نہ بن اپنا تو بن

خودشناسی، خداشناسی کامقدمہ ہے۔ جیسا کہ حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں "حیرت ہے اس شخص پر، جو خود کو نہیں پہچانتا، بھلا وہ اپنے پروردگار کو کیسے پہچانے گا۔ اس اعتبار سے کہ انسان کی فطرت خدا کی معرفت سے وابستہ ہے، خود شناسی کی دعوت بھی درحقیقت خدا شناسی اور خدا سے مربوط ہے۔ چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اس سلسلے میں فرماتے ہیں "خدایا تونے ہی ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے اور عقلوں کو اپنی معرفت سے آراستہ کیا ہے"۔

درحقیقت خود شناسی، خدا کی شناخت اور محبت کا باعث ہے کیوں کہ انسان کا وجود خدا کے وجود سے وابستہ ہے اور ایسی مخلوق اپنی ہی خلقت کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس بناء پر جب انسان میں خود شناسی پیدا ہوجاتی ہے تو اس وقت اسے خدا سے اپنی وابستگي کااحساس ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں سورۂ فاطر کی آیت 15 ميں ارشاد ہوتا ہے "اے لوگوں تم خدا کے محتاج ہو اور خدا بے نیاز اور منزہ ہے"۔

سوشل میڈیا اور تیز رفتار زندگی کے اس دور میں جب ہم اکثر اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں، خود شناسی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ خود شناسی سے ہمیں ملتی ہے:

ذہنی سکون: جب ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں تو ہم اپنی پریشانیوں اور خوفوں سے نمٹنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

بہتر فیصلے: خود شناسی ہمیں زندگی کے اہم فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔

مضبوط تعلقات: جب ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں تو ہم دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

ہمیں اپنی ذات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خود شناسی ہمیں ایک بہتر انسان بننے میں مدد دیتی ہے اور ہمیں زندگی کے مختلف پہلوؤں میں کامیاب بناتی ہے۔

رحم اللہ امرء علم من این؟ وفی این؟ والی این؟

"خدا اس پر رحمت کرے جو یہ جان لے کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ وہ کہاں ہے؟ اور کہاں جا رہا ہے؟"

اس طرح کی "خود شناسی" انسان میں ایک لطیف ترین اور باعظمت ترین درد پیدا کرتی ہے، جو اس کائنات کی دوسری ذی روح چیزوں میں نہیں پایا جاتا اور وہ درد ہے "حقیقت رکھنے" کا درد اور یہی وہ خود شناسی ہے جو ان کو حقیقت کا پیاسا اور یقین کا متلاشی بناتی ہے، شک و تردد کی آگ اس کی روح میں روشن کرتی اور اس کو ادھر سے ادھر کھینچتی ہے۔

Check Also

Pesha Warana Raqabatein

By Ali Raza Ahmed